Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Khuda ki Madad

Urdu · 7 min

خدا کی مدد، عالم اسلام پر مغرب مغرب کے حملہ عالم اسلام پر مغرب کے حملے کا آغاز 16ویں صدی عیسوی میں ہوتا ہے، جبکہ پرتگالیوں نے یورپ اور ہندوستان کے درمیان سمندری راستہ دریافت کر کے بحر عرب پر قبضہ کر لیا اور عربوں کی تجارت اس علاقے سے کاٹ دی۔ 17ویں صدی میں اسٹیم انجن کی دریافت اور 18ویں صدی میں جدید ٹیکنالوجی کا وجود میں آنا، یورپ کے لیے طاقت و قوت کا نیا میدان کھل جانے کے ہم معنی تھا۔ اس کے بعد 1869 میں جب نہر سوئز بنی اور اس نے بحر روم اور بحر احمر کے درمیان سیدھا سمندری راستہ کھول دیا، تو عالم اسلام پر مغرب مغرب کے غلبے کا عمل اپنی آخری انتہا کو پہنچے اپنی آخری انتہا کو پہنچ گیا۔ 19ویں صدی کے آخر تک ایشیا اور افریقہ کا کوئی مسلم ملک نہ تھا جو بالواسطہ یا براہِ راست طور پر مغربی استعمار کے قبضے میں نہ آ چکا ہو۔

مادی قوت کے اعتبار سے مسلم اقوام اور مغربی اقوام کا فرق صرف مقداری نہ تھا بلکہ نوعی تھا۔ یعنی عالم اسلام اگر دستی ہتھیاروں سے مسلح تھا تو عالم مغرب دور مار ہتھیاروں سے۔ ایسی حالت میں لوگوں کا یہ تاثر بظاہر بے جا نہ تھا کہ مغرب کا غلبہ اب ختم ہونے والا نہیں۔ مگر قدرت کا فیصلہ ظاہر ہوا۔

دوسری جنگ عظیم 1939-41 میں مغربی طاقتیں خود آپس میں لڑ گئیں۔ تاریخ انسانی کی اس سب سے زیادہ بھیانک جنگ نے ان کو اتنا کمزور کر دیا کہ ان کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہ رہا کہ وہ ایشیا اور افریقہ کے مقبوضات سے واپس چلی جائیں۔ تاہم ایک شدید تر محاذ ابھی باقی تھا۔ یہ مغرب کی صنعتی برتری تھی۔

مسلم اقوام اپنے محدود وسائل اور ناکافی ٹیکنیکل صلاحیت کے ساتھ اس میدان میں آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ مگر ایلون ٹافلر کے الفاظ "فیوچر شاک" 1970 میں سوال یہ تھا کہ مسلم قومیں جب بحث بحزار دقت اپنے آپ کو انڈسٹریل ایج میں پہنچانے میں کامیاب ہوں گی، اس وقت مغرب سپر انڈسٹریل ایج میں پہنچ چکا ہوگا۔ عین اس وقت پیٹرو ڈالر ایک خدائی کرشمہ بن کر ظاہر ہوا اور اس نے نہ صرف مسلم اقوام کی صنعتی پسماندگی کی تلافی کر دی بلکہ بہت سے پہلوؤں سے ان کو جدید اقتصادی دنیا میں برتری عطا کر دی۔ حقیقت یہ ہے کہ امت مسلمہ کتاب محفوظ کی حامل ہے۔

اس کے طفیل میں اللہ تعالی نے اس کی دنیاوی حفاظت کی ذمہ داری لے لی ہے۔ اسی خدائی حفاظت نے تاتاری حملے اور صلیبی لڑائیوں کے وقت مسلمانوں کو محفوظ رکھا اور اسی نے موجودہ زمانے میں ان کو جدید طاقتوں کا شکار ہونے سے بچایا ہے۔ تاہم حفاظت کا یہ معاملہ صرف دنیاوی پہلو سے ہے۔ آخرت کی نجات کے لیے اللہ تعالی نے کسی سے اس قسم کا کوئی وعدہ نہیں کیا ہے۔

آخرت کی نجات کا تمام تر انحصار ذاتی اصلاح کے بعد اس پر ہے کہ ہم خدا کی امانت کو اس کے دوسرے بندوں تک پہنچاتے ہیں یا نہیں۔ رسول نے جس طرح اپنے زمانے کے لوگوں پر خدا کے دین کی گواہی دی، ٹھیک اسی طرح ہر دور کے مسلمانوں کو اپنے زمانے کے لوگوں کے سامنے اس کا گواہ بن کر کھڑا ہونا ہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو صرف ذاتی اصلاح بھی ان کو خدا کے یہاں باز پرس سے نہیں بچا سکتی۔ ختم نبوت کے بعد امت مسلمہ نبوت کی قائم مقام ہے۔

اس کی کامیابی یا ناکامی اسی کار شہادت کی ادائیگی پر موقوف ہے جس پر نبی کا معاملہ موقوف ہوتا تھا۔ نبی اگر خدائی پیغام رسانی کے کام کو انجام نہ دے تو خدا کی نظر میں اس کی حیثیت رسالت ہی متحقق نہیں ہوتی تھی۔ مائدہ سورہ نمبر پانچ آیت 67۔ اسی طرح ہم اگر اپنے زمانے کی قوموں پر دین کی گواہی دینے کا فریضہ ادا نہ کریں تو اندیشہ ہے کہ ہمارا امت محمدی ہونا ہی مجتبی نہ ہو جائے اور آخرت میں ہم ناکام و نامراد قرار پائیں۔

اگر تمام مسلم قومیں اس کام کے لیے نہیں اٹھ اٹھتی تو کم سے کم کسی ایک قوم یا کسی ایک جماعت کا دعوت الی اللہ کے اس کام کے لیے اٹھنا ضروری ہے۔ قدیم زمانے میں جبکہ سیاست کی بنیاد مذہب پر ہوتی تھی، ایک بے ضرر دعوتی تحریک کو بھی حکمران طبقہ اپنے خلاف ایک خطرہ سمجھنے لگتا ہے۔ ایک خطرہ سمجھنے لگتا تھا اور بہت جلد اس کو مٹانے کے لیے کھڑا ہو جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم زمانے میں اس مقصد کے لیے اٹھنے والے لوگ اروں سے چی چیرے گئے اور اگ میں جلائے گئے اور اگ میں جلائے گئے۔

مگر موجودہ زمانے میں مذہب اور سیاست کی الاحتگی نے ہم کو دعوتی کام کا انتہائی قیمتی موقع فراہم کر دیا ہے۔ اگر ہم مناظرہ بازی سے بچیں اور سیاسیات میں الجھنے کی غلطی نہ کریں تو آزادی فکر اور سائنسی طریق مطالعے کے اس زمانے میں ہر قسم کے خطرے سے محفوظ رہ کر ساری دنیا میں اسلام کی اشاعت کا کام جاری رکھ سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ جدید افکار نے اسلام کو لوگوں کے لیے قابل فہم بنانے کے بہت سے نئے امکانات کھول دیے ہیں جو اس سے پہلے کبھی موجود نہ تھے۔ ان امکانات کو استعمال کیا جائے تو اسلام کو معجزاتی استدلال کے ساتھ جدید دنیا کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے۔

کتاب اسباق تاریخ مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 305۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.