Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Tareekh Sabaq Deti hai

Urdu · 5 min

تاریخ سبق دیتی ہے: آٹو مین لینڈر 1895-1980 ایک یہودی سائنسدان تھا، وہ جرمنی میں پیدا ہوا، دوسری جنگ عظیم کے زمانے میں وہ ہٹلر کے وی ٹو راکر کے منصوبے میں کام کر رہا تھا۔ ہٹلر کے زمانے میں جرمنی میں پہلی بار یہ راکٹ تیار کیے گئے، ان راکٹوں نے لندن میں زبردست دہشت پھیلا دی تھی۔ ہٹلر نے جب اپنے ملک کے یہودیوں کے خلاف ظلم و زیادتی شروع کی تو آٹو مین لینڈر اور دوسرے یہودی سائنسدان ہٹلر سے سخت برہم ہو گئے۔ اس برہمی کا ایک نتیجہ یہ ہوا کہ آٹو مین لینڈر اور تقریباً ایک درجن یہودی سائنسدان، جو ہٹلر کے راکٹ کے منصوبے میں کام کر رہے تھے، وہ ضروری سامان اور فنی راس لے کر بھاگے اور ان کو امریکہ کے حوالے کر دیا۔

امریکہ میں بھی راکٹ کی سائنس پر ابتدائی تجربات ہو رہے تھے۔ جرمنی کے یہودی ماہرین کی مدد حاصل ہونے کے بعد اس تحقیق میں مزید تیزی پیدا ہوئی، چنانچہ امریکہ نے راکٹ تیار کر کے جرمن علاقوں پر اتنی تیزی سے حملے کیے کہ ہٹلر کو دفاع کی پوزیشن میں ڈال دیا۔ انہیں جرمن یہودیوں کی مدد سے امریکہ نے وہ ایٹم بم تیار کیے جو 1945 عیسوی میں جاپان پر گرائے گئے، اور جس کے بعد دوسری جنگ عظیم کا فیصلہ اتحادیوں کے حق میں ہو گیا۔ 21 جنوری 1980 عیسوی۔

تاریخ میں اس طرح کے واقعات بار بار ہوئے ہیں۔ کسی شخص یا گروہ کے زوال کا سبب اکثر اس کے وہ اپنے لوگ ہوتے ہیں جن کو وہ شخص یا گروہ اپنی آمرانہ پالیسی کی بنا پر ناراض کر دیتا ہے۔ یہ ناراض لوگ منفی نفسیات کا شکار ہو جاتے ہیں اور بغض معاویہ کے جذبے کے تحت اس کے دشمنوں سے مل جاتے ہیں۔ اپنوں کے اس تعاون سے دشمن کو غیر معمولی طاقت حاصل ہوتی ہے۔

اس کے لیے ممکن ہو جاتا ہے کہ اپنے حریف کے خلاف زیادہ مؤثر اقدام کر سکے۔ وہ نہایت آسانی کے ساتھ اپنے حریف کو کچل کر رکھ دیتا ہے۔ حریف کے ساتھیوں کی مدد اس کے لیے اس مہم کو آسان کر دیتی ہے جو تنہا اپنی قوت سے اس کے لیے مشکل بنی ہوئی تھی۔ یہ بات ایک خاندان کے لیے بھی صحیح ہے اور ایک حکومت کے لیے بھی، اور اسی طرح ایک پوری قوم کے لیے بھی۔

اپنوں کا ٹوٹ کر حریف سے ملنا بہت سے پہلوؤں سے نہایت خطرناک ہے۔ اس کا ایک سنگین پہلو یہ ہے کہ حریف کو اپنے دشمن کے راز معلوم ہو جاتے ہیں۔ وہ دشمن کے کمزور پہلوؤں کو جان کر اس کے مطابق اپنا منصوبہ بناتا ہے، اور ٹھیک اس مقام پر وار کرتا ہے جہاں اس کا حریف سب سے کم مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں ہو۔ موجودہ زمانے کی مسلم تحریکوں نے ظالمانہ نظام کو ختم کرنے میں غیر معمولی کامیابی حاصل کی، مگر یہی تحریکیں عادلانہ نظام کو قائم کرنے میں سراسر ناکام رہیں۔

اس کی وجہ مذکورہ بالا حقیقت کی روشنی میں سمجھی جا سکتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ ایک ظالمانہ نظام کو توڑنے کے لیے صرف ظلم دشمنوں کی فوج مل جانا کافی ہے، اور وہ ذاتی اسباب کے تحت بہت آسانی سے مل جاتی ہے۔ مگر عادلانہ نظام کو قائم کرنے کے لیے عدل دوستوں کی ضرورت ہے، اور حقیقی معنوں میں عدل دوست اتنے کم ہیں کہ صرف امکان ہی کے درجے میں ان کا وجود تسلیم کیا جا سکتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ مشترک دشمنی کی بنیاد پر قائم ہونے والا اتحاد، مشترک دوستی کی بنیاد نہ پا کر ٹوٹ جاتا ہے۔

نفرت اور بغض کی بنیاد پر اٹھنے والی تحریک، محبت کی فضا پیدا نہیں کر سکتی۔ اسی طرح ظلم دشمنی کی بنیاد پر اٹھنے والی بھیڑ، عدل دوستی کا نظام قائم نہیں کر سکتی۔ کتاب "اسباق تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 294۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.