Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Acha Gumaan Rakhiye

Urdu · 3 min

اچھا، گمان رکھیے: خلیفہ منصور عباسی وہ شخص ہے جس نے بغداد کا شہر بنایا۔ عباسی دور میں بغداد کو اتنی ترقی ہوئی کہ وہ دنیا کا سب سے عظیم شہر بن گیا۔ بغداد جیسے ایک شہر کی تعمیر بڑا مہنگا منصوبہ تھا۔ چنانچہ کچھ دنوں کے بعد خلیفہ منصور کو اس کے اخراجات بہت گراں گزرنے لگے۔

یہ دیکھ کر اس کے ایک درباری، ابو ایوب موریانی، نے خلیفہ کو مشورہ دیا کہ کسریٰ کے محل، جو بغداد سے کچھ فاصلے پر ہیں، ان کو توڑ دیا جائے اور ان کا اینٹ پتھر بغداد کی تعمیر میں استعمال کیا جائے۔ خلیفہ منصور کے وزیر خالد ابن برمک کو اس کی خبر ہوئی تو اس نے کہا کہ امیرالمومنین، ایسا نہ کیجیے، کسریٰ کے محل اسلام کی فتح کی نشان ہیں۔ ان کو دیکھ کر ہماری نسلوں کے اندر اسلام کی عظمت کا یقین بڑھتا ہے۔ مزید یہ کہ اس کو توڑنے کا جو خرچ ہے، وہ اس سے حاصل ہونے والے فائدے سے زیادہ ہے۔

مگر خلیفہ منصور نے خالد ابن برمک کی رائے کی پرواہ نہیں کی۔ اس نے کہا، تم کسریٰ کے محل کو توڑنے کی مخالفت اس لیے کر رہے ہو کہ تمہارے اندر ابھی تک عجمیت کا تعصب پایا جاتا ہے۔ خالد ابن برمک عجمی، یعنی ایرانی تھا۔ خلیفہ منصور نے اس کی رائے کو اس کے ایرانی النسل ہونے کے پس منظر میں دیکھا اور سمجھا کہ وہ کسریٰ کا محل توڑنے کی مخالفت اس لیے کر رہا ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ کسریٰ کی عظمت کا نشان باقی رہے۔

خلیفہ منصور نے کسریٰ کے محل کو توڑنے کا حکم دے دیا۔ مزدوروں اور کارکنوں کی ایک فوج اس کام پر لگ گئی کہ وہ محل کو توڑے اور اس کے پتھروں کو گدھوں اور خچروں پر لاد کر بغداد لے آئے۔ مگر بہت جلد منصور کو اندازہ ہوا کہ اس طرح جتنا عمارتی سامان ملتا ہے، اس سے زیادہ اس کے اوپر خرچ ہو رہا ہے۔ چنانچہ اس نے درمیان ہی میں اس کام کو روک دیا۔

تاریخ الطبری، جلد 7، صفحہ 650 تا 651: کسی کے مشورے کو مشورے کی حیثیت سے دیکھیے، اس کو بد نیتی پر محمول نہ کیجیے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کا قیاس غلط ہو اور مشورہ دینے والے نے واقعی وہ مشورہ دیا ہو جو آپ کے لیے سب سے بہتر اور مفید ہے۔ کتاب "اسباق تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 283۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.