Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Pukaar par Daudne wale

Urdu · 4 min

پکار پر دوڑنے والے مسلمانوں نے قدیم رومی یعنی بازنطینی سلطنت کے بڑے حصے کو پہلی صدی ہجری میں فتح کر لیا تھا، تاہم قسطنطنیہ اور اس کے آس پاس کا کچھ علاقہ اب بھی اس کے قبضے میں تھا اور یہاں اس کی بقیہ سلطنت کا مرکز قائم تھا۔ تیسری صدی ہجری کے آغاز میں قسطنطنیہ کا رومی بادشاہ طفیل بن میخائل تھا، 223 ہجری میں وہ ایک عظیم لشکر لے کر نکلا اور مسلم علاقے میں پہنچ کر زپترا میں زپترا پر چھاپا مارا۔ اسی کے ساتھ اس نے ملطیہ کے قلعے پر حملہ کیا، یہاں اس وقت زیادہ فوج موجود نہ تھی۔ ان حملوں میں اس نے بہت سے مردوں اور عورتوں کو قتل کیا، انہیں گرفتار کیا، اور بہت سے لوگوں کا مسلح کیا۔

اس موقع پر ایک واقعہ یہ پیش آیا کہ شاہ روم کے سپاہیوں نے ایک عربی عورت کو پکڑا تو وہ پکاری: وامتسماه، ها يا معتصم یہ خبر بغداد میں خلیفہ معتصم عباسی کو پہنچی تو وہ تڑپ اٹھا، وہ اس وقت اپنے تخت پر بیٹھا ہوا تھا، فوراً ہی لبیک لبیک کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔ وہ اپنے محل کی چھت پر چڑھا اور پکار کر کہا کہ کوچ، کوچ، کوچ، کوچ النفیر، النفیر، الكامل فی التاريخ لابن الاثیر جلد 6، صفحہ 38۔ اس کے بعد معتصم اپنی فوج کو لے کر روانہ ہوا، یہاں تک کہ وہ اموریہ یعنی ترکی میں پہنچا۔ اموریہ اس وقت رومیوں کے قبضے میں تھا اور یہاں ان کا قلعہ تھا۔

معتصم نے قلعے کو گھیر لیا اور حکم دیا کہ ان پر من جنیخ کے ذریعے گولے برسائے جائیں، یہاں تک کہ قلعے کی دیواریں ٹوٹ گئیں اور معتصم اپنی فوج کے قلعے کے اندر داخل ہو گیا۔ اب رومیوں کے لیے اس کے سوا اس کے سوا چارہ نہ تھا کہ وہ ہتھیار ڈال دیں، چنانچہ انہوں نے ہتھیار ڈال دیے۔ معتصم نے اپنے تمام قیدیوں کو چھڑایا اور عورت کو بھی قید سے آزاد کرایا، جس نے رومیوں کے حملے کے وقت وامعتصمہ کہہ کر آواز لگائی تھی اور عورت کو بھی قید سے آزاد کرایا، جس نے رمیوں کے حملے کے وقت وامعتصمہ کہہ کر آواز لگائی تھی۔ کتاب اسباق تاریخ مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 279۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.