← Asbaq-e-TareekhAsbaq-e-Tareekh
Allah ko bahot Yaad karo
Urdu · 4 min
اللہ کو بہت یاد کرو۔ حافظ حامد حسن علوی، 1872 تا 1959، اعظم گڑھ کے ایک صاحب۔ اعظم گڑھ کے ایک صاحبِ طریقت، بزرگ تھے۔ ان کے خلیفہ مولانا سعید احمد صاحب مرحوم نے ایک بار حافظ صاحب قبلے سے پوچھا کہ قرآن میں آتا ہے کہ اللہ کا ذکر کثیر کرو۔
احزاب 41۔ اس کا مطلب کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں نے بہت سے لوگوں سے پوچھا کہ ذکرِ کثیر، یعنی بہت یاد، کا اطلاق کتنے عدد پر ہوتا ہے، تو لوگوں نے مختلف اعداد بتائے۔ کسی نے کہا 25,000 بار اللہ کا نام لینا ذکرِ کثیر ہے، کسی نے کہا 50,000 بار ذکر کرنا ذکرِ کثیر ہے، مگر 25,000 یا 50,000 تو گنتی کی حد نہیں ہے۔
مگر 25,000 یا 50,000 تو گنتی کی حد نہیں ہیں، ان سے آگے بھی گنتیاں ہیں۔ اس قسم کے کسی محدود عددی نصاب کو ذکرِ کثیر کیسے کہا جا سکتا ہے؟ خدا لامحدود ہے، اس لیے اس کا ذکرِ کثیر بھی ایسی گنتی پر ختم ہونا چاہیے جو گنتی کی آخری حد ہو۔ حافظ حامد حسن علوی نے جواب دیا: ذکر کے معنی ہیں عدمِ نسیان، نہ بھولنے کی حالت۔
مثلاً ایک شخص کو حکومت کا افسر یہ حکم سنا دے کہ اتوار کے دن تم کو پھانسی پر لٹکایا جائے گا، تو اس خبر کو سننے کے بعد اگرچہ وہ آدمی روزمرہ کے معمولات میں مشغول نظر آئے گا، وہ کھائے پیئے گا، بیوی بچوں کے ساتھ رہے گا، مگر اس کا ذہن ہر لمحہ پھانسی کے ذکر یعنی یاد میں مشغول رہے گا۔ وہ کسی حال میں بھی اس سے غافل نہ ہو پائے گا۔ بس اس مثال سے ذکر کی حقیقت سمجھ سکتے ہو۔ ذکرِ حقیقتاً ایک مستقبل یاد کا نام ہے۔
ذکرِ حقیقتاً ایک مستقل یاد کا نام ہے، نہ کہ کوئی عددی نصاب پورا کرنے کا۔ جب آدمی اللہ کو پا لیتا ہے تو وہ اس کی روح میں سما جاتا ہے، وہ اس کے خون میں تیرنے لگتا ہے۔ ہر موقع پر اس کو خدا کا خیال آتا رہتا ہے۔ زندگی کا ہر واقعہ اس کو خدا کی یاد دلانے والا بن جاتا ہے۔
اسی کا نام ذکر ہے۔ یہ یاد کبھی سینے کی کسک بن کر اس کو تڑپا دیتی ہے، کبھی اس کے دل کو پگھلا کر آنسوؤں کی صورت میں بہہ پڑتی ہے، کبھی خوف یا محبت کے کلمے کی صورت میں اس کی زبان پر آ جاتی ہے، کبھی شکر یا دعا بن کر اس کی زبان سے ٹپک پڑتی ہے۔ ذکر کسی قسم کے رٹے ہوئے الفاظ کو دہرانا نہیں ہے۔ ذکر دل کی ایک حالت کا نام ہے۔
دل کے اندر اٹھنے والی یہ موجیں کبھی الفاظ کی صورت میں بھی ظاہر ہو جاتی ہیں۔ یہ الفاظ ذکر و دعا کے معروف الفاظ بھی ہو سکتے ہیں اور غیر معروف الفاظ بھی۔ وہ عربی میں بھی ہو سکتے ہیں اور آدمی کی اپنی مادری زبان میں بھی۔ مگر ذکر یقینی طور پر کسی قسم کے تکراری الفاظ کا نام نہیں ہے، بلکہ اس قلبی حالت کا نام ہے جس کے نتیجے میں خدا کو یاد کرنے والے الفاظ زبان سے نکل پڑتے ہیں۔
الفاظ کی تکرار کو ذکر کہنا ایسا ہی ہے جیسے ریکارڈ کی آواز کو ایک زندہ انسان کا کلام کہا جائے۔ کتاب اسباقِ تاریخ مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 334۔