منفی تحریکیں، پروفیسر سی ایم جوڑ نے لکھا ہے: وہ مشترک جذبات جن کو آسانی سے بھڑکایا جا سکتا ہے، اور جو عوام کے بڑے بڑے گروہوں کو حرکت میں لا سکتے ہیں، وہ رحم، فیاضی، اور محبت کے جذبات نہیں ہیں، بلکہ نفرت اور خوف کے جذبات ہیں۔ جو لوگ کسی گروہ کے اوپر قیادت حاصل کرنا چاہتے ہیں، وہ اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک وہ اس کے لیے کوئی ایسی چیز تلاش نہ کر لیں جس سے وہ گروہ نفرت کرے، یا وہ کوئی ایسی شخصیت یا قوم نہ پیدا کر لیں جس سے وہ گروہ ڈرے۔ Guide to Modern Wickedness, page 153. نفرت اور خوف کے جذبات کو ابھار کر تحریکیں چلانا، قرآن کے الفاظ میں عداوت، البقرہ سورہ نمبر 2 آیت 36 کی بنیاد پر تحریک چلانا ہے۔
یہ وہی چیز ہے جس کو حدیث میں اندھے جھنڈے اور جاہلی نعرے کے تحت لڑنا کہا گیا ہے۔ من قتل تحت رایتٍ عميتٍ يغضب للعصبية أو يقاتل للعصبية فليس من أمتي. صحیح مسلم، حدیث نمبر 1848۔ یعنی جو شخص کسی اندھے جھنڈے کے تحت مارا جائے، وہ عصبیت کے لیے غصہ کرے، اور وہ عصبیت کے لیے لڑے، تو وہ میری امت میں سے نہیں ہے۔
کسی فرد یا گروہ کو برائی کی علامت قرار دے کر اس کے پیچھے پڑنا خود ایک بہت بڑی برائی ہے۔ پھر برائی کے بیج سے بھلائی کا پھل کیسے نکلے گا؟ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی تحریکیں، خواہ وہ حق و صداقت کے نام پر اٹھائی گئی ہوں، ہمیشہ منفی تحریکیں ہوتی ہیں، اور منفی عمل سے کبھی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہو سکتا۔ خدا کی دنیا، زمین سے آسمان تک، مثبت سرگرمیوں کی دنیا ہے۔
شہد کے چھتے سے لے کر عظیم کہکشانی نظاموں تک، ہر جگہ مثبت اصولوں کی کارفرمائی ہے۔ ایسی دنیا میں وہی تحریک نتیجہ خیز ہوگی جو مثبت بنیادوں پر اٹھائی گئی ہو۔ منفی بنیادوں پر کیا جانے والا شور و غل اور اکھیڑ پچھاڑ، ایک قسم کا شیطانی عمل ہے، اور شیطانی عمل سے ملکوتی نتیجہ ظاہر نہیں ہو سکتا۔ منفی نعرے لے کر اٹھنا، شخصی قیادت قائم کرنے کے لیے انتہائی مفید ہے۔
مگر اس قسم کی تحریک، اصلاح کے مقصد کے لیے اتنی ہی بے فائدہ ہے۔ ہر تحریک اپنی دعوت اور سرگرمیوں کے مطابق اپنے متاثرین کا ذہن بناتی ہے۔ جو تحریک منفی بنیادوں پر اٹھے، وہ یقیناً اپنے عمل کے دوران لوگوں کا ذہن بھی منفی انداز کا بنائے گی۔ پھر ایسے منفی ذہن کے لوگوں کا انجام خدا کی مثبت دنیا میں اس کے سوا کیا ہے کہ وہ یہاں بالکل بے جگہ ہو جائیں اور کوئی کارنامہ انجام نہ دے سکیں؟
کتاب اسباق تاریخ، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 326۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.