بڑاپن۔ شہنشاہ اکبر نے اپنے لڑکے شہزادہ سلیم کی شادی جے پور کے راجہ بھگوان داس کی لڑکی سے کی تھی۔ اس سلسلے میں اکبر خود بارات لے کر جے پور گیا۔ نکاح کے بعد جب دلہن کا ڈولہ باہر نکلا تو راجہ بھگوان داس نے ہاتھ جوڑ کر عرض کیا: "مارچیری تہار گھر کی باندی، ہم باندھ غلام رے۔
" یعنی ہماری لڑکی آپ کے گھر کی کنیز ہے، اور ہم آپ کے غلام ہیں۔ یہ سن کر اکبر تڑپ اٹھا، وہ بے تابانہ کھڑا ہو گیا اور راجہ بھگوان داس کو گلے لگا کر کہا کہ نہیں، ایسا نہیں ہے، بلکہ یوں ہے: "تہار چیری مار گھر کی رانی، تم صاحب سردار رہے۔ " یعنی تمہاری لڑکی ہمارے گھر کی رانی ہے، اور تم ہمارے سردار ہو۔ یہ کہہ کر اکبر نے دلہن کے ڈولے میں خود کاندھا لگا دیا۔
اس کے بعد ساری فضا ہی دوسری ہو گئی۔ تمام شہزادے اور امرا دوڑ پڑے، ہر ایک دلہن کا ڈولہ اٹھانے میں سبقت کرنے لگا۔ کچھ دور تک یہی لوگ ڈولہ لے کر چلتے رہے، اس کے بعد اس کو کہاروں کہاروں نے سنبھالا۔ خلیفہ ہارون رشید کا قول ہے کہ شریف آدمی وہ ہے جو اپنے سے بڑے کو دبائے اور چھوٹے سے خود دب جائے۔
اکبر کا مذکورہ واقعہ اس کی ایک مثال ہے۔ اکبر بے حد بلند فطرت انسان تھا، اگرچہ وقت کے علما کے غلط کردار نے اس کو بگاڑ دیا۔ جو لوگ پست طبیعت کے ہوتے ہیں، ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ طاقتوروں کے ساتھ اخلاق برتتے ہیں، اور جس کو کمزور پاتے ہیں اس کو ذلیل کرنے لگتے ہیں۔ مگر اونچی طبیعت والے آدمی کو اس بات سے شرم آتی ہے کہ وہ دو قسم کا اخلاق برتے۔
وہ ایک کے مقابلے میں کچھ ہو اور دوسرے کے مقابلے میں کچھ، وہ ہر حال میں سچائی کے سامنے جھکنے والا ہوتا ہے۔ وہ معقولیت کے سامنے بھی اسی طرح دبتا ہے جس طرح قوت کے سامنے۔ وہ کمزور کا بھی اتنا ہی لحاظ کرتا ہے جتنا طاقتور کا۔ اس کا کردار اصول کے تابع ہوتا ہے، نہ کہ لالچ اور خوف کے تابع۔
بڑا آدمی اپنی بڑائی جتا کر حقیقتاً چھوٹا ہو جاتا ہے۔ اونچی حیثیت والا جب گھمنڈ کا مظاہرہ کرتا ہے تو وہ اپنے کو نیچے گرا لیتا ہے۔ کتاب "اسباق تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 317۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.