← Asbaq-e-TareekhAsbaq-e-Tareekh
Jab kartab bazi ko kamaal samjhajane lage
Urdu · 6 min
جب کرتب بازی کو کمال سمجھا جانے لگے۔ کہا جاتا ہے کہ خلیفہ ہارون رشید کے دربار میں ایک شخص آیا اور کہا کہ اگر اجازت ہو تو میں اپنا ایک کرتب دکھاؤں۔ ہارون رشید نے اجازت دے دی۔ آدمی نے اس کے بعد اپنی جھولی سے بارے اپنی جھولی سے بارے بڑی بڑی سوئیاں نکالیں۔
آدمی نے اس کے بعد اپنی جھولی سے 12 بڑی بڑی سوئیاں نکالیں۔ اس نے ایک سوئی کو ہاتھ میں لے کر پھینکا تو وہ ایک فاصلے پر جا کر کھڑی کھڑی صورت میں زمین پر گڑ گئی۔ اب اس نے دوسری سوئی پھینک پھینک۔ اب اس نے دوسری سوئی پھینکی تو وہ پہلی سوئی کے سوراخ میں جا کر اٹک گئی۔
پھر اس نے تیسری سوئی پھینکی تو وہ دوسری سوئی کے سوراخ میں پیوست ہو گئی۔ اسی طرح وہ ایک ایک سوئی پھینکتا گیا اور ہر سوئی اپنے سے پہلے والی سوئی کے سوراخ میں داخل ہوتی چلی گئی۔ اور بالآخر 12 سوئیوں کا ایک جال بن گیا۔ ہارون رشید حیرت کے ساتھ یہ تماشہ دیکھتا رہا۔
آخر میں اس نے دس دس درہم ہاتھ میں لے کر آدمی کی طرف پھینکے اور کہا: "خذہا اف لک! اس کو لے، تجھ پر افسوس ہے۔ کاش تو نے کسی مفید کام میں یہ مہارت پیدا کی ہوتی۔ " جب مسلمان زندہ تھے تو ان کو معلوم تھا کرتب بازی میں اور ایک حقیقی کام میں کیا فرق ہے۔
مگر آج انہیں مسلمانوں کی بے شعوری کا یہ حال ہے کہ وہ اس فرق سے بے خبر ہو کر کرتب بازی پر وہ داد دے رہے ہیں جو صرف حقیقی عمل پر دی جانی چاہیے۔ خافیے میں خافیہ ملانے والے شاعر، الفاظ کا گلدستہ بنانے والے مقرر، سیاسی شوشوں سے قوم کا مستقبل برآمد کرنے والے قائد، سب اسی قسم کے کرتب باز ہیں جیسے ہارون رشید کے زمانے کا مذکورہ شخص۔ مگر ہارون رشید نے اپنے زمانے کے کرتب باز سے کہا تھا کہ "تیرا برا ہو" جبکہ آج کے کرتب بازوں کو شاندار خطابات مل رہے ہیں اور ہر طرف ان کے استقبالیہ جلسوں کی دھوم مچی ہوئی ہے۔ موجودہ زمانے کے کرتب بازوں کی فہرست میں سب سے آگے وہ انقلابی قائدین ہیں جو تقریروں کے ذریعے ہر روز شاندار محل کھڑے کرتے رہتے ہیں۔
ہارون کے زمانے کے آدمی نے اگر سوئیوں کا کھیل دکھایا تھا تو یہ لفظوں کی کھیل دکھا رہے ہیں۔ ایک قائد ایک عظیم اسلامی اجتماع میں تقریر کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنی پرجوش تقریر کو اس جملے پر ختم کیا: "مسلم نوجوانوں کو میرا پیغام ہے کہ کفر کے چراغ کو جہاں پاؤ بجھا دو۔ " اس قسم کی مجاہدانہ تقریریں آج ساری دنیا مسلم دنیا میں گونج رہی ہیں۔
انہوں نے مسلم نوجوانوں کو انتہائی جذباتی بنا دیا ہے۔ مگر کافر اقوام پر ان کا بس نہیں چلتا کیونکہ ان قوموں نے طاقت کے تمام اسباب جمع کر کے اپنے کو انتہائی طاقتور بنا لیا ہے۔ اور مسلمان ان کے مقابلے میں ہر لحاظ سے بے حد پیچھے ہیں۔ تاہم لوگوں کے بڑھے ہوئے جوش جہاد کو کوئی نشانہ درکار تھا۔
چنانچہ اب ہر ایک نے خود اپنے مسلم بھائیوں میں کفر کے چراغ دریافت کر لیے ہیں اور ہر ایک ان کو بجھانے میں مشغول ہے۔ کہیں یہ جہاد گولیوں کی بوچھار کے ذریعے جاری ہے۔ کہیں یہ جہاد گولیوں کی بوچھار کے ذریعے جاری ہے۔ اور جہاں اس کے مواقع نہیں ہیں وہاں اس سے کمتر کسی کارروائی کی صورت میں کفر کا چراغ بجھانے کا نعرہ عملاً اسلام کا چراغ بجھانے کے ہم معنی بن گیا ہے۔
کہیں فوجیں خود اپنے ملک میں چڑھائی کر کے فتح کے جھنڈے لہرا رہی ہیں۔ کہیں قائدین خود اپنے مسلمان سیاسی حریفوں کو قتل کر کے مجاہد کا لقب لے رہے ہیں۔ کہیں کوئی جماعت خود اپنے بھائی کو جارحانہ کارروائیوں کا نشانہ بنا کر باطل کو مٹانے کا کارنامہ انجام دے رہی ہے۔ کتاب "اسباق تاریخ" مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 280۔