Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Khud Shikan Baniye

Urdu · 4 min

خود شکن بنیے۔ سبقت کین ایک ترکی غلام تھا، سامانی یعنی ایرانی حکمرانوں نے اس کو غزنہ یعنی افغانستان کا گورنر بنایا۔ بات کو حالات سے فائدہ اٹھا کر اس علاقے میں اس نے اپنی آزاد حکومت قائم کر لی۔ وہ 977 عیسوی سے لے کر 997 عیسوی تک اس غزنوی سلطنت کا حکمران رہا۔

سبقتین کے بعد اس کا لڑکا اس سلطنت کا حکمران بنا، جو محمود غزنوی 971 تا 1030 کے نام سے مشہور ہے۔ اس نے 1024 عیسوی میں پہلی بار سومنات، گجرات پر حملہ کیا۔ اس نے سنا تھا کہ یہاں شیو کا مندر ہے اور اس کے اندر بڑی مقدار میں سونا موجود ہے۔ وہ چاہتا تھا کہ مندر کو توڑ کر اس کا سونا حاصل کر لے۔

اس سے پہلے 1001 عیسوی میں محمود غزنوی نے پشاور کے قریب راجہ راجہ جیپال کا مقابلہ کیا تھا۔ اس وقت محمود غزنوی کے پاس صرف 15,000 فوجی تھے۔ اس کے مقابلے میں راجہ جیپال کے فوجیوں کی تعداد بہت زیادہ تھی، حتیٰ کہ اس کے پاس 300 ہاتھی بھی تھے۔ مگر محمود غزنوی نے اس مقابلے میں زبردست کامیابی حاصل کی۔

اس کی وجہ سے لوگوں کے اوپر اس کا ایک فوجی رعب قائم ہو گیا۔ چنانچہ محمود غزنوی جب اپنے لشکر کو لے کر سومنات پہنچا تو یہاں کے پنڈتوں نے اس سے مل کر یہ پیشکش کی کہ آپ ہمارے مندر کو نہ توڑیں۔ اس کے بدلے میں ہم آپ کو بڑی مقدار میں سونا چاندی پیش کر دیں گے۔ محمود غزنوی نے اس کے جواب میں کہا: "من بت شکنم نبت فروش" یعنی میں بت کو توڑنے والا ہوں، نہ کہ بت کو بیچنے والا۔

محمود غزنوی نے اپنے آپ کو اسلام کے نمائندے کی حیثیت سے پیش کیا، مگر اس کے اس فعل کا کوئی تعلق اسلام سے نہ تھا۔ بت شکن اسلام کا کوئی اصول نہیں۔ اسلام اپنے ماننے والوں کو خود شکن بناتا ہے، نہ کہ بت شکن۔ اور کسی مندر کا یا کسی بھی ادارے کا خزانہ لوٹ لوٹتا تو اس سے بھی زیادہ برا ہے۔

اور کسی مندر کا یا کسی بھی ادارے کا خزانہ لوٹنا تو اس سے بھی زیادہ برا ہے، کیونکہ وہ سراسر حرام ہے۔ خود شکن بننا یہ ہے کہ آدمی خواہش کے پیچھے نہ چلے، بلکہ اصول حق کا اتباع کرے۔ وہ کبر کی نفسیات سے اوپر اٹھے اور تواضع کا طریقہ اختیار کرے۔ وہ ذاتی مفاد کے بجائے انصاف کو اہمیت دے۔

وہ خود پرست کے بجائے خدا پرست بن جائے۔ کتاب "اسباق تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 287۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.