← Asbaq-e-TareekhAsbaq-e-Tareekh
Do Misalen
Urdu · 7 min
دو مثالیں: دمشق کی مسلم خلافت جس زمانے میں ولید بن عبدالملک اموی کے ہاتھ میں تھی، خلیفہ کی طرف سے موسیٰ بن نصیر شمالی افریقہ کے حاکم تھے۔ اسپین میں مسلمانوں کا داخلہ انہیں موسیٰ بن نصیر کی ماتحتی میں انجام پایا۔ موسیٰ بن نصیر نے اولاً معلومات حاصل کرنے کے لیے سردار طریف کو 500 آدمیوں کے ساتھ اسپین بھیجا۔ سردار طریف کی واپسی کے بعد طارق بن زیاد ایک بربری غلام کی سرداری میں 7,000 کا لشکر روانہ کیا گیا۔
یہ لوگ مراکش کے ساحل سے کشتیوں پر روانہ ہوئے اور تقریباً 10 میل کا سمندر سفر طے کر کے اسپین کے ساحل پر اتر گئے۔ طارق بن زیاد کو اسپین میں داخل ہوتے ہی ایک بڑی فوج سے سابقہ پیش آیا۔ طارق بن زیاد کے ساتھ صرف 7,000 آدمی تھے، اور دوسری طرف 1,00,000 کی فوج جو ہر لحاظ سے زیادہ مسلح اور زیادہ بہتر حالت میں تھی۔ 28 رمضان 92 ہجری، جولائی 711 عیسوی کو دونوں فوجوں کے درمیان مقابلہ ہوا۔
اس درمیان میں مزید 5,000 فوج طارق کی مدد کے لیے مرکز سے آ گئی۔ 12,000 مسلمانوں نے 1,00,000 عیسائیوں سے نہایت بے جگری کے ساتھ مقابلہ کیا اور ان کے اوپر فتح حاصل کی۔ اس طرح طارق بن زیاد نے اسپین میں مسلم سلطنت کی بنیاد رکھی۔ طارق بن زیاد نے فتح کی خبر اپنے امیر موسیٰ بن نصیر کے پاس روانہ کی۔
امیر موسیٰ بن نصیر نے اس کے جواب میں طارق بن زیاد کو لکھا کہ تم نے ملک کا جتنا حصہ فتح کیا ہے، اسی پر قائم رہو اور اس سے آگے مت بڑھو۔ اس کے بعد موسیٰ بن نصیر 18,000 فوج کے ساتھ اسپین کی طرف روانہ ہوئے۔ امیر موسیٰ بن نصیر کا مذکورہ خط طارق بن زیاد کو ملا تو ان کی اور اس کے ساتھیوں کی رائے یہ ہوئی کہ اس وقت پیش قدمی سے رکنا درست نہیں ہے۔ اس وقت پیش قدمی سے رکنا درست نہیں ہے۔
ہم کو آگے بڑھ کر ملک کے بقیہ حصوں کو بھی فتح کرنا چاہیے، ورنہ عیسائی طاقتیں اکٹھا ہو کر ہمارے اوپر حملہ کر دیں گی اور ہمارے لیے موجودہ قبضے کو باقی رکھنا بھی مشکل ہو جائے گا۔ چنانچہ طارق بن زیاد نے امیر کے مشورے کے خلاف اپنی پیش قدمی جاری رکھی اور قرطبہ اور طلیطلہ وغیرہ علاقے فتح کر ڈالے۔ امیر موسیٰ جب اسپین پہنچے تو وہ یہ دیکھ کر سخت ناراض ہو گئے کہ طارق نے ان کے حکم کی پرواہ نہیں کی اور پیش قدمی جاری رکھی۔ امیر موسیٰ نے طارق کو اس حکم عدولی پر قید کر دیا۔
تاہم یہ صرف ایک ظاہری کارروائی تھی جو انہوں نے اس لیے کی کہ دوسرے سرداروں کو یہ سبق ہو جائے کہ ماتحت کے لیے افسر کے حکم کی تعمیل کرنا ضروری ہے۔ وہ دل سے طارق کی بہادری اور حسن کارکردگی پر خوش تھے۔ چنانچہ وقتی تنبیہ کے بعد امیر موسیٰ نے طارق کی اس قدر خبرداری کی کہ ان کو اسپین کی تمام افواج کا سپہ سالار بنا دیا۔ یہ صورت جو طارق بن زیاد کے ساتھ پیش آئی تھی، یہی جلد ہی بعد خود موسیٰ بن نصیر کے ساتھ بھی پیش آئی۔
خلیفہ ولید بن عبدالملک کو جب موسیٰ بن نصیر کی فتوحات کا علم ہوا اور یہ معلوم ہوا کہ موسیٰ بن نصیر اسپین کو فتح کر کے فرانس میں داخل ہونا چاہتے ہیں، تو خلیفہ نے موسیٰ بن نصیر کو لکھا کہ تم یورپ میں مزید پیش قدمی نہ کرو اور بلا تاخیر دمشق واپس آ جاؤ۔ خلیفہ کے اس حکم کی تعمیل میں موسیٰ بن نصیر اندلس سے دمشق کی طرف روانہ ہوئے۔ انہوں نے اندلس کی حکومت اپنے لڑکے عبدالعزیز کے سپرد کی اور کثیر مال غنیمت اور سونے چاندی کے ساتھ روانہ ہو کر مراکش اور مصر ہوتے ہوئے شام پہنچے۔ اتفاق سے اسی زمانے میں خلیفہ ولید بن عبدالملک سخت بیمار ہو گیا، جو اس کے لیے مرض الموت ثابت ہوا۔
ولید بن عبدالملک کے بعد اس کا بھائی سلیمان بن عبدالملک تخت پر بیٹھنے والا تھا۔ سلیمان کو جب یہ معلوم ہوا کہ موسیٰ بن نصیر کثیر اموال کے ساتھ شام پہنچ گئے ہیں، تو اس نے موسیٰ کے پاس پیغام بھیجا کہ تم ابھی باہر رکے رہو اور دمشق میں داخل ہونے میں جلدی نہ کرو۔ سلیمان بن عبدالملک کا منشاء یہ تھا کہ خلیفہ ولید کی وفات کے بعد امیر موسیٰ دمشق آئیں اور اسپین کا مال غنیمت میرے خلیفہ بننے کے بعد دربار میں لایا جائے۔ اس طرح میری تخت نشینی کی اہمیت بڑھ جائے گی۔
مگر امیر موسیٰ سلیمان بن عبدالملک کے اس پیغام کی رعایت نہ کر سکے اور وہ تیزی سے سفر کر کے دمشق پہنچ گئے۔ امیر موسیٰ کے دربار میں حاضری کے صرف چند دن بعد خلیفہ ولید بن عبدالملک کی وفات ہو گئی اور 16 جماد الثانی 96 عیسوی کو سلیمان بن عبدالملک خلیفہ قرار پایا۔ سلیمان بن عبدالملک کے لیے ممکن تھا کہ وہ امیر موسیٰ کی حکم عدولی کو حسن نیت پر محمول کر کے معاف کر دے، مگر وہ ان کو معاف نہ کر سکا۔ اس نے امیر موسیٰ کے ساتھ سخت سلوک کیا، حتیٰ کہ ان کو قید میں ڈال دیا۔
موسیٰ بن نصیر شدید مایوسی اور ناکامی کے عالم میں اگلے ہی سال 97 ہجری میں وفات پا گئے۔ بوقت وفات ان کی عمر 78 سال تھی۔ کتاب اسباق تاریخ مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 273۔