نصیحت کا اثر۔ قال سفيان بن حسينٍ: "ذكرتُ الدجلة بسوءٍ عند إياس بن معاوية"، فنظر في وجهي فقال: "أغزوتَ الروم؟ " قلتُ: "لا." قال: "أفسلم منك الروم والسند والهند والترك؟ " ولم يسلم منك أخوك المسلم.
قال: "فلم أعد بعدها؟ " البداية والنهاية، جلد 13، صفحہ 121۔ یعنی سفیان ابن حسین کہتے ہیں: "میں نے ایاس بن معاویہ کے پاس ایک شخص کا ذکر برائی کے ساتھ کیا۔ " انہوں نے میری طرف دیکھا اور کہا: "کیا تم نے روم سے جہاد کیا ہے؟
" میں نے کہا: "نہیں۔ " انہوں نے کہا: "کیا تم نے سندھ اور ہند اور ترک سے جہاد کیا ہے؟ " میں نے کہا: "نہیں۔ " انہوں نے کہا: "پھر کیا روم اور سندھ اور ہند تو تم سے محفوظ رہے، اور تمہارا بھائی مسلم تم سے محفوظ نہ رہ سکا؟
" سفیان ابن حسین کہتے ہیں کہ اس کے بعد پھر میں نے اس بات کو نہیں دہرایا۔ قال ابن أبي حاتمٍ: "قدم سفیان الثوري المدينةَ، فسمع المعافري يتكلم ببعض ما يضحك به الناس، فقال له: يا شيخ، أما علمتَ أن لله تعالى يوماً يخسر فيه المبطلون؟ " قال: "فما زال التعريف في المعافري حتى لحق بالله تعالى." تفسیر ابن کثیر، جلد 7، صفحہ 249۔ یعنی ابن ابی حاتم کہتے ہیں کہ سفیان ثوری مدینہ آئے، انہوں نے معافری کو سنا کہ وہ کچھ ایسی باتیں کہتے ہیں جس سے لوگ ہنسیں۔
سفیان ثوری نے ان سے کہا کہ: "اے شیخ، کیا تم کو نہیں معلوم کہ اللہ تعالٰی کا ایک دن ہے جبکہ باطل لوگ گھاٹے میں رہیں گے؟ " راوی کہتے ہیں کہ یہ نصیحت معافری میں پہچانی جاتی رہی، یہاں تک کہ وہ اللہ سے جا ملے۔ آدمی کا احساس زندہ ہو تو وہ نصیحت کو سن کر فوراً چونک اٹھتا ہے اور اپنی اصلاح کر لیتا ہے، مگر جن لوگوں کا احساس مردہ ہو جائے، وہ نصیحت کو سنتے ہیں مگر نصیحت ان کے اندر کوئی تڑپ پیدا نہیں کرتی۔ نصیحت سننے کے بعد بھی ان کا وہی حال رہتا ہے جو نصیحت سننے سے پہلے ان کا حال تھا۔
کتاب: اسباقِ تاریخ، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 272۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.