Maulana Wahiduddin Khan
10 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Tareekh ka Sabaq

Urdu · 10 min

تاریخ کا سبق: المامون 786 تا 833، 170 تا 2018 ہجری۔ ساتواں عباسی خلیفہ ہے؛ وہ اپنے والد ہارون الرشید کی وفات کے بعد، محرم 198 ہجری میں، بغداد کے تختِ خلافت پر بیٹھا۔ وہ علم اور عمل دونوں اعتبار سے ممتاز صلاحیتوں کا مالک تھا۔ اس کا زمانہ اگرچہ جنگوں اور شورشوں کا زمانہ ہے، اس کے باوجود اس کے زمانے میں علم و فن کو غیر معمولی ترقی حاصل ہوئی۔

المامون ہی نے بغداد کے مشہور بیت الحکمت کو قائم کیا تھا۔ بیت الحکمت 830 عیسوی، ایک عظیم علمی ادارہ تھا جو کتب خانہ، تحقیقی اکیڈمی، اور دارالترجمہ وغیرہ کا مجموعہ تھا۔ History of the Arabs, صفحہ 310 مامون کی زندگی کے واقعات میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ اس نے اپنے بعد ولی عہد مقرر کرنے کے لیے رشتے کا لحاظ نہ کرتے ہوئے صحیح آدمی کی تلاش کی۔ 200 ہجری میں اس نے آلِ عباس کے قابلِ ذکر افراد کو مرو میں جمع کیا، کئی مہینے تک ان کی تواضع کی، اور ان میں سے کئی لائق شخص کو اپنے بعد ولی عہد مقرر کرنا چاہتا تھا، مگر کوئی عباسی اس کو اپنے معیار کے مطابق نظر نہ آیا۔

آخر کار اپنے وزیر الفضل کے مشورے پر اس نے بنو ہاشم کی علوی شاخ سے مناسب آدمی لینے کا فیصلہ کیا۔ الكامل في التاريخ، جلد 6، صفحہ 197 تلاش اور غور و فکر کے بعد اس نے اس منصب کے لیے علی بن موسیٰ الکاظم ابن جعفر الصادق ابن محمد ابن الحسین ابن علی ابن ابی طالب کا انتخاب کیا۔ مامون نے ان کو "الرزی" کا خطاب دیا، اور اپنے انتخاب کو مزید مضبوط کرنے کے لیے ان سے اپنی لڑکی ام حبیب کا نکاح کر دیا۔ ہارون الرشید کی وصیت کے مطابق مامون کے بعد اس کا بھائی موتمن ولی عہد تھا، مگر مامون نے موتمن کو معزول کر دیا اور علی الرزی کو اپنے بعد ولی عہد مقرر کیا۔

ابن کثیر لکھتے ہیں: وذلك أن المأمون رأى أن عليًا الرضا خير أهل البيت، وليس في بني العباس مثله في عمله ودينه، فجعله ولي عهده من بعده البدایہ والنہایہ، جلد 14، صفحہ 119 یعنی اور ایسا اس لیے ہوا کہ مامون نے دیکھا کہ علی الرضی اہل بیت میں سب سے بہتر ہیں، اور بنو عباس کے اندر عملی اور دینی اعتبار سے ان کے جیسا کوئی نہیں۔ پس مامون نے اپنے بعد ان کو اپنا ولی عہد مقرر کیا۔ ابن اسیر نے یہی بات ان لفظوں میں لکھی ہے کہ إنه نظر في بني العباس وفي بني علي فلم يجد أحدًا أفضل ولا أورع ولا أعلم منه الكامل في التاريخ، جلد 5، صفحہ 484 یہ المامون کی اعلیٰ ظرفی تھی کہ اس نے خلافت کے منصب کے لیے بنو عباس کا کوئی فرد نامزد کرنے کے بجائے علوی شاخ کا ایک فرد منتخب کیا، کیونکہ اس کو نظر آیا کہ عباسی خاندان کے مقابلے میں علوی خاندان کے اندر زیادہ اہل افراد موجود ہیں۔ مگر المامون کے اہل خاندان، یعنی بنو عباس، اس پر راضی نہ ہوئے۔

انہوں نے مختلف قسم کی سازشیں شروع کر دیں، یہاں تک کہ بعض روایات کے مطابق انگور میں زہر ملا کر علی الرضی کو کھلا دیا، جس سے صفر 203 ہجری میں ان کی موت واقع ہو گئی۔ فرانسیسی مستشرق پروفیسر ڈومینک سورڈیل نے لکھا ہے کہ المامون کے وقت مسلم دنیا شیعہ گروہ اور سنی گروہ میں بٹ گئی تھی۔ ایک طرف پیغمبر اسلام کے چچا عباس کے اہل خاندان تھے، اور دوسری طرف پیغمبر کے داماد علی سے وابستہ حضرات۔ پوری عباسی سلطنت کا خلیفہ بننے کے بعد المامون نے طے کیا کہ وہ مسلم امت کی اس تقسیم کو ختم کرے۔

اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اس نے ایک ایسا فیصلہ کیا جو اس کے معاصرین کے لیے سخت تعجب خیز تھا، حتیٰ کہ وہ خود اس کی اپنی حیثیت کے لیے بھی نقصان دہ تھا۔ اس نے یہ کیا کہ اپنا ولی عہد مقرر کرنے کے لیے اپنے خاندان کے کسی فرد کو نہیں لیا، بلکہ اس نے علی الرضی کو اپنا سیاسی جانشین مقرر کیا، جو کہ علی ابن ابی طالب کے خاندان سے تھے۔ بظاہر دو خاندانوں کے درمیان رقابت کو ختم کرنے کے لیے المامون نے اپنی بیٹی کا نکاح بھی علی الرضی کے ساتھ کر دیا۔ دونوں کے درمیان مفاہمت کی فضا پیدا کرنے کے لیے مزید اس نے یہ کیا کہ اس نے عباسیوں کے کالے جھنڈے کو چھوڑ کر علویوں کے ہرے جھنڈے کو سرکاری طور پر اختیار کر لیا۔

مگر المامون کو ان کوششوں کا متوقع نتیجہ نہیں نکلا۔ عباسی گروہ اتنا ناراض ہوا کہ بغداد میں باقاعدہ طور پر المامون کی خلافت سے معزول کا اعلان کر دیا گیا۔ عباسیوں نے المامون کو تخت سے ہٹا کر عباسی خاندان کے ابراہیم کو اس کی جگہ خلیفہ مقرر کر دیا۔ اس وقت المامون بغداد سے دور مرو میں تھا۔

جب یہ خبریں پہنچیں تو وہ فوراً مرو سے چل کر بغداد کے لیے روانہ ہو گیا۔ اس لمبے سفر کے دوران یہ واقعہ ہوا کہ فروری 818 عیسوی میں اس کے وزیر الفضل کو قتل کر دیا گیا، اور علی الرضی بھی زہر آلود انگور کھانے کے بعد اگست 818 عیسوی میں اچانک مر گئے۔ علی الرضی اور ان کے حامی وزیر الفضل کی یہ اندوہناک موتیں کیوں کر ہوئیں؟ اس کی توجیح کے لیے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ عباسیوں نے ان دونوں کو مروا دیا، اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ خود المامون نے اس وقت کے مخالفانہ حالات سے گھبرا کر انہیں ختم کر دیا، اور حالات سے مصالحت کرتے ہوئے دوبارہ خلافت کا منصب عباسی خاندان کے حوالے کر دیا۔

انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، جلد 11، صفحہ 417 تا 418 ابن خلدون نے اس تاریخی واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ کسی معاشرے میں عمومی طور پر جب واضح دین ضعیف ہو جائے تو اس کے بعد ایک فرد، خواہ بذات خود وہ کتنا ہی صالح ہو، وہ معاشرے میں صلاح و فلاح کا نظام قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ مقدمہ ابن خلدون، 211 اس طرح کے واقعات کثرت سے تاریخ میں موجود ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ سیاسی نظام سماجی حالات کے تابع ہے۔ جیسے سماجی حالات، ویسا ہی سیاسی نظام۔ یہ تاریخی حقیقت بتاتی ہے کہ جو شخص صالح افراد کے ہاتھ میں حکومت کا نظام دینا چاہتا ہو، اس کو پہلے سماجی نظام میں اس کے موافق تبدیلی لانا ہوگا۔

اس تبدیلی سے پہلے کبھی صالح افراد کی سیاسی قیادت کسی معاشرے میں قائم نہیں ہو سکتی۔ اس واضح تاریخی شہادت کے باوجود جو لوگ ایسا کریں کہ ضروری سماجی تبدیلی کے بغیر صالح سیاسی قیادت کا نعرہ لگائیں، وہ یا تو غیر سنجیدہ ہیں یا سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ کتاب اسباق تاریخ، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 268.

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.