Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Eik Aam Burai

Urdu · 3 min

ایک عام برائی: یزید کی فوجوں سے حضرت حسین کی جو لڑائی کربلا کے میدان میں ہوئی، اس میں حضرت حسین کے ساتھ ان کے چار فرزند بھی مارے گئے تھے۔ مگر شیعہ مصنفین کی کتابوں میں حضرت حسین کی شہادت کے ذیل میں صرف ان کے ایک صاحبزادے کا ذکر آتا ہے، جن کا نام عباس ابن علی تھا۔ بقیہ تین صاحبزادوں کے نام سرے سے ذکر نہیں کیے جاتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے نام حضرت علی نے خلفائے ثلاثہ کے نام پر رکھے تھے، جن کو شیعہ حضرات جائز خلیفہ نہیں مانتے۔

یعنی ان کے نام تھے: ابوبکر ابن علی، عمر ابن علی، اور عثمان ابن علی۔ اپنی پسند کے ناموں کو تاریخ میں شامل کرنا، اور جو نام پسند نہ ہوں ان کو تاریخ سے حذف کر دینا، صرف شیعہ حضرات کا جرم نہیں ہے؛ اس میں سنی حضرات بھی یکساں طور پر شریک ہیں۔ خاص طور پر موجودہ زمانے کے سنی حضرات تو اس میں اتنا زیادہ مبتلا ہیں کہ شاید ہی کوئی مثال اس کے خلاف مل سکے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی صحافت و قیادت کو دیکھیے؛ وہ واضح طور پر اسی صورتحال کی مثال ہے۔

وہ اپنے پسندیدہ لوگوں کے نام ہر جگہ شامل کرتے ہیں، وہ ہر موقع پر ان کی تشہیر کرتے ہیں، مگر جو ان کے مبغوض نام ہیں، ان کو اس طرح نظرانداز کرتے ہیں جیسے کہ ان کا کوئی وجود ہی نہیں۔ ایسا کرنا حقیقت کو قتل کرنا ہے، اور حقیقت کا قتل بلاشبہ خدا کی دنیا میں سب سے بڑا جرم ہے۔ اس سے بڑا جرم اور کوئی نہیں۔ خدا کے نزدیک سب سے بڑی نیکی حقیقتِ واقعی کا اعتراف ہے۔

جس چیز کو ایمان کہتے ہیں، وہ حقیقتِ واقعی کے اعتراف ہی کا دوسرا نام ہے۔ ایمان یہ ہے کہ آدمی کسی مجبوری کے بغیر خود اپنے اختیار سے خدا کی عظمت کو مان لے۔ انسان کی یہی وہ اعلیٰ ترین صفت ہے جس کو نفسیات کی زبان میں حقیقتِ واقعی کا اعتراف کہا جاتا ہے۔ جنت کی لطیف دنیا میں وہی لوگ بسائے جائیں گے جو اس اعلیٰ خصوصیت کا ثبوت دیں۔

اس کے برعکس، جو لوگ حقیقتِ واقعی کو چھپائیں یا اس کا اقرار نہ کریں، وہ جنت کی معیاری دنیا میں بسائے جانے کے لیے نااہل ٹھہریں گے۔ کتاب "اسباقِ تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 277۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.