← Asbaq-e-TareekhAsbaq-e-Tareekh
Qaumi Azmat
Urdu · 5 min
خامی عظمت: رومی شہنشاہیت کا زوال، Decline and Fall of the Roman Empire۔ ایڈورڈ گبن کی مشہور کتاب ہے؛ انگریز مؤرخ کو یہ کتاب لکھنے کا خیال کیوں کر پیدا ہوا؟ کہا جاتا ہے کہ اس کا خیال اس کو اس وقت آیا جبکہ اس نے روم کے کھنڈرات دیکھے۔ رومی شہنشاہیت کے کھنڈرات میں اس نے یورپ کی عظمت، یورپ کی عظمتِ ماضی کا نشان دیکھا، اور اس کے برباد ہو جانے کا مشاہدہ کیا۔
اس مشاہدے نے ایڈورڈ گبن کے دل میں تڑپ پیدا کی۔ وہ اس موضوع کی تحقیق میں لگ گیا، یہاں تک کہ اس نے وہ کتاب لکھی جو کہ نہ صرف رومی سلطنت کی اہم تاریخ ہے بلکہ خود تاریخ نویسی پر خالص فنی اعتبار سے ایک اہم کتاب سمجھی جاتی ہے۔ اسی طرح تاریخ کے موضوع پر سر سید کی مشہور کتاب "آثار السنادید" 1847 عیسوی ہے۔ سر سید کو اس کتاب کے لکھنے کا خیال بھی عظمتِ ماضی کے کھنڈرات کو دیکھ کر ہوا۔
دہلی کی منصفی کے زمانے میں، سر سید نے دہلی کی تاریخ عمارتیں دیکھیں۔ ان عمارتوں میں انہوں نے سنسان عظمت کا جو مشاہدہ کیا، اس نے ان کے اندر ایک تڑپ پیدا کر دی۔ انہوں نے دہلی کی ایک ایک عمارت کی تحقیق شروع کر دی۔ چھٹیوں کو وہ اس طرح استعمال کرتے کہ دہلی کے اطراف کی عمارتوں کو دیکھنے نکل جاتے، اور کئی کئی دن تک ان کی تحقیق میں مشغول رہتے۔
اس تحقیق میں انہوں نے غیر معمولی محنت کی۔ بہت سی قدیم عمارتیں اس قدر بوسیدہ تھیں کہ ان کے کتبے بھی بوسیدہ ہو چکے تھے۔ بہت سے کتبوں سے پوری معلومات حاصل نہیں ہوتی تھیں۔ کچھ کتبے ایسے خط میں تھے جن سے کوئی واقف نہ تھا۔
کتبوں پر جو نام درج تھے، ان کی تاریخی کتابوں سے تحقیق کرنی پڑتی تھی۔ انہوں نے ان تمام مشکلات کو جھیلا۔ انہوں نے ہر عمارت کو طول و عرض کی پیمائش کی، اس کے حالات لکھے، کتبوں کے چربے اتارے، ہر عمارت کا نقشہ مصور سے بنوایا کیونکہ اس زمانے میں کیمرہ موجود نہ تھا۔ اس طرح انہوں نے تقریباً سوا سو عمارتوں کی تفصیلات مرتب کیں۔
کتب مینار کی غیر معمولی بلندی قدیم زمانے میں کسی محقق کے لیے زبردست مسئلہ تھی۔ سر سید نے کتب مینار کے اونچے کتبوں کو پڑھنے کے لیے دو بلیاں لگوا کر ان سے چھین کے شکوائے۔ دو بلیاں لگوا کر ان میں چھین کے شکوائے، اور اس کے اندر بیٹھ کر اوپر گئے اور کتبوں کی نقل تیار کی۔ مولانا حالی نے لکھا ہے کہ سر سید کی آئندہ ترقیات کی گویا یہ پہلی سیڑھی تھی، اور ان کی یہ حالت بالکل ابو تمام کے اس شعر کی مصداق تھی: "ویسعد حتیٰ یظن الورى بان له حاجة فی السماء" یعنی وہ اس طرح اوپر چڑھ رہا ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اس کو آسمان میں کچھ ضرورت ہے۔
عظمتِ ماضی کے کھنڈر کو دیکھ کر جس طرح گبن اور سر سید مؤرخ بن گئے، اسی طرح بہت سے لوگ ہیں جن کو عظمتِ ماضی کے کھنڈر نے لیڈر اور مفکر بنا دیا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو موجودہ زمانے میں پیدا ہوئے جبکہ مسلمانوں کو زوال آ چکا تھا۔ انہوں نے مسلمانوں کے دورِ عظمت کے کھنڈر دیکھے۔ ان کھنڈرات کو دیکھ کر وہ تڑپ اٹھے۔
کھوئی ہوئی عظمت کے شکستہ مناظر کو دیکھ کر ان کا دل پار پار پارہ ہو گیا۔ قائدین کی بھیڑ میں کوئی نظر نہیں آتا جس نے جنت کے باغوں کو لہلہاتے ہوئے دیکھا ہو، اور جہنم کے شعلوں کی لپیٹ محسوس کر کے تڑپ اٹھا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانے میں آخرت کی دعوت کی کوئی حقیقی تحریک نہ اٹھ نہ اٹھ سکی۔ البتہ خومی عظمت کو حاصل کرنے کی تحریکیں اتنی زیادہ ابھر آئیں کہ ان کے شور سے شبہ ہوتا ہے کہ کہیں کان بہرے نہ ہو جائیں۔
کتاب "اسباق تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 323۔