Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Jidd-o-Johd

Urdu · 4 min

جدوجہد جدوجہد نام ہے اپنے آپ کو خدا کے منصوبے میں شامل کرنے کا۔ ہندوستان میں مغربی قوموں کے لیے داخلے کا راستہ سب سے پہلے واسکو ڈی گاما 1460-1524 نے پیدا کیا۔ اس کے بعد پرتگالی اور فرانسیسی قومیں اس ملک کے ساحلی علاقوں میں داخل ہوئیں۔ آخر میں انگریز آئے اور ڈیڑھ سو برس کے اندر انہوں نے پورے برصغیر پر قبضہ کر لیا: ہند، پاکستان، بنگلہ دیش، سیلون، برما، تبت، نیپال—سب انگریز کے جھنڈے کے نیچے آ گئے۔

ہندوستان پر اپنے قبضے کو دائمی بنانے کے لیے انہوں نے نہرِ سوئز پر قبضہ کیا اور اس کے بیشتر حصے مہنگی قیمت پر خرید لیے۔ انگریزوں نے نہ صرف ہندوستان کی سیاست اور معیشت پر قبضہ کیا بلکہ یہاں کی سرکاری زبان بدل دی، تعلیمی نظام ایسا بنایا جس سے ایسی نسل پیدا ہو جو لارڈ میکالے کے الفاظ میں "پیدائش کے اعتبار سے ہندوستانی" اور "خیالات کے اعتبار سے انگریز" ہو۔ عیسائی مشنریوں نے حکومت کی مدد سے مسلح ہو کر پورے ملک کو عیسائی بنانے کا کام شروع کر دیا۔ اس طرح ایک ایسی حکومت جس کی وسعت اتنی زیادہ تھی کہ اس کی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا، اپنے تمام وسائل اور تہذیبی طاقت کے ساتھ ملک کے اوپر چھا گئی، اور اپنے اقتدار کو مستقل بنانے کے لیے وہ سب کچھ کیا جو اس مادی دنیا میں—اور وہ بھی آج کے ترقی یافتہ دور میں—کوئی کر سکتا ہے۔

مگر اگست 1947 کا انقلاب بتاتا ہے کہ بات وہیں ختم نہیں ہو جاتی جہاں کوئی اپنے طور پر اسے ختم سمجھ لیتا ہے۔ کوئی قوم خواہ کتنی ہی بڑے پیمانے پر دوسری قوم کے اوپر غالب آ جائے، پھر بھی کچھ ایسے گوشے باقی رہتے ہیں جہاں سے جدوجہد کر کے دبی ہوئی قوم دوبارہ نئی زندگی حاصل کر لے۔ پھر اس انقلاب ہی کی تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ یہ کام محض جھنجھلاہٹ کے ساتھ سر ٹکرانے سے نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے ضرورت ہے کہ حالات کو گہرائی کے ساتھ سمجھا جائے، اور حریف کے اس نازک گوشے کو تلاش کیا جائے جہاں سے مؤثر جدوجہد کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔

خدا نے اپنی دنیا کو اس ڈھنگ پر بنایا ہے کہ یہاں ہر بار گرنے کے بعد اس کے بندوں کے لیے دوبارہ ابھرنے کا ایک نیا امکان باقی رہے۔ مگر یہ امکان اسی کے لیے واقعہ بنتا ہے جو اپنے آپ کو خدائی اسکیم کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے تیار ہو۔ جو اپنی خود ساختہ راہوں پر دوڑنا شروع کر دے، اس کے لیے خدا کی اس دنیا میں ابدی بربادی کے سوا اور کچھ نہیں۔ گھڑی کی سوئی بظاہر جہاں سب سے زیادہ قریب نظر آتی ہے، وہ اس کا شیشہ ہے۔

لیکن گھڑی کی سوئی گھمانے کے لیے کوئی شخص اس کے شیشے پر زور آزمائی نہیں کرتا، بلکہ اس کی چابی پر اپنا ہاتھ لے جاتا ہے۔ مگر کیسی عجیب بات ہے کہ ملت کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ہمارے تمام لیڈر گھڑی کے شیشے پر زور آزمائی کر رہے ہیں، خواہ اس کا نتیجہ یہی کیوں نہ ہو کہ سوئی تو نہ گھومے، البتہ غلط طریقۂ عمل کی وجہ سے مسائل میں کچھ اور اضافہ ہو جائے۔ کتاب "اسباقِ تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 299۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.