Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Sabaq Aamooz

Urdu · 7 min

صبح خاموش۔ فتح پور سیکری، شہنشاہ اکبر 1543 تا 1605 عیسوی کا دارالسلطنت تھا۔ یہ آگرہ سے 45 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہاں دوسری بہت سی عمارتوں کے ساتھ ایک شاہی عبادت خانہ بھی تھا۔

یہ عبادت خانہ اکبر کے بعد زمین کے نیچے دب گیا، اور اس کے اوپر گھاس اور درخت اگ آئے۔ حال میں حکومتِ ہند کے محکمہ آثارِ قدیمہ اور مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے مشترک منصوبے کے تحت اس کی کھدائی کی گئی۔ اس کی کھدائی کی گئی ہے، اور اس کو باہر نکالا گیا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا، 8 جون 1984۔

اس عبادت خانے میں شہنشاہ اکبر علماء کی صحبت میں بیٹھا کرتا تھا، اور ان سے مذہب کے موضوعات پر گفتگو کرتا تھا۔ یہیں اس نے اپنا مشہور "دینِ الٰہی" وضع کیا۔ اس کا خیال تھا کہ ہندوستان میں مختلف مذاہب کے ماننے والے بستے ہیں، اس لیے کسی ایک مذہب کی بنیاد پر یہاں سیاسی استحکام حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اس نے یہ رائے قائم کی کہ اس ملک میں مغل سلطنت کی بنیاد اس وقت تک مضبوط نہیں ہو سکتی جب تک یہاں کے لوگوں کا مذہب ایک نہ ہو جائے۔

تبلیغ کے ذریعے مذہب کو بدلنا اس کو مشکل نظر آیا۔ چنانچہ اس نے ایک نیا مذہب یعنی "دینِ الٰہی" ایجاد کیا، جس میں بزعم خود اس نے تمام مذاہب کی خصوصیات جمع کرنے کی کوشش کی۔ اس کا خیال تھا کہ یہ نیا مذہب اپنی مشترک خصوصیات کی بنا پر ملک کے تمام باشندوں کے لیے قابلِ قبول ہو جائے گا۔ دینِ الٰہی کی تصنیف کے دوران اس کو عیسائی مذہب کے بارے میں جاننے کی ضرورت پیش آئی۔

اس نے پرتگال کے عیسائی بادشاہ کو خط لکھا کہ اس کو انجیل کے فارسی ترجمے کی ضرورت ہے۔ شاہ پرتگال نے یہ فارسی ترجمہ بھیج دیا، تاہم اس کا مطالعہ اکبر کے لیے کافی نہ ہو سکا۔ اس کے بعد اکبر نے یورپ یعنی روم کو لکھا کہ مسیحیت کی تعلیم کے لیے اس کے پاس معلم بھیجے جائیں۔ پوپ نے فوراً دو تربیت یافتہ افراد ہندوستان روانہ کر دیے۔

ایک فادر ایکوا ویوا، اور دوسرا فادر مونسریٹ۔ یہ دونوں صاحبان 28 فروری 1590 عیسوی کو فتح پور سیکری پہنچے۔ اکبر نامے کی ایک پینٹنگ میں اکبر ان عیسائی معلمین سے محوِ گفتگو نظر آتا ہے۔ اکبر نے ان دونوں عیسائی معلمین کو شاہی عبادت خانے کے پاس خوشبو خانے میں ٹھہرایا۔

مگر یہ دونوں مسیحی صرف معلم نہ تھے، بلکہ وہ اپنے مذہب کے تربیت یافتہ مبلغ تھے۔ چنانچہ انہوں نے نہایت ہوشیاری کے ساتھ خوشبو خانے کو گرجا گھر میں تبدیل کر دیا۔ یہ شمالی ہند کا پہلا گرجا گھر تھا جو اکبر کے زمانے میں قائم ہوا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ فادر ایکوا ویوا نے پوپ کو جو رپورٹ بھیجی تھی، اس میں اس نے لکھا کہ "میرا احساس یہ ہے کہ اکبر ذہنی طور پر اس کے لیے تیار ہو رہا ہے کہ وہ مسیحیت کو قبول کر لے"۔

مگر اس سے اکبر کا اصل مقصد، یعنی سلطنت کا استحکام، حاصل نہیں ہوتا تھا۔ اس لیے اکبر ایسے اقدام سے باز رہا۔ اس واقعے میں دو بڑے سبق ہیں۔ ایک سبق یہ کہ دولت اور اقتدار کا حصول اکثر عقل سے محرومی کی قیمت پر ہوتا ہے۔

کسی آدمی کو جب دولت اور اقتدار مل جاتا ہے تو اکثر اس کو وہ ایسے کاموں میں ضائع کرتا ہے جس کا کوئی نتیجہ نکلنے والا نہیں۔ شہنشاہ اکبر نے سیاسی خوش خیالی کے تحت دینِ الٰہی وضع کیا تھا۔ اس پر اس نے سلطنت کے بے پناہ وسائل خرچ کیے۔ حالانکہ اس کا انجام بالآخر یہ ہونا تھا کہ وہ تاریخ کے ملبے کے نیچے دب کر رہ جائے، اور آثارِ قدیمہ کے طالبِ علموں کے سوا کسی اور کو اس سے دلچسپی نہ رہے۔

دوسرا سبق دعوتی ہے۔ اکبر نے پوپ سے مسیحی معلم مانگے، اور اس نے فوراً دو تیار شدہ افراد اس کے پاس بھیج دیے۔ جبکہ مسلمانوں سے جدید دور میں بار بار یہی تقاضا کیا گیا ہے، مگر وہ اس تقاضے کو کبھی پورا نہ کر سکے۔ مسیحی ادارے اپنی مشنری اسپرٹ کی وجہ سے سینکڑوں سال سے اس پوزیشن میں ہیں کہ مشرق و مغرب میں اپنے تربیت یافتہ افراد بھیج سکیں۔

جبکہ مشنری اسپرٹ سے محروم ہو کر مسلمانوں کا یہ حال ہو رہا ہے کہ ان کے پاس نہ مشرقی ضرورت کے مطابق خدا کے دین کے مبلغ موجود ہیں، اور نہ مغربی ضرورت کے مطابق۔ دورِ جدید میں مسلمانوں کی بربادی کا واحد سب سے بڑا سبب یہی ہے: مسلمانوں کی حیثیت خدا کے گواہ کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کی عملی سرگرمیوں کا اصل نشانہ صرف ایک ہے، اور وہ دعوت ہے۔ جن لوگوں کی نظریں اس نشانے پر جمی ہوئی ہوں، وہ اپنے لیے عمل کا صحیح میدان پا لیں گے۔

اور جب نظریں اس نشانے سے ہٹ جائیں تو تمام قوتیں منتشر ہو کر رہ جاتی ہیں۔ اس کے بعد وہ ایک قوم بن جاتے ہیں جس کا کوئی مقصد نہ ہو۔ وہ ایسا گروہ بن جاتے ہیں جس کا کوئی اقدام نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکے۔ کتاب "اسباقِ تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 309۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.