اسلام کے نام پر، عثمانی ترکوں میں سلطان سلیم نہایت بیدار مغز بادشاہ گزرا ہے۔ انیسویں صدی کے آغاز میں جب اس کو اقتدار ملا تو ایک طرف یورپ زبردست ترقی کے مقام کو پہنچ چکا تھا، اور دوسری طرف ترکی تقریباً ڈھائی صدی کے عروج کے بعد زوال کا شکار ہو کر یورپ کا مردِ— یورپ کا مردِ بیمار بن رہا تھا۔ ان حالات میں سلطان نے ترکی کو عصرِ نو طاقتور اور ترقی یافتہ بنانے کی کوشش کی۔ اس وقت سلطان سلیم کی زبردست مخالفت کی گئی۔
یہ مخالفت کرنے والے ملک کے علماء تھے۔ سلطان نے فوجوں کی جدید تنظیم کے لیے سنگین والی رائفلیں منگوائیں، تو علماء نے کہا کہ یہ کافروں کا ہتھیار ہے، اور اس بنا پر اس کا استعمال حرام ہے۔ اس نے سپاہیوں کے استعمال کے لیے جدید طرز کی فوجی وردیاں بنوائیں، تو علماء نے کہا کہ یہ تشبہ بن نصاریٰ ہے، اور تشبہ بن نصاریٰ سے ہم کو منع کیا گیا ہے، وغیرہ۔ سلطان سلیم کے عمل کو بے دینی قرار دیا گیا، اور یہ کہہ کر عوام کے اندر اس کے خلاف نفرت پھیلائی گئی کہ وہ مسلمانوں کے اندر کافروں کے طریقے رائج کر کے اسلام کو بگاڑتا ہے۔
حتیٰ کہ شیخ الاسلام عطاءاللہ آفندی نے یہ فتویٰ دیا کہ سلطان سلیم قرآن کے خلاف عمل کر رہا ہے، اور جو بادشاہ قرآن کے خلاف عمل کرے وہ بادشاہ بننے کے قابل نہیں۔ اس زمانے میں ترکی عوام پر علماء کا بہت اثر تھا۔ ان کی اس قسم کی باتوں سے سلطان کے خلاف زبردست شورش پیدا ہو گئی، یہاں تک کہ 1807 میں سلان کو تخت سے معزول ہونا پڑا۔ ترک علماء جدید دنیا کی سرحد پر ہونے کے باوجود جدید تبدیلیوں سے بالکل ناواقف تھے۔
اپنے خیال کے مطابق اخلاص سے، مگر حقیقتاً سراسر نادانی کے ساتھ، انہوں نے یہ کوشش کی کہ ترک قوم 700 سال پہلے کی فضا سے نہ نکلنے پائے۔ سلطان سلیم کے بعد سلطان محمود نے 1826 عیسوی میں دوبارہ عسکری تنظیم میں جدید طریقوں کو رائج کیا، مگر ترک عالموں اور درویشوں نے کہنا شروع کیا کہ یہ بدعت ہے، سلطان بے دین ہو گیا ہے۔ انہوں نے مسلمانوں سے کہا کہ اگر وہ اپنے ایمان کو بچانا چاہتے ہیں تو فوج میں بھرتی نہ ہوں۔ اس قسم کے واقعات نے ترکی کی نئی نسل میں ردعمل پیدا کیا۔
وہ سمجھنے لگے کہ اسلام ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے، اس کے اندر یہ صلاحیت نہیں کہ وہ زمانے کے ساتھ چل سکے۔ 1908 عیسوی میں نوجوانوں کی جماعت کے ہاتھوں سلطان عبدالحمید خان کا اقتدار سے بے دخل کیا جانا اسی اسلام بیزاری کا نتیجہ تھا، جس نے بالآخر کمال عطا ترک کے دور کو پیدا کیا۔ کتاب "اسباق تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 307۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.