Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Akhlaaq ki Taqat

Urdu · 5 min

اخلاق کی طاقت 1933 عیسوی کا واقعہ ہے، فتح گڑھ، اتر پردیش کے علاقے میں، سُکھوا نامی ڈاکو نے سنسنی پھیلا رکھی تھی۔ اس کی لوٹ مار بے پناہ ہوتی جا رہی تھی، پولیس کے افراد تک کے لیے ممکن نہیں رہا تھا کہ اس کی گولیوں کا نشانہ بننے سے بچ سکیں۔ مگر عین اس زمانے میں بھی ایک اعلیٰ انتظامی افسر اس کی فہرستِ انتقام سے مستثنیٰ تھا۔ یہ سید صدیق حسن، آئی سی ایس، وفات 1963 عیسوی تھے۔

صدیق حسن صاحب اس زمانے میں فتح گڑھ میں جوائنٹ میجسٹریٹ تھے۔ سُکھوا ڈاکو کے خلاف پولیس کی مہم انہی کی ماتحتی میں چلائی گئی۔ مہینوں کی جدوجہد کے بعد سُکھوا ڈاکو گرفتار ہوا، اور صدیق حسن صاحب نے اس کے مقدمے کی سماعت کر کے اس کو سزا کا حکم سنایا۔ مگر عین اس زمانے میں جبکہ صدیق حسن صاحب سُکھوا ڈاکو کے خلاف مہم کی قیادت کر رہے تھے، سُکھوا ڈاکو نے ان کے خلاف کوئی اقدام نہیں کیا۔

گرفتاری کے بعد اس نے بتایا کہ وہ اکثر رات کو صدیق حسن صاحب کے بنگلے پر آتا تھا، مگر ان کی شرافت کا خیال کر کے کبھی ان پر گولی نہیں چلائی۔ سید صدیق حسن صاحب کی وہ کیا بات تھی جس کی وجہ سے ایک ڈاکو کو بھی— سید صدیق حسن صاحب کی وہ کیا بات تھی جس کی وجہ سے ایک ڈاکو بھی ان کی تعریف اور عزت کرتا تھا؟ اس کا اندازہ ایک واقعے سے ہوتا ہے جو خود سُکھوا ڈاکو نے بتایا۔ اس نے کہا کہ ایک بار پولیس والے اس کو گرفتار کر کے سید صدیق حسن صاحب کے بنگلے پر لائے۔

یہ سردی کا زمانہ تھا۔ سُکھوا نے صدیق حسن صاحب سے کہا: "جنٹ صاحب، آپ کا سُکھوا سردی کھا رہا ہے۔ " یہ سن کر صدیق حسن صاحب فوراً اندر گئے، اپنی نئی ریشمی قمیص اور کمبل لائے، اور اس کو ڈاکو کے حوالے کرتے ہوئے کہا: "لو، اس کو استعمال کرو، یہ تمہارے لیے ہے۔ " 17 مئی 1968 عیسوی۔

کوئی شخص خواہ کتنا ہی نہتا ہو، اس کے پاس ایک ایسا ہتھیار موجود رہتا ہے جس سے وہ اپنے حریف کو جیت سکے۔ یہ اخلاق کا ہتھیار ہے۔ ایک حکیم صاحب تھے، وہ شہر میں مطب کرتے تھے اور ہفتے میں ایک دن اپنے گاؤں آیا کرتے تھے۔ ان سے ان کے گاؤں کے بعض لوگوں کو دشمنی ہو گئی۔

انہوں نے ایک آدمی کو چند سو روپیے دیے اور کہا کہ رات کو جب حکیم صاحب واپس آ رہے ہوں تو ان کو پکڑ کر مار ڈالو۔ غریب آدمی روپیے کے لالچ میں تیار ہو گیا اور گاؤں کے باہر پل کے پاس چھپ کر بیٹھ گیا۔ حکیم صاحب پل کے پاس پہنچے تو وہ جھپٹ کر سامنے آ گیا۔ حکیم صاحب اس کو دیکھتے ہی پہچان گئے۔

جب اس کو معلوم ہوا کہ وہ ان کو مار ڈالنا چاہتا ہے تو انہوں نے کہا کہ ذرا ٹھہرو۔ اس کے بعد انہوں نے کہا: "کیا تم کو وہ دن یاد نہیں جب تم اپنے چھوٹے بچے کو ٹوکرے میں رکھ کر میرے پاس لائے تھے؟ بیماری نے اس کا برا حال کر دیا تھا، اور تمہارے پاس علاج کے لیے پیسے نہیں تھے۔ میں نے تمہارے لڑکے کا مفت علاج کیا، اور وہ اچھا ہو گیا۔

کیا میرے اس احسان کا بدلہ وہی ہے جو تم اب میرے ساتھ کرنا چاہتے ہو؟ " یہ سنتے ہی آدمی نے اپنی لاٹھی پھینک دی اور حکیم صاحب کے پاؤں پر گر پڑا۔ اس نے کہا: "آپ نے سچ کہا، میں روپیے کے لالچ میں آپ کو مارنے کے لیے تیار ہو گیا تھا۔ مگر اب میں کبھی ایسا نہیں کروں گا۔

آپ مجھے معاف کر دیں۔ " ایک جانور کو کسی قسم کی اخلاقی دلیل حملہ کرنے سے روک نہیں سکتی، مگر انسان کو جیتنے کے لیے ایک اخلاقی دلیل بھی کافی ہے، بشرطیکہ وہ حقیقی معنوں میں ایک اخلاقی دلیل ہو، نہ کہ محض الفاظ کا ایک مجموعہ۔ کتاب: "اسباقِ تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 332۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.