پہچان: اورنگزیب عالمگیر کا واقعہ ہے، ایک مرتبہ انہوں نے کسی امام کے پیچھے نماز پڑھی، امام نے بھول کر پہلی رکعت میں قل أعوذ برب الناس پڑھ دی، قل أعوذ برب الناس قرآن کی آخری سورہ ہے۔ اور نماز کے لیے حکم ہے کہ اگلی رکعت میں آگے کی سورت پڑھی جائے، نہ کہ پیچھے کی سورت۔ اب امام صاحب کے سامنے سوال یہ تھا کہ اگلی رکعت میں وہ قرآن سے کیا پڑھیں، امام صاحب جب اگلی رکعت میں کھڑے ہوئے تو انہوں نے سورہ علم سورہ الف لام میم کا ابتدائی حصہ پڑھا، اس طرح قرآن کی ترتیب باقی رہی۔ کیونکہ آدمی جب قرآن کو پڑھتے ہوئے سورہ قل أعوذ برب الناس تک پہنچتا ہے تو وہ دوبارہ قرآن کے ابتدائی حصے سے پڑھنا شروع کرتا ہے۔
اورنگزیب عالمگیر امام صاحب کی ذہانت سے بہت خوش ہوئے، نماز کے بعد ان کی حوصلہ افزائی کی اور ان کا عہدہ بڑھا دیا۔ بعض مرتبہ ایک چھوٹا سا واقعہ آدمی کی شخصیت کا تعارف بن جاتا ہے، وہ بتا دیتا ہے کہ آدمی غبی ہے یا ذہین، وہ جوہر والا ہے یا بے جوہر والا۔ اسی سے اس حدیث کو سمجھا جا سکتا ہے جس میں ارشاد ہوا ہے کہ بعض اوقات آدمی کا چھوٹا سا عمل اس کے لیے بڑے بڑے انجام کا سبب بن جاتا ہے۔ امام بخاری کی روایت کے مطابق اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: إن العبد ليتكلم بالكلمة من رضوان الله لا يلقي لها بالا يرفع الله بها درجاتٍ، وإن العبد ليتكلم بالكلمة من سخط الله لا يلقي لها بالا يهوي بها في جهنم.
صحیح البخاری حدیث نمبر 6113 یعنی حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بندہ اللہ کی رضا کا کلمہ پڑھ کہتا ہے، وہ اس کو کوئی اہمیت نہیں دیتا، مگر اللہ اس کی وجہ سے اس کے درجات بلند کر دیتا ہے، اور بندہ اللہ کی ناراضگی کا ایک کلمہ کہتا ہے، وہ اس کو کوئی اہمیت نہیں دیتا، اور اس کی وجہ سے اللہ اس کو جہنم میں ڈال دیتا ہے۔ " کتاب اسباق تاریخ مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 316۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.