Maulana Wahiduddin Khan
8 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Kitna Farq

Urdu · 8 min

کتنا فرق! 17ویں صدی میں جبکہ مغربی قومیں ایشیا اور افریقہ میں داخل ہوئیں، ان سے پہلے ان کے سیاح کثرت سے ان ملکوں میں آئے۔ انہوں نے یہاں کی مقامی زبانیں سیکھیں، لوگوں سے میل جول پیدا کیا، لمبی لمبی مدت تک یہاں رہے۔ اس کے بعد انہوں نے یہاں کے حالات کے بارے میں تفصیل سے کتابیں لکھیں، اور اپنی حکومتوں اور اپنی قوموں کو یہاں کے حالات سے باخبر کیا۔

انہی میں سے ایک فرانسیسی سیاح ڈاکٹر برنیئر ہیں۔ انہی میں سے ایک فرانسیسی سیاح ڈاکٹر برنیئر ہے۔ وہ ایک باقاعدہ تعلیم یافتہ طبیب تھا، اس کے طب نے اس کو موقع دیا کہ وہ جہاں جائے وہاں زیادہ سے زیادہ لوگوں کے درمیان گھل مل کر رہ سکے۔ وہ اپنے اس فن کی وجہ سے اعلیٰ شخصیتوں تک رسائی کے قابل ہو گیا۔

برنیئر 1620 عیسوی میں پیدا ہوا۔ 1647 میں اس نے جرمنی، پولینڈ، سوئٹزرلینڈ اور اٹلی کی سیاحت کی، اور ان ملکوں کی سماجی اور سیاسی زندگی کو قریب سے دیکھا۔ 1654 میں برنیئر ایشیا کے لیے روانہ ہوا، چند سال تک شام، مصر، فلسطین وغیرہ میں گھوما، اور 1658 عیسوی میں ہندوستان میں سورت کی بندرگاہ پر اترا۔ یہ شاہجہاں کا آخری زمانہ تھا، اور اس کے بیٹوں میں اقتدار کی جنگ جاری تھی۔

برنیئر ہندوستان میں 14 سال تک رہا۔ یہاں وہ سورت سے لے کر کشمیر تک بے شمار بستیوں میں گیا، اور ہندوستانی زندگی کے ہر شعبے کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کی۔ وہ لکھتا ہے کہ میں نے پلوٹاک کے اس قول پر عمل کیا ہے کہ جزئی اور معمولی باتوں کو بھی ضرور جاننا چاہیے۔ کسی قوم کے متعلق رائے قائم کرنے کے لیے وہ بڑی بڑی باتوں سے زیادہ کارآمد ہیں۔

ہندوستان سے واپس ہو کر برنیئر جب فرانس پہنچا تو اس نے فرانس کے بادشاہ لوئی چہاردم کے سامنے اپنا سفرنامہ ان الفاظ کے ساتھ پیش کیا: "دریائے سِین سے نکل کر دجلہ، فرات، سندھ یا گنگا جہاں بھی میں پہنچا، فرانس جہاں بھی میں پہنچا، فرانس اور اس کے شہنشاہ کے بارے میں لوگوں کی بہت اونچی رائے پائی۔ " ہندوستان کے شہروں کا گہرا جائزہ لینے کے بعد برنیئر نے لکھا: "یہاں کے شہر اور قصبے، خواہ اس وقت بظاہر خستہ حال اور ویران نہ ہوں۔ " ہندوستان کے شہروں کا گہرا جائزہ لینے کے بعد برنیئر نے لکھا: "یہاں کے شہر اور قصبے، خواہ اس وقت بظاہر خستہ حال اور ویران نہ ہوں، مگر ایسا شہر کوئی نہیں جس میں جلد تباہ اور خراب ہو جانے کی علامتیں نہ پائی جاتی ہوں۔ " صفحہ 227۔

ہندوستان کی اس وقت کی فوجوں کے بارے میں اس نے لکھا: "جب میں ان بے ترتیب فوجوں کو دیکھتا تھا کہ حیوانوں کے گلوں کی مانند چلتی ہیں، حیوانوں کے گلوں کی مانند چلتی ہیں، تو ہمیشہ یہ خیال آتا تھا کہ ہمارے صرف 25,000 تجربہ کار سپاہی پرنس گوندی یا مارشل تورین کی قیادت میں ہندوستان کی فوج پر، خواہ وہ کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو، غالب آ سکتے ہیں۔ " صفحہ 55۔ برنیئر نے اپنے تقریباً 500 صفحات کے سفرنامے میں لکھا کہ ہندوستان میں تخت نشینی کے لیے جنگ ہونا لازمی ہے، کیونکہ جانشینی کے واضح اصول نہ ہونے کی وجہ سے کسی شہزادے کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا کہ یا تو خود تخت حاصل کرے یا اپنے بھائیوں کے ہاتھوں قتل ہونے کے لیے تیار ہو جائے۔ اس نے لکھا کہ شاہی امراء کا اعزاز موروثی نہ ہونے کی وجہ سے یہاں ایک مستقل طبقہ، امراء، وجود میں نہیں آ پاتا۔

جب تک ایسا نہ ہوگا، سیاسی نظام کا استحکام ممکن نہیں ہے۔ وغیرہ۔ مغربی ملکوں کے سیاح جس زمانے میں اپنی قوموں اور بادشاہوں کو اس قسم کی معلومات دے رہے تھے، ٹھیک اسی زمانے میں ہمارے یہاں کیا حال تھا؟ عین اس زمانے میں لال قلعے کے حکمران کو اس کے خسیدے، خواہ شاہ، خواہ شاہجہاں کا خطاب دے رہے تھے، اور اس کے ذہن پر یہ تصور بٹھا رہے تھے کہ جو ہندوستان کا بادشاہ ہے، وہی سارے عالم کا بادشاہ ہے۔

اورنگزیب کے استاد ملا محمد صالح اپنے شاگرد شہزادے کو یہ بتا رہے تھے کہ یورپ بس ایک چھوٹے سے جزیرے کے برابر ہے۔ فرانس اور اندلس کے بادشاہ ایسے ہی ہیں جیسے ہندوستان کے چھوٹے چھوٹے راجہ۔ وہ اورنگزیب کو ایسے فلسفے اور منطق کا ماہر بنا رہے تھے جو جنگی مقابلوں، طرز حکمرانی اور قوموں کے ترقی و تنزل کو سمجھنے میں کام آنا تو درکنار، اس قابل بھی نہ تھا کہ وہ آدمی کے اندر ایسا ذہن بنائے جو دلیل، دلیلِ صحیح کے بغیر کسی چیز کو تسلیم نہ کرے، اور اپنے اور غیر کے بارے میں حقیقی بنیادوں پر رائے قائم کر سکے۔ برنیئر نے اپنے سفرنامے میں تفصیل سے بتایا ہے کہ مغل شہزادوں کی تعلیم و تربیت کتنے غیر حقیقی انداز میں دی جاتی ہے۔

صفحہ 156۔ یہ 300 سال پہلے کا واقعہ ہے، مگر حیرت انگیز بات ہے کہ آج بھی صورتحال ہمارے یہاں زیادہ مختلف نہیں۔ آج جبکہ دوسری قوموں کے رہنما اپنی قوموں کو حقیقت پسندی کا سبق دے رہے ہیں، مسلم قائدین ہر جگہ مسلمانوں کو جذبات کی شراب پلانے میں مشغول ہیں۔ کوئی پراسرار عملیات میں کامیابی کا راز بتا رہا ہے، کوئی شاعری اور خطابت میں، کوئی جلسہ جلوس میں ترقی کا راستہ دکھا رہا ہے، اور کوئی سیاسی اکھاڑ پچھاڑ میں، کوئی تجویزوں اور بیانات کے ذریعے ملت کی تعمیر کا یقین دلا رہا ہے۔

اور کوئی دوروں اور تقریروں کے ذریعے۔ ہمارے یہاں ملا محمد صالح تو بے شمار ہیں، مگر ڈاکٹر برنیئر کوئی ایک بھی نہیں۔ پوری ملت ایسے افراد سے خالی نظر آتی ہے جو آج کی دنیا کا گہرائی کے ساتھ جائزہ لیں، اور خالص واقعاتی انداز میں وقت کے حقائق سے ملت کو باخبر کریں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ملا محمد صالح بننے کے لیے تو صرف ابن الوقتی کا سرمایہ کافی ہے، جبکہ ڈاکٹر برنیئر بننے کے لیے پرمشقت عمل درکار ہے، اور اپنے کو مشقت میں ڈالنے کے لیے کوئی تیار نہیں۔

کتاب "اسباق تاریخ مولانا وحید الدین خان"، صفحہ نمبر 296۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.