Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Safha-e-Ebrat

Urdu · 7 min

صفحۂ عبرت: ریاض کے عربی ماہ نامہ "الفیصل"، سفر 1414 ہجری میں کرسٹوفر کولمبس 1451 تا 1506 عیسوی کے بارے میں ایک تحقیقی مضمون چھپا ہے۔ اس کا عنوان ہے: "لماذا خطأ كولمبس؟ " یعنی کولمبس نے کیوں غلطی کی؟ اس کے لکھنے والے دکتور مظفر صلاح الدین شعبان ہیں۔

اس مضمون کا ایک پیراگراف یہ ہے: "في الفترة الممتدة من القرن الثامن وحتى القرن الثاني عشر، كانت اللغة العربية هي لغة العلوم لغالبية الجنس البشري، ولهذا السبب فقد اعتبر كولمبس اللغة العربية أم جميع اللغات، وهذا يفسر سبب اصطحابه معه في رحلته الأولى الإسبانية لويس دي تور، الذي يتقن العربية مترجماً خاصاً له." صفحہ 30: یعنی آٹھویں صدی سے لے کر بارہویں صدی عیسوی تک کے زمانے میں، عربی زبان ہی دنیا کے بیشتر لوگوں کی علمی زبان تھی، اور اسی بنا پر کولمبس نے عربی زبان کو تمام زبانوں کی ماں قرار دیا۔ اور اسی سے اس کا سبب بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ کیوں اپنے پہلے سفر میں ایک اسپینی لوئی دی تور کو خصوصی مترجم کے طور پر اپنے ساتھ لے گیا، جو کہ عربی زبان سے بخوبی واقف تھا۔ اس واقعے کا ذکر انسائیکلوپیڈیا "بریٹانیکا" میں اس طرح آیا ہے: "کولمبس چونکہ نہیں جانتا تھا کہ وہ جہاں جا رہا ہے، وہاں اس کو وحشی لوگ ملیں گے یا مہذب لوگ، اس نے اپنے جہازوں پر سستے اور معمولی سامان لاد دیے تاکہ وہ وہاں کے قدیم باشندوں سے ان کا سونا حاصل کر سکے۔ مگر اسی کے ساتھ اس نے ایک شخص، لوئی دی تور، کو اپنے جہاز میں بٹھایا، جو کہ ایک یہودی تھا اور وہ عبرانی اور کلدانی کے علاوہ کچھ عربی زبان بھی جانتا تھا۔

اس ضرورت کے پیشِ نظر کہ وہاں عظیم خان سے اس کی ملاقات پیش آ جائے۔ " "As Columbus did not know whether he was to come across new civilizations or old civilizations, he loaded his ships with cheap merchandise to relieve aboriginals of their gold, but also took on board one Louis de Taurus, who had been a Jew and knew Hebrew and cherried in a little Arabic, in case he met the Grand Khan. " انسائیکلوپیڈیا "بریٹانیکا"، والیوم 4، پیج 938: "یہ اس دور کی بات ہے جو 500 سال پہلے دنیا میں پایا جاتا تھا۔ اس وقت عربی زبان کا وہی مقام تھا جو آج انگریزی زبان کا مقام ہے۔

اس وقت عربوں کو وہی درجہ حاصل تھا جو آج اہل مغرب کو حاصل ہے۔ اس وقت عالمِ واقعات کی کنجی مسلمانوں کے ہاتھ میں تھی، جس طرح آج وہ غیر مسلموں کے ہاتھ میں دکھائی دیتی ہے۔ یہ تبدیلی کسی سازش کی بنا پر پیش نہیں آئی، بلکہ تمام تر فطرت کے قانون کے تحت پیش آئی۔ اس دنیا کے لیے خدا کا مقرر کیا ہوا قانون یہ ہے کہ جس کو جو کچھ ملے گا، استعداد کی بنا پر ملے گا، اور جس سے جو کچھ چھینے گا، بے استعدادی کی بنا پر چھن جائے گا۔

اس دنیا میں جو لوگ محروم رہ جائیں، انہیں دوسروں کی سازش یا تعدی کا انکشاف کرنے کے بجائے اپنی بے استعدادی کو ختم کرنا چاہیے، کیونکہ اگر وہ کچھ پائیں گے تو اپنی بے استعدادی کو ختم کر کے ہی پائیں گے۔ شکایت اور احتجاج کی بنیاد پر یہاں انہیں کچھ ملنے والا نہیں۔ موجودہ دنیا کو اس کے پیدا کرنے والے نے کسی خاص نسل یا کسی خاص گروہ کے لیے پیدا نہیں کیا ہے، بلکہ تمام انسانوں کے لیے پیدا کیا ہے۔ یہاں کسی ایک انسان کا جو حق ہے، وہی دوسرے تمام انسانوں کا حق بھی ہے۔

یہاں کوئی چیز صرف وہ لوگ پاتے ہیں جو فی الواقع اس کے حقدار ہوں۔ حقدار کون ہے؟ قرآن کے مطابق حقدار وہ ہے جس میں نفع بخشی کی صلاحیت ہو۔ قرآن، سورہ نمبر 13، آیت 17 میں فطرت کا ایک مستقل اصول یہ بتایا گیا ہے کہ جو چیز انسانوں کو نفع پہنچانے والی ہے، وہ زمین میں ٹھہر جاتی ہے۔

وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ "And that which is for the good of mankind remains on the earth." یہی اس دنیا کے تمام انسانوں کے لیے ابدی قانون ہے۔ یہاں قیام و استحکام صرف اس کو ملتا ہے جو نفع بخشی کا ثبوت دے، جو دوسروں کے لیے مفید ثابت ہو۔ کسی قوم کی زبان ہو یا اس کی حکومت، کسی قوم کا کلچر ہو یا اس کی اقتصادیات، کسی بھی چیز کو صرف اس وقت تک زمین کے اوپر برتری اور بالادستی حاصل ہوگی جبکہ اس میں دوسروں کو نفع پہنچانے کی صلاحیت ہو۔ نفع بخشی کی صلاحیت کھوتے ہی وہ اپنا غالب مقام بھی کھو دے گی۔

کتاب "اسباقِ تاریخ"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 288۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.