Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Zimmedaar Kaun

Urdu · 7 min

ذمہ دار کون؟ 19ویں صدی کے وسط کا واقعہ ہے، فرانس کے ایک مسیحی، مسٹر لیون روش، نے اسلام قبول کر لیا۔ وہ امیر عبدالقادر الجزائری کے یہاں آیا اور امیر کے ہاتھ پر اسلام لایا۔ اس کے بعد امیر عبدالقادر الجزائری نے اس کو قربت دی، اس کو اپنا مشیرِ خاص بنا لیا، کئی مہمات میں اس کو بھیجا۔

اسی طرح اس کو جزیرہ عرب بھیجا جہاں اس نے حج ادا کیا۔ لیون روش کی شادی الجزائر کی ایک مسلمان خاتون سے ہوئی، دونوں تقریباً 17 سال تک ایک ساتھ رہے۔ اس کے بعد ایسا ہوا کہ فرانس کی فوجیں الجزائر میں داخل ہو گئیں۔ جنگ کے بعد بالآخر فرانس کو امیر عبدالقادر الجزائری پر فتح حاصل ہوئی۔

اس فتح کے بعد لیون روش، فرانسیسی جنرل الدوک دومال سے اس فتح کے بعد لیون روش، فرانسیسی جنرل الدوک دومال سے مل گیا اور کھلم کھلا اعلان کر دیا کہ میں نے اسلام کو چھوڑ کر دوبارہ مسیحیت اختیار کر لی ہے۔ یہ واقعہ لیون روشن کی مسلمان بیوی کے لیے بہت اندوہناک تھا۔ اس نے کہا کہ اسلام نے اب میرے اور تمہارے درمیان جدائی کر دی ہے، اور میں نہیں چاہتی کہ تیرے جیسا سانپ زندہ رہے اور لوگ مجھ کو تیری وجہ سے غیرت دلائیں۔ چنانچہ اس نے خنجر لے کر لیون کو قتل کر ڈالا۔

الثقافة العربية, طرابلس, دسمبر 1982۔ اس طرح کے ارتداد کے واقعات کو عام طور پر اس معنی میں لیا جاتا ہے کہ متعلقہ شخص محض منافقانہ طور پر اسلام میں داخل ہوا تھا اور اپنا کام پورا کر کے اسلام سے نکل گیا۔ ممکن ہے کہ بعض ایسے واقعات بھی ہوں، مگر اس نظریے کو ارتداد کے تمام واقعات پر چسپاں کرنا صحیح نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں اسلام قبول کرنے والے زیادہ تر وہ ہیں جو کسی تبلیغی جدوجہد کے نتیجے میں مسلمان نہیں ہوتے، بلکہ اپنے آپ اسلام قبول کر لیتے ہیں۔

میں نے بہت سے نو مسلموں سے بات کر کے یہ اندازہ کیا ہے کہ ان کے اسلام کا سبب کوئی گہرا فکری انقلاب نہیں ہوتا۔ یہ اکثر وہ لوگ ہوتے ہیں جو پہلے سے مذہب کے معاملے میں متشدد اور متمحس نہیں ہوتے۔ وہ کسی وقتی اور معمولی پسندیدگی کی بنا پر اسلام قبول کر لیتے ہیں۔ اب اگر ان کو خوش قسمتی سے موافق حالات مل گئے تو وہ دھیرے دھیرے اسلام میں پختہ ہو جاتے ہیں۔

ان کا ابتدائی معمولی تاثر بالآخر گہرے اسلامی تاثر میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ مگر جن کو اسلام کے بعد اچھے حالات نہ ملے، ان کا اسلام کمزور ہوتا رہتا ہے۔ وہ ان کے شعور کی زمین میں جڑ نہیں پکڑتا۔ ان میں سے کچھ لوگ اپنے کمزور اسلام کے ساتھ زندگی گزارتے رہتے ہیں، اور کچھ لوگ دوبارہ اپنے سابق معاشرے کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔

وہ جس طرح ایک معمولی سبب کے پیش آنے سے اسلام میں داخل ہوئے تھے، اسی طرح دوسرا معمولی سبب پیش آنے سے اسلام کے باہر چلے جاتے ہیں۔ ایک نو مسلم کا مسلم معاشرے میں جذب ہونا مسلم معاشرے کی ذمہ داری ہے، مگر مسلم معاشرہ یہاں اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتا۔ اس صورتحال کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نو مسلم اپنے نئے ہم مذہبوں کے درمیان ایک قسم کا اجنبی بن جاتا ہے۔ یہ اجنبیت کبھی کبھی اپنی انتہا پر پہنچ کر وہ صورت اختیار کر لیتی ہے جس کو ہم ارتداد کہتے ہیں۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ ارتداد کے اکثر واقعات دشمنانِ اسلام کی سازش سے زیادہ مسلمانوں کی غفلت کا نتیجہ ہیں۔ یہ غفلت خاص طور پر تین قسم کی ہے۔ نمبر 1: دعوت و تبلیغ کا کام ہمارے یہاں اس نہج پر نہیں ہو رہا ہے کہ وہ لوگوں کے اندر گہرا فکری انقلاب پیدا کرے۔ آدمی شعوری تبدیلی کے بغیر کسی سطحی یا عارضی سبب سے اسلام قبول کر لیتا ہے۔

ظاہر ہے کہ ایسا اسلام بہت زیادہ دیرپا نہیں ہو سکتا۔ نمبر 2: ایک نو مسلم جب اسلام قبول کرتا ہے تو وہ ایک بالکل مختلف معاشرے سے نکل کر اسلام میں آتا ہے۔ ایسی حالت میں اس کو اسلام میں پختہ کرنے کے لیے اس کی تربیت انتہائی ضروری ہے۔ مگر مسلمانوں کے یہاں ایسے لوگوں کی ذہنی اور فکری تربیت کا کوئی سامان موجود نہیں۔

یہ تربیت تمام تر مسلمانوں کی ذمہ داری ہے، مگر اس کے لیے انہوں نے اب تک کچھ نہیں کیا۔ نمبر 3: تیسرا مسئلہ معاشرے کا ہے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد نو مسلم ایک طرف اپنے معاشرے سے کٹ جاتا ہے، دوسری طرف مسلم معاشرہ بھی اس کو بھرپور طور پر قبول نہیں کرتا۔ یہ دو طرفہ اجنبیت اس مخلوق کے لیے یقیناً ناقابلِ برداشت ہے، جس کی تعریف سماجی حیوان یعنی سوشل اینیمل سے کی گئی ہے۔

اس طرح کے مختلف اسباب اکثر نو مسلموں کے اندر چھپی ہوئی بے چینی بن کر موجود رہتے ہیں۔ وہ مسلسل عدمِ اطمینان کا شکار رہتے ہیں، اور کوئی بڑا واقعہ پیش آنے کی صورت میں اسلام کو چھوڑ کر دوبارہ اپنے ماضی کی طرف چلے جاتے ہیں۔ کتاب "اسباقِ تاریخ"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 292۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.