← Asbaq-e-TareekhAsbaq-e-Tareekh
Urooj-o-Zawaal
Urdu · 5 min
عروج و زوال: عروج و زوال کے تاریخی خانون کو خُران میں مختصر طور پر اس طرح بیان کیا گیا ہے: اللہ کسی گروہ کی ما بِخَوْمٍ یعنی حالتِ قومی کو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ اپنے ما بِأَنْفُس یعنی حالتِ نفسی کو نہ بدلے۔ انفال سورہ نمبر 8 آیت 53، رعد سورہ نمبر 13 آیت 11۔ ان آیات میں "ما بِأَنْفُس" کی تبدیلی سے مراد وہ تبدیلی ہے جو افراد کی سطح پر ہوتی ہے، کیونکہ نفس افراد ہی کی سطح پر پایا جاتا ہے، نہ کہ اجتماع کی سطح پر۔ مطلب یہ ہے کہ قوموں کا زوال اس وقت ہوتا ہے جبکہ ان کے افراد میں بگاڑ آ گیا ہو۔
اسی طرح قوموں کا عروج اس وقت ہوتا ہے جبکہ افراد کی سطح پر ان میں زندگی پیدا ہو جائے۔ اس سنتِ الٰہی کے مطابق اصلاحِ قوم کا طریقہ یہ ہے کہ اس کو اصلاحِ افراد سے شروع کیا جائے، نہ کہ انقلابِ حکومت سے۔ انقلابِ حکومت کے نعرے سے کام کا آغاز گویا کسی گروہ کے ما بِقوم سے بدلنے کی کوشش کرنا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کی کوشش ایک ایسی دنیا میں نتیجہ خیز ہو سکتی ہے جس کے پیدا کرنے والے نے اس کے ما بِقوم کی تبدیلی کو اس کے ما بِأَنْفُس کی تبدیلی کے ساتھ جوڑ دیا ہو۔
یہ باغ کو باغ سے نکالنے کی کوشش ہوگی، جبکہ اس دنیا میں باغ کو صرف بیج سے نکالا جا سکتا ہے۔ تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ کسی نے تاریخ سے سبق نہیں سیکھا۔ یہ قول جس طرح دوسری قوموں کے لیے صحیح ہے، ٹھیک اسی طرح وہ ہمارے اوپر بھی صادق آتا ہے۔ ہماری طویل تاریخ ہر قسم کے سبق آموز واقعات سے بھری ہوئی ہے، مگر ہم میں سے کوئی شخص جب کام کرنے کے لیے اٹھتا ہے تو اکثر وہ انہیں ناکام تجربات کو دہراتا ہے جو اس سے پہلے بار بار پیش آ چکے ہیں۔
وہ تاریخ کے قانون کو جانتے ہوئے اپنے آپ کو، شعوری یا غیر شعوری طور پر، اس سے الگ کر لیتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ جو کچھ ہوا وہ صرف دوسروں کے لیے تھا، ہمارے ساتھ ایسا نہیں ہوگا۔ تاریخ مسلسل طور پر یہ سبق دیتی ہے کہ کوئی قوم اس وقت ترقی کرتی ہے جبکہ اس کے افراد میں کریکٹر کی طاقت پیدا ہو جائے۔ مگر ہمارا حال یہ ہے کہ ہم افراد میں کریکٹر پیدا کیے بغیر ترقی کی طرف چھلانگ لگا دیتے ہیں۔
ساری تاریخ کا فیصلہ ہے کہ قوموں کی سربلندی کا راز ابتدائی سطح پر تعمیر و استحکام ہے، مگر لوگ موقع ملتے ہی سیاسی ادارے سے مقابلہ آرائی شروع کر دیتے ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ افراد قوم کے درمیان باہمی اتحاد، خواہ جس قیمت پر بھی ہو، باقی رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ مگر معمولی معمولی باتوں پر لوگ ایک دوسرے کے خلاف محاذ بنا کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ تاریخ کہتی ہے کہ حقیقت پسندی کسی بھی کامیابی تک پہنچنے کا واحد زینہ ہے۔
مگر ہمارے رہنما نہایت بے دردی کے ساتھ قوم کو جذباتی ہنگاموں میں مشغول کر دیتے ہیں۔ ملت کو اٹھانے کا کوئی منصوبہ اسی وقت کامیاب ہو سکتا ہے جبکہ ملت کے افراد کو اٹھایا جا چکا ہو۔ ملت کی ترقی کے لیے ایسے افراد درکار ہیں جو بولنے سے زیادہ چپ رہنا جانتے ہوں، جو الفاظ سے زیادہ معنی کی زبان سمجھتے ہوں، جو طاقت سے زیادہ دلیل کے آگے جھکنے والے ہوں، جو کہنے سے زیادہ کرنا جانتے ہوں، جو آگے بڑھنے سے زیادہ پیچھے ہٹنے کے بہادر ہوں۔ خلاصہ یہ کہ جو دنیا سے زیادہ آخرت کو دیکھ رہے ہوں۔
ایسے افراد کے بغیر ملت کی سربلندی کا نعرہ لگانا ایسا ہی ہے جیسے دلدل کے اوپر دیوار کھڑی کرنا۔ کتاب "اسباقِ تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 325۔