Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Budhiya ki Dileri

Urdu · 4 min

"بڑھیا کی دلیری" عباسی خلیفہ مامون الرشید، 107-218 ہجری، اپنے سیاسی مخالفین کے لیے نہایت بے رحم تھا، مگر عام لوگوں کے ساتھ وہ ہمیشہ ہمدردی سے پیش آتا تھا۔ ایک روز اس کے دربار میں بغداد کی ایک بوڑھی عورت آئی، اس نے خلیفہ مامون سے شکایت کی کہ میں ایک غریب عورت ہوں، میرے پاس ایک زمین تھی جس کو ایک ظالم نے مجھ سے چھین لیا۔ میں نے کتنی ہی فریاد کی، مگر اس نے نہیں سنا۔ میری داد رسی کی جائے۔

مامون نے پوچھا، "وہ کون ظالم ہے جس نے تمہارے ساتھ ایسا سلوک کیا ہے؟ " بڑھیا نے اشارے سے بتایا کہ وہ وہی ہے جو اس وقت آپ کے پہلو میں بیٹھا ہوا ہے۔ مامون نے دیکھا تو وہ اس کا لڑکا عباس تھا۔ مامون نے اپنے وزیر کو حکم دیا کہ وہ شہزادے کو پکڑ کر اٹھائے اور اس کو لے جا کر بڑھیا کے برابر کھڑا کر دے۔

وزیر نے ایسا ہی کیا۔ اب مامون نے حکم دیا کہ دونوں اپنا اپنا بیان دیں۔ شہزادہ عباس رک رک کر آہستہ آواز میں بولتا تھا، لیکن بڑھیا بلند آواز میں بول رہی تھی۔ وزیر نے بڑھیا کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ آہستہ بولو، خلیفہ کے سامنے زور زور سے بولنا آداب کے خلاف ہے۔

مامون نے اپنے وزیر کو روکا اور کہا، "اس کو آزاد چھوڑ دو، جس طرح چاہے اسے کہنے دو۔ " سچائی نے بڑھیا کی زبان تیز کر دی ہے، اور شہزادے کو اس کے جھوٹ نے گونگا بنا دیا ہے۔ بڑھیا کا دعویٰ صحیح تھا۔ چنانچہ مقدمے کا فیصلہ بڑھیا کے حق میں ہوا، اور اس کی زمین شہزادے سے لے کر اس کو واپس کر دی گئی۔

اخد الفرید لابن عبد ربیح، جلد 1، صفحہ 28۔ سچائی اپنی ذات میں ایک طاقت ہے۔ سچائی پر ہونے کا احساس آدمی کو دلیر بنا دیتا ہے۔ سچا آدمی بے دھڑک ہو کر بولتا ہے۔

سچے آدمی کا بیان تضاد اور تصنع سے خالی ہوتا ہے۔ اس کے کلام میں کوئی جھول نہیں ہوتا۔ سچا آدمی بولتا ہے تو اس کے چہرے پر احساسِ جرم کا کوئی نشان نہیں ہوتا۔ اس کی آواز جھجک سے خالی ہوتی ہے۔

اس بنا پر سچے آدمی کی آواز میں قوت آ جاتی ہے، وہ سننے والے کو مفتوح کر لیتی ہے۔ اس کے برعکس، جس آدمی کا معاملہ جھوٹ پر مبنی ہو، وہ کبھی قوت کے ساتھ نہیں بول سکتا۔ وہ ہمیشہ احساسِ جرم میں مبتلا رہتا ہے، جس کا اثر اس کے لہجے پر آ جاتا ہے۔ اس کا چہرہ بتا دیتا ہے کہ وہ بے یقینی کے ساتھ بول رہا ہے۔

جھوٹ کو سچ بنانے کی کوشش میں اس کے بیان کے اندر تضاد پیدا ہو جاتا ہے۔ زبان رکھنے کے باوجود وہ بے زبان ہو جاتا ہے۔ کتاب "اسباق تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 282۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.