Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Baland Kirdari

Urdu · 3 min

بلند کرداری۔ ہندوستان میں مسلمان بادشاہ بھی آئے اور مسلمان صوفی بھی، مگر ہندوستان کی غیر مسلم قوموں نے بادشاہوں کو اپنا رقیب سمجھا اور صوفیوں کو احترام کی نظر سے دیکھا۔ انہوں نے بادشاہوں سے لڑائیاں کیں، مگر صوفیوں کے آگے وہ عقیدت سے جھک گئے، حتیٰ کہ ان میں سے لاکھوں لوگوں نے ان کے مذہب یعنی اسلام کو قبول کر لیا۔ آج بھی ہندوستان کے لوگ مسلم صوفیوں کا نام عزت سے لیتے ہیں، ان کے مزاروں اور درگاہوں پر حاضری دینے والوں میں ان کی تعداد مسلمانوں سے بھی زیادہ ہوتی ہے، جبکہ مسلمان بادشاہوں کے لیے ان کے دل میں کوئی نرم گوشہ نہیں۔

اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ مسلم بادشاہ ان کو اپنی سطح پر نظر آتے تھے، اور مسلم صوفی اپنے سے اونچی سطح پر۔ لوگوں نے دیکھا کہ جس طرح وہ دولت کے حریص ہیں، اسی طرح مسلم بادشاہ بھی دولت کے حریص ہیں۔ لوگ اقتدار کے لیے لڑتے ہیں، اور مسلم بادشاہ بھی اقتدار کے لیے لڑتے ہیں۔ لوگ اپنی خواہش کے پیچھے چلتے ہیں، اور مسلم بادشاہ بھی اپنی خواہش کے پیچھے چلتے ہیں۔

لوگ دوسروں کو لوٹتے ہیں، اور مسلم بادشاہ بھی دوسروں کو لوٹتے ہیں۔ مسلم بادشاہ لوگوں کو اسی طرح اسی عام سطح پر نظر آئے جہاں وہ خود تھے۔ ایسی حالت میں مسلم بادشاہوں کے لیے ان کے دل میں کوئی اعلیٰ جذبہ ابھرتا تو کیسے ابھرتا؟ مگر مسلم صوفیوں کا معاملہ اس سے مختلف تھا۔

انہیں دولت کی تمنا نہ تھی، وہ اپنی فقیری میں مگن تھے۔ اقتدار کو چاہنا تو درکنار، وہ اقتدار سے دور بھاگنے والے لوگ تھے۔ انہوں نے اپنی خواہش کو معبود نہیں بنایا تھا، بلکہ ان کا حال یہ تھا کہ وہ سخت قسم کی نفسیاتی ورزشیں کرتے تھے تاکہ اپنی خواہش کے شیطان کو زیر کر سکیں۔ وہ دوسروں سے صرف محبت کرنا جانتے تھے، ان کے یہاں نفرت کا کوئی گزر نہ تھا۔

ان صوفیوں کا یہ حال تھا کہ اپنے دشمنوں اور مخالفوں کے لیے بھی ان کے پاس جو چیز تھی وہ دعا اور خیر خواہی تھی، نہ کہ نفرت اور انتقام۔ ایک صوفی کو ایک شخص نے ایک بار پتھر مارا، صوفی کو چوٹ لگی، مگر وہ غصہ نہیں ہوا بلکہ آگے بڑھ کر اس آدمی کو سینے سے لگا لیا۔ مارنے والے نے پوچھا کہ آپ نے مجھ کو سینے سے کیوں لگایا جبکہ میں نے آپ کو مارا تھا؟ صوفی نے جواب دیا کہ تمہارے اندر ایک برائی ہے، اس لیے تم سب سے زیادہ اس کے مستحق ہو کہ تم کو سینے سے لگایا جائے۔

اس واقعے کے بعد اس شخص نے توبہ کر لی اور صوفی کا مرید ہو گیا۔ کتاب: اسباق تاریخ، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 291۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.