← Asbaq-e-TareekhAsbaq-e-Tareekh
Barbadi ke Bavajud
Urdu · 7 min
بربادی کے باوجود، ہر ناکامی میں ایک نئی کامیابی کا امکان چھپا ہوا ہوتا ہے۔ یہ ایک ابدی اصول ہے۔ اسلام کی تاریخ میں اس اصول کے بہت سے عملی نمونے پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک نمونہ یہ ہے کہ پندرہویں صدی میں جن مسلمانوں کے اوپر اسپین کے دروازے بند کیے گئے تھے، انہی کے ذریعے افریقہ کے بربری قبائل میں اسلامی دعوت کے دروازے کھلے۔
پروفیسر ٹی ڈبلیو آرنلڈ نے اس سلسلے میں لکھا ہے کہ بربری قبائل کے لوگ اپنے پہاڑوں کے حصار میں بند تھے اور اپنی خود مختاری کے دلدادہ تھے، اس لیے انہوں نے اپنے یہاں عربی عناصر کے داخلے کو کامیابی سے روکا، اور اس بنا پر ان کو مسلمان بنانے میں بہت دشواریاں حائل ہوئیں۔ قادریہ سلسلے کی ایک خانقاہ، ساقیۃ الحمراء کے صوفیوں نے ان کے یہاں ایک تبلیغی مشن قائم کرنے کی کوشش کی تھی، مگر انہیں اس مقصد میں کامیابی نہ ہو سکی۔ بربری قبائل کے درمیان اسلام کے لیے راستہ ہموار کرنے کا سہرا اندلسی مسلمانوں کے سر ہے، جو سقوط غرناطہ 1492 عیسوی کے بعد اسپین سے نکال دیے گئے تھے، اور اس کے بعد افریقہ آ کر اسی خانقاہ میں پناہ گزین ہوئے تھے۔ خانقاہ کے شیخ نے دیکھا کہ یہ لوگ تبلیغ کے اس دشوار کام کے لیے بہت موزوں ہیں، جس کو سرانجام دینے میں ان کے اپنے مریدوں کی کوششیں ناکام رہی تھیں۔
اس کارِ خیر پر روانہ کرنے سے پہلے انہوں نے ان کو ان الفاظ میں مخاطب کیا: "ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم اسلام کی مشعل ان ملکوں میں لے جائیں جو برکاتِ اسلام کی نعمت سے محروم ہو چکے ہیں۔ ان بدقسمت قبائل کے ہاں نہ تو مدارس ہیں اور نہ کوئی شیخ ہے جو ان کے بچوں کو اصولِ اخلاق اور محاسنِ اسلام کی تعلیم دے سکے۔ یہ لوگ جانوروں کی طرح رہتے ہیں، جن کو نہ خدا کا علم ہے نہ دین کا۔ لہٰذا میں نے ارادہ کیا ہے کہ اس ناگوار صورتحال کی اصلاح کے لیے تمہاری دینی حمیت اور نورِ ایمان سے درخواست کروں، تاکہ یہ کوہستانی لوگ اپنی قابلِ رحم جہالت کی دلدل میں غلطاں پہچان رہیں اور ہمارے دین کی شاندار صداقتوں سے باخبر ہو جائیں۔
جاؤ اور ان کے ایمان کی بجھتی ہوئی آگ کو ہوا دو، اور اس کی دبی ہوئی چنگاریوں کو دوبارہ روشن کرو۔ اپنے پہلے مذہب یعنی عیسائیت کی جس ذلالت سے وہ اب تک آلودہ ہیں، ان سے ان کو پاک کرو، اور ان کو یہ سمجھاؤ کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین میں عیسائیت کے برعکس میل کچیل اللہ تعالیٰ کی نظروں میں مقبول نہیں ہے۔ میں تم سے یہ بات پوشیدہ نہیں رکھنا چاہتا کہ تمہارے کام میں بہت سی دشواریاں ہیں، لیکن تمہاری ناقابلِ تسخیر حمیت اسلامی اور حرارتِ ایمانی خدا کے فضل و کرم سے تمام مشکلات پر غالب آئے گی۔ میرے بچو، جاؤ اور اس بدنصیب قوم کو خدا اور اس کے رسول کی طرف دوبارہ لاؤ، جو اس وقت جہالت اور کفر کی دلدل میں پھنسی ہوئی ہے۔
ان کو نجات کا پیغام پہنچاؤ۔ خدا تمہارے شاملِ حال رہے اور تمہاری مدد فرمائے۔ " یہ مبلغ پانچ پانچ، چھ چھ کی جماعتوں میں مختلف اطراف میں روانہ ہو گئے۔ وہ پھٹے پرانے کپڑے پہنے اور ہاتھ میں عصا لیے چل دیے، اور انہوں نے پہاڑوں کے سنسان اور غیر آباد مقامات انتخاب کر کے وہاں کے غاروں میں چٹانوں کے درمیان خانقاہیں قائم کیں۔
قبائل کے درمیان ان کی پرہیزگاری اور عبادت گزاری کا چرچا ہونے لگا۔ چنانچہ یہ قبائل جلد ہی ان کے ساتھ راہ اور رسم پیدا کرنے لگے۔ ان مبلغوں نے آہستہ آہستہ اپنے علمِ طب اور ثنائے و حرفت اور تمدن کے دیگر فوائد کی بدولت بربری قبائل کے ہاں اپنا مطلوبہ اثر و رسوخ قائم کر لیا، اور ہر ایک خانقاہ اسلامی تعلیم کا مرکز بن گئی۔ ان نو واردوں کے علم و فضل کی کوشش سے بہت سے طالبِ علم ان کے گرد و پیش جمع ہو گئے، اور کچھ عرصے کے بعد یہی طالبِ علم اپنے ابنائے وطن میں اسلام کی تبلیغ کرنے لگے، یہاں تک کہ ان کا مذہب ان قبائل کے تمام علاقوں اور صحرائے الجزائر کی بستیوں میں پھیل گیا۔
پریچنگ آف اسلام، صفحہ 134 تا 35۔ پروفیسر آرنلڈ کا مذکورہ اقتباس بتاتا ہے کہ قدیم اسپین کی تاریخ سے دو قسم کے واقعات وابستہ ہیں: ایک یہ کہ عیسائیوں نے انہیں اسپین سے ظالمانہ طور پر نکالا، دوسرے یہ کہ ان نکلے ہوئے مسلمانوں نے باہر آ کر اسلام کا ایک عظیم کارنامہ انجام دیا۔ مگر موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ان میں سے ہر شخص پہلے اسپین کو جاننے کا ماہر بنا ہوا ہے، دوسرے اسپین کو جاننے والا ان کے درمیان کوئی نہیں۔ کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جنہیں اندھیرے تو خوب نظر آئیں، مگر اجالے ان کو دکھائی نہ دے سکیں۔
کتاب: اسباقِ تاریخ، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 320۔