Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Jaanna Kafi nahi

Urdu · 4 min

جاننا کافی نہیں، بو علی سینا 370 تا 430 ہجری بہت عالم فاضل شخص تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک بار وہ اپنے زمانے کے ایک بزرگ، شیخ ابو سعید ابو الخیر سے ملے اور ان کے یہاں چند دن گزارے۔ بو علی سینا جب واپس جانے لگے تو انہوں نے شیخ ابو سعید ابو الخیر کی خدمت میں رہنے والے ایک شخص سے کہا: "آج میں یہاں سے جا رہا ہوں، تم ایسا کرنا کہ میرے بعد شیخ میرے بارے میں جو کچھ کہیں وہ تم ایک خط میں لکھ کر میرے پاس بھیج دینا۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ شیخ کا خیال میرے بارے میں کیا ہے۔

" بو علی سینا کی واپسی کو کئی دن گزر گئے، مگر شیخ ابو سعید ابو الخیر نے ان کے بارے میں کوئی بات نہ کہی۔ اچھا یا برا، کسی قسم کا کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ بالآخر کئی دن کے انتظار کے بعد، مذکورہ شخص نے شیخ سے سوال کیا کہ حضرت، آپ کے پاس بو علی سینا آئے تھے، وہ آپ کی نظر میں کیسے آدمی ہیں؟ شیخ ابو سعید ابو الخیر نے جواب دیا کہ وہ ایک اچھے حکیم ہیں اور ان کے پاس بہت علم ہے، مگر وہ مکارمِ اخلاق نہیں رکھتے۔

مذکورہ شخص نے شیخ ابو سعید ابو الخیر کا یہ تبصرہ ایک کاغذ پر لکھا اور اس کو بو علی سینا کے پاس بھیج دیا۔ بو علی سینا نے اس کو پڑھا تو ان کو بڑا جھٹکا لگا۔ انہوں نے مذکورہ شخص کو اس کا جواب لکھ کر بھیجا۔ اس جواب میں انہوں نے یہ لکھا کہ مجھے تمہاری تحریر پر تعجب ہے۔

میں نے مکارمِ اخلاق پر بہت سی کتابیں لکھی ہیں، پھر شیخ میرے بارے میں کیسے کہہ سکتے ہیں کہ میں مکارمِ اخلاق نہیں جانتا؟ مذکورہ شخص نے بو علی سینا کا یہ جواب شیخ ابو سعید ابو الخیر کو بتایا۔ وہ اس کو سن کر مسکرائے اور کہا: "من أنا نكفتم کہ مکارمِ اخلاق ندانت گفتہ ام کے ندارد فوائد الفؤاد" یعنی میں نہیں، میں نے یعنی میں نے یہ نہیں کہا کہ وہ مکارمِ اخلاق نہیں جانتے، میں نے یہ کہا کہ وہ مکارمِ اخلاق نہیں رکھتے۔ ایک چیز ہے جاننا اور ایک چیز ہے ہونا۔

جاننا ذہن اور حافظے کی سطح پر ہوتا ہے، اور ہونا آدمی کے پورے وجود کی سطح پر۔ جاننے والا آدمی صرف جانتا ہے، اور ہونے والا آدمی خود اس میں شامل ہو جاتا ہے۔ جاننا بہت آسان ہے، کوئی بھی شخص پڑھ کر اور سیکھ کر دین و اخلاق کی باتوں کو جان سکتا ہے، مگر ہونا اتنا ہی زیادہ مشکل ہے۔ ہونے کے لیے آدمی کو اپنے آپ کو پیس ڈالنا پڑتا ہے، کیونکہ پسا ہوا سفوف ہی پانی میں گھلتا ہے، نہ کہ جمے ہوئے ٹکڑے۔

مگر اصل اہمیت اعتبار کی ہے، اور حقیقت کی دنیا میں جو کچھ اعتبار ہے وہ ہونے کا ہے، نہ کہ جاننے کا۔ جس جاننے کے ساتھ ہونا نہ ہو، حقیقت کی دنیا میں اس کی کوئی قیمت نہیں۔ کتاب اسباقِ تاریخ، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 319۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.