Maulana Wahiduddin Khan
13 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Fasad ka Zimmedaar

Urdu · 13 min

فساد کا ذمہ دار منتخب التواريخ علامہ عبدالقادر بدایونی کی مشہور کتاب ہے، موصوف شہنشاہ اکبر کے ہم عصر ہیں، اور اس کے دربار میں رہے ہیں۔ وہ اکبر کے بارے میں لکھتے ہیں کہ وہ ایک بادشاہ تھا جو حق کا طالب تھا اور اپنے اندر نفیس جوہر رکھتا تھا۔ بادشاہ ہے کہ ہر بادشاہ ہے کہ جوہر نفیس داش تو طالب حق۔ اکبر اپنی ابتدائی زندگی میں بڑا دیندار اور عبادت گزار تھا۔

اس نے سات عالم صرف نماز کی امامت کے لیے مقرر کر رکھے تھے، جن میں ایک خود ملا عبدالقادر بدایونی تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ اکبر کے دربار میں پانچوں وقت جماعت کے ساتھ نماز ہوتی تھی، جس میں بادشاہ خود شریک ہوتا تھا۔ ہر پنج وقت برائے خاطر جماعت در دربار میں گفتنب۔ ہر پنج وقت برائے خاطر جماعت در دربار میں گفتنب۔

اکبر جب سفر کے لیے نکلتا تو اس کے ساتھ ایک خاص خیمہ نماز کا ہوتا تھا، جس میں بادشاہ جماعت کے ساتھ نماز ادا کرتا تھا۔ شہنشاہ اکبر کے اس دیندارانہ مزاج کا یہ قدرتی نتیجہ ہوا کہ اس کے دربار میں علماء جمع ہونے لگے۔ اکبر کو حدیثیں سننے اور مسائل دین پر گفتگو کرنے سے خاص دلچسپی تھی۔ اس مقصد کے لیے وہ علماء کی صحبتوں میں دیر دیر تک بیٹھتا تھا۔

ملا بدایونی نے لکھا ہے کہ اکبر کے گرد جمع ہونے والے علماء کی تعداد 100 سے بھی اوپر تک پہنچ گئی تھی۔ جماعت مناظرین و مباحثین، چھ محقق، چھ مقلد، اسد نفر متجاوز بودن۔ بادشاہ کے گرد جمع ہونے والے یہ علماء قدرتی طور پر بادشاہ کی عنایتوں میں حصہ پانے لگے۔ بس یہیں سے وہ حالات پیدا ہوئے جس نے ایک دیندار بادشاہ کو بے دین بنا ڈالا۔

ظاہر ہے کہ سو آدمی بیک وقت بادشاہ کے قریب نہیں بیٹھ سکتے تھے۔ چنانچہ پہلا جھگڑا نشست گاہوں پر شروع ہوا۔ ہر ایک اس کوشش میں رہتا کہ وہ بادشاہ کے قریب بیٹھے۔ اب جس کو قریب جگہ نہ ملتی وہ جلن میں مبتلا ہوتا۔

اسی طرح بادشاہ کی انعامات میں جس کو کم حصہ ملتا، وہ اس سے حسد کرنے لگتا جس کو اتفاق سے زیادہ انعام مل گیا ہو۔ علماء کا حال یہ ہوا کہ وہ ایک دوسرے کو گرانے کے لیے ایک دوسرے کی برائیاں کرنے لگے۔ ملا بدایونی کے الفاظ میں علماء کے گروہ سے بہت سی بے ہودگی ظاہر ہوئی۔ بد نفسی حاضی جماعت ظاہر شدن۔

ایک نے دوسرے کے خلاف زبان کی تلوار نکالی، ایک دوسرے کی نفی اور تردید میں لگ گیا۔ ان کا اختلاف یہاں تک بڑھا کہ ایک نے دوسرے کو کافر بنایا، ایک نے دوسرے کو گمراہ ثابت کیا۔ بایک دیگر تیغ زباں کشیدہ در مقام تنافی۔ وہ تقابل بودن و اختلاف بجائے رسید کو تکفیر و تذلیل، حمد گرمی نمودن۔

نوبت یہاں تک پہنچی کہ شاہی دربار میں ان علماء کی گردنوں کی رگیں پھول آئیں۔ آوازیں بلند ہوئیں اور زبردست شور برپا ہوا۔ رگ گردن علماء زماں برآمدہ، آواز ہائے بلند و دم دبا بسیار ظاہر شد۔ علماء کی ان نازیبہ حرکتوں سے بادشاہ کا متاثر ہونا فطری تھا۔

اس کو سخت گراں گزرا۔ برخاطر اشرف گراں آمد۔ اس کے بعد بادشاہ نے پہلی کارروائی یہ کی کہ ملا بدایونی کو حکم دیا کہ اس قسم کے نامعقول عالموں کو آئندہ بادشاہ کی مجلس میں آنے نہ دے۔ اس کے باوجود علماء کی حرکتیں بند نہ ہوئیں۔

ان کی باتیں بادشاہ کے لیے ایمانی قوت کے بجائے بدگمانی اور برگشتگی میں اضافے کا سبب بنتی رہیں۔ علماء کا یہ حال تھا کہ ایک دوسرے کی ضد میں کوئی عالم ایک چیز کو حرام کہتا اور دوسرا اس کو حلال بتاتا۔ ان چیزوں نے بادشاہ کو شک میں ڈال دیا۔ اس کی حیرانی بڑھتی چلی گئی یہاں تک کہ اصل مقصد ہی سامنے سے جاتا رہا۔

در شک در شک انداختہ حیرت بر حیرت افزود و مقصود از میاں رفت۔ درباری علماء میں سے ایک ملا عبداللہ سلطان پوری تھے۔ ان کا سرکاری لقب مخدوم الملک تھا۔ انہوں نے مختلف طریقوں سے جو دولت جمع کی تھی اس کا حال ملا بدایونی نے ان الفاظ میں لکھا ہے۔

ان کا انتقال ہوا تو بادشاہ کے حکم سے ان کے مکان کا جائزہ لیا گیا جو لاہور میں تھا۔ اتنے خزانے اور دفینے ظاہر ہوئے کہ ان خزانوں کے تالوں کی تالوں کو دہم کی کنجیوں سے بھی کھولنا ممکن نہ تھا۔ حتی کہ سونے سے بھرے ہوئے چند صندوق مخدوم الملک کے خاندانی قبرستان سے برآمد ہوئے جنہیں مردوں کے بہانے سے مردوں کے بہانے سے زمین میں دفن کیا گیا تھا۔ شاہ عبدالقدوس گنگوہی کے پوتے ملا عبدالنبی تھے جو اکبر کے زمانے کے سب سے بڑے عالم سمجھے جاتے تھے۔

پورے ملک کے خطباء اور ائمہ کے درمیان جاگیر تقسیم کرنے کا انہیں اختیار تھا۔ شہنشاہ اکبر ان کا اتنا زیادہ احترام کرتا تھا کہ ان کی جوتیاں سیدھی کرتا تھا۔ مگر مذکورہ مخدوم الملک اور ملا عبدالنبی کے درمیان رقیبانہ کشمکش شروع ہوئی۔ ایک نے دوسرے کو جاہل اور گمراہ ثابت کرنے کے لیے رسالے لکھے۔

ایک نے دوسرے کی بابت لکھا کہ چونکہ انہیں بواسیر ہے اس لیے ان کے پیچھے نماز ناجائز ہے۔ دوسرے نے لکھا کہ تم اپنے باپ کے اخ کیے ہوئے بیٹے ہو اس لیے تمہارے پیچھے بھی نماز جائز نہیں۔ اس قسم کی لایعنی بحثوں سے شاہی کیمپ صبح و شام گونجتا رہتا تھا۔ شہنشاہ اکبر ابتدا نہایت دیندار تھا اور دینی شخصیتوں سے بڑی عقیدت رکھتا تھا۔

مگر دین کے نمائندوں کی خرافات کو مسلسل دیکھنے کے بعد وہ دین سے بھی بیزار ہو گیا اور دینی شخصیتوں سے بھی۔ علماء کا یہ حال تھا کہ جانوروں کی طرح آپس میں لڑتے۔ ایک عالم ایک فعل کو حرام بتاتا اور دوسرا عالم اس اسی فعل کو حلال قرار دیتا۔ ملا بدایونی لکھتے ہیں علماء عہد خیش را بہتر از غزالی و راضی تصور نمودا بودن۔

رکاکت ہائے ایشا رہائے عیشا رکاکت ہائے عیشاں رادی قیاس غائب بر شاہد کردہ سلف رانیز منکر شدن۔ اکبر اپنے زمانے کے علماء کو غزالی اور رازی سے بہتر سمجھتا تھا۔ جب اس نے اس کی پست حرکتوں کو دیکھا تو حال پر ماضی کو قیاس کر کے سب کا منکر ہو گیا۔ اس کے بعد اکبر کے دربار میں علماء کا وقار ختم ہو گیا۔

ابو الفضل اور فیضی جیسے لوگ دربار شاہی میں اہمیت اختیار کر گئے۔ اکبر کو علماء کی باتوں کی کوئی پرواہ نہیں رہی۔ ابو الفضل اکبر کے سامنے علماء کا مذاق اڑاتا اور اکبر اس کو سن کر خوش ہوتا۔ ملا بدایونی کے الفاظ میں کسی بحث کے درمیان اگر ائمہ مجتہدین کی کوئی بات پیش کی جاتی تو ابو الفضل اس کو نظر انداز کرتے ہوئے کہتا کہ فلاں حلوائی فلاں کفش دوز اور فلاں چرم ساز کے قول سے تم میرے اوپر حجت قائم کرنا چاہتے ہو۔

حسد اور کبر یہودی علماء کا عام مرض تھا۔ یہی ہمارے علماء کا بھی سب سے زیادہ عام مرض بن گیا ہے۔ صحابہ کرام بھی دین کے عالم تھے مگر ان کے درمیان حسد اور کبر کا وجود نہ تھا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ بعد کے زمانے کے علماء کے اندر یہ اخلاقی برائی اس قدر عمومی طور پر پیدا ہوگئی؟

اس کی وجہ خود علم کا فرق ہے۔ صحابہ کرام کے زمانے میں عالم ہونے کا مطلب کچھ اور تھا اور بعد کے زمانے میں عالم ہونے کا مطلب کچھ اور۔ صحابہ کرام کا نصاب تعلیم صرف قرآن و حدیث تھا۔ اس کے برعکس بعد کے زمانے میں دینی نصاب کے نام سے جو تعلیمی نصاب رائج ہوا اس میں قرآن و حدیث برائے نام رہ گئے اور اصل اہمیت دوسرے فنون نے لے لی۔

اس فرق کا نتیجہ لازماً ظاہر ہونا تھا کیونکہ قرآن و حدیث کے علم سے آدمی کے اندر خشیت پیدا ہوتی ہے۔ فاطر سورہ نمبر 35 آیت 28 اور فنی علوم سے احساس برتری غافر سورہ نمبر 40 آیت 83 علم کے ساتھ عام طور پر بڑائی کا احساس پیدا ہو جاتا ہے۔ اس سے مستثنیٰ صرف خدا کا علم ہے۔ خدا کا علم ایک ایسا علم ہے جس میں آدمی مالک کائنات کی عظمت اور اس کے مقابلے میں اپنے عجز کو دریافت کرتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ خدائی علم آدمی کے اندر خاکساری پیدا کرتا ہے۔ جبکہ دوسرے علوم آدمی کے اندر عجب اور عجب اور گھمنڈ پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ خدائی علم ابتدائی زمانے میں صرف خدا کی کتاب اور رسول کی سنت پر مشتمل ہوتا ہے۔ مگر بعد کے زمانے میں اس کو فنی بنانے کی کوشش شروع ہو جاتی ہے۔

فنی بنانے کی کوشش میں سادہ خدائی علم اس اس سطح پر پہنچ جاتا ہے جو عام دنیاوی علوم کی سطح ہے۔ مشکل اصطلاحیں پیچیدہ اسلوب منطقی ترتیب دو رازکار بحثیں دور ازکار بحثیں وغیرہ مل کر دینی علم کو ایسی شکل دے دیتے ہیں کہ وہ کہنے کے لیے بظاہر ایک دینی علم ہوتا ہے مگر اپنے مجموعی تاثر کے اعتبار سے وہ ایک عام علم بن جاتا ہے۔ اس کو پڑھنے سے آدمی کے اندر نہ کوئی ربانی شعور جاگتا اور نہ اس کے دل میں خوف خدا کا کوئی قطرہ ٹپکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے علم کے ماہرین وہی کچھ کریں گے جس کی ایک تصویر اوپر کے واقعے میں نظر آتی ہے۔

کتاب اسباق تاریخ مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 301۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.