اتفاق کا نتیجہ۔ حماسہ کے معنی عربی زبان میں شجاعت، شجاعت و حمیت کے ہیں۔ شجاعت و حمیت قدیم عربی شاعری کے خاص موضوعات ہوتے تھے، چنانچہ قدیم عربی شاعری کے جو منتخبات تیار کیے گئے ہیں، ان کو الحماسہ کہا جاتا ہے۔ اس قسم کی کتابیں سب سے مشہور حماسہ ابو تمام الطائی کا ہے، جو سب سے پہلے تیار ہوا۔
کہا جاتا ہے کہ ابو تمام الطائی 220 ہجری ایک بار خراسان گیا ہوا تھا۔ جب وہاں سے واپس ہوا تو راستے میں شدید برف باری شروع ہو گئی، چنانچہ وہ حمدان میں اپنے ایک دوست ابو الوفا بن سلمہ کے یہاں ٹھہر گیا۔ ابو الوفا کا ذاتی کتب خانہ تھا، جس میں قدیم عرب شعراء کا کلام بہت بڑی مقدار میں موجود تھا۔ یہ کتب خانہ اس نے ابو تمام کے لیے کھول دیا، چنانچہ ابو تمام نے جاڑے کا پورا موسم انہیں کتابوں کے مطالعے میں گزار دیا۔
اس مطالعے کے بعد ابو تمام الطائی نے جاہلی دور اور آغازِ اسلام کے شعراء کے کلام کا ایک انتخاب، یعنی دیوان الحماسہ، تیار کیا جو 10 ابواب پر مشتمل ہے۔ یہ انتخاب اتنا جامع اور اتنا نفیس تھا کہ اس کو بے حد مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس کے بعد اسی انداز پر بہت سے منتخبات تیار کیے گئے۔ ابو تمام کا حماسہ ادب عربی کے نصاب کا اہم جز سمجھا جاتا ہے۔
تاہم ادب عربی کی یہ کتاب محض اتفاق، یعنی صدفہ کے نتیجے میں تیار ہوئی۔ تاریخ کے بہت سے اہم واقعات محض اتفاقی حالات کے نتیجے میں ظہور میں آئے۔ مگر اس قسم کے اتفاق سے وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جو پہلے سے کچھ ضروری شرطوں کو پورا کر چکے ہوں۔ مثال کے طور پر ابو تمام الطائی اگر عربی زبان کا ماہر نہ ہوتا اور اس کو شعر فہمی کا عہدہ ذوق نہ ہوتا، تو مذکورہ اتفاق پیدا ہونے کے باوجود وہ کتاب الحماسہ تیار نہیں کر سکتا تھا۔
ابو تمام اگرچہ خود بھی شاعر تھا، مگر اس کے اشعار سے زیادہ اس کا انتخاب مشہور ہوا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ شعر گوئی کے مقابلے میں شعر فہمی کی صلاحیت اس سے اس میں زیادہ تھی۔ چنانچہ تبریزی نے اس کے بارے میں کہا ہے: «إن أبا تمّامٍ في حماسته أشعار منه في شعره». تاریخ الآداب العربية، لبرکلمان، جلد و صفحہ 71 تا 72۔
کتاب: اسباقِ تاریخ، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 315۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.