نصیحت: امام عبدالرحمن اوزائی، 88 تا 157 ہجری، بہت بڑے عالم تھے، مگر وہ اکثر چپ رہتے تھے۔ ان کا قول ہے کہ مومن کم بولتا ہے اور زیادہ عمل کرتا ہے، اور منافق زیادہ بولتا ہے اور کم عمل کرتا ہے۔ إن المؤمن يقول قليلاً ويعمل كثيراً، وإن المنافق يقول كثيراً ويعمل قليلاً. حلیۃ الاولیاء، لابي نعيم، جلد 6، صفحہ 142: وہ ظواہرِ دین کے مقابلے میں حقیقتِ دین پر زور دیتے ہیں۔
وہ ظواہرِ دین کے مقابلے میں حقیقتِ دین پر زور دیتے تھے۔ ایک بار انہوں نے کہا کہ عدل کی ایک ساعت ہزاروں ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے۔ ساعةُ عدلٍ خيرٌ من عبادةِ ألفِ شهرٍ. امام اوزائی کے ایک شاگرد، ابو الفضل ابن الولید ابن مزید، نے اپنے استاد کے بارے میں اپنا تجربہ ان الفاظ میں بتایا ہے: من نظر في كتب الأوزاعي يظن أنه كان صاحبَ كلامٍ، وما رأيتُ قطُّ رجلاً أطولَ منه سكوتاً.
عبدالرحمن الاوزاعی، لطہٰ الولی، بیروت، 1968، صفحہ 66۔ یعنی جو شخص امام اوزائی کی کتابوں کو دیکھے گا، وہ گمان کرے گا کہ وہ بڑے بولنے والے تھے، حالانکہ ان سے زیادہ دیر تک چپ رہنے والا میں نے کوئی دوسرا آدمی نہیں دیکھا۔ ایک بار کا واقعہ ہے کہ عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور نے امام اوزائی کو بلایا اور ان سے فرمائش کی کہ وہ خلیفہ کو نصیحت کریں۔ اس موقع پر امام اوزائی نے نصیحت کے جو کلمات کہے، ان میں سے ایک فقرہ یہ تھا: يا أمير المؤمنين، أتدري ما جاء في تاويل هذه الآية عن جدك؟
ولا يغادر صغيرةً ولا كبيرةً إلا أحصاها. قال: الصغيرة التبسم، والكبيرة الضحك. فكيف بما عملته الأيدي؟ وحصدته الألسنة؟
وحسدته الألسنة؟ عبدالرحمن الاوزاعی، لطہٰ الولی، صفحہ 74: یعنی اے امیر المومنین، کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس آیت کے بارے میں آپ کے دادا عبداللہ ابن عباس نے کیا کہا ہے؟ کیسی عجیب ہے یہ کتاب، جس نے چھوٹی بڑی ہر چیز لکھ لی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ صغیرہ سے مراد مسکرانا ہے اور کبیرہ سے مراد ہنسنا ہے۔
پھر ان اعمال کا کیا ذکر جو ہاتھ کریں اور جو زبان سے صادر ہوں؟ حضرت عبداللہ ابن عباس کا مطلب یہ تھا کہ ہنسنا اور مسکرانا، جن کو تم بالکل معمولی چیز سمجھتے ہو، وہ بھی تمہارے نامِ اعمال میں لکھا جا رہا ہے۔ پھر دوسرے زیادہ بڑے اعمال کا کیا ذکر؟ کتاب: اسباقِ تاریخ، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 278۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.