معاشی فراغت: محمد ابن جریر الطبری، 224 تا 310 ہجری، ایک انتہائی مشہور عالم ہیں، اور طبرستان میں پیدا ہوئے۔ اس کے بعد انہوں نے علم کی تحصیل کے لیے کوفہ، بصرہ، شام، مصر، بغداد وغیرہ کے سفر کیے۔ اپنی پوری عمر تحقیق اور تصنیف میں گزار دی۔ ان کے بارے میں ایک مورخ لکھتا ہے: قِيلَ إِنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ كُلَّ يَوْمٍ.
40 صفحۃ۔ 40 صفحۃ، قِيلَ إِنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ كُلَّ يَوْمٍ. 40 صفحۃ، وَيَتَحَيَّرُونَ مَتَىٰ يَنَامُ وَمَتَىٰ يَأْكُلُ وَيُصَلِّ، وَذَٰلِكَ لِكَثْرَةِ مَا صَنَّفَهُ فِي التَّارِيخِ وَالْفِقْهِ وَالْحَدِيثِ وَالتَّفْسِيرِ وَالْقِرَاءَاتِ وَعِلْمِ الْحِسَابِ۔ یعنی کہا جاتا ہے کہ وہ روزانہ 40 صفحات لکھتے تھے، اور لوگ حیرت کرتے تھے کہ وہ کب سوتے ہیں، اور کب کھاتے ہیں، اور کب نماز پڑھتے ہیں۔
یہ اس لیے کہ انہوں نے تاریخ، فقہ، حدیث، تفسیر، قرأت، اور علم حساب میں کثرت سے کتابیں لکھیں۔ ابن جریر طبری کی تفسیر کی کتاب 30 جلدوں میں ہے، اور قرآن کے مطالعے کے لیے بے حد اہم سمجھی جاتی ہے۔ ان کی کتاب "تاریخ الرسل والملوک" اپنے موضوع پر منفرد کتاب ہے۔ عربی اور اسلامی تاریخ کا مطالعہ کرنے والا اس سے بے نیاز نہیں ہو سکتا۔
ابن جریر طبری کی فارسی دانی ان کے لیے بہت معاون ثابت ہوئی، اور انہوں نے فارسی مصادر سے معلومات حاصل کر کے اپنی کتاب میں شامل کیں۔ ابن جریر طبری نے اپنی زندگی کو علم کے لیے وقف کیا، اور اہم ترین کتابیں تصنیف کیں۔ اس کی وجہ ان کی معاشی فراغت تھی۔ كَانَ وَالِدُ الطَّبْرِي يَمْلِكُ مُقَاطَعَةً فِي طَبْرِسْتَان، فَنَشَأَ إِبْنُ جَرِيرٍ غَيْرَ مُحْتَاجٍ لِكَسْبٍ إِذْ كَانَ وَالِدُهُ يُنْفِقُ عَلَيْهِ، وَاسْتَمَرَّ هَذَا الْإِنْفَاقُ يُؤَدِّي إِلَيْهِ حَتَّىٰ بَعْدَ وَفَاةِ أَبِيهِ، وَهُوَ يَنْقِلُ بَيْنَ الْبِلَادِ.
یعنی ابن جریر طبری کے والد کی طبرستان میں ایک جائیداد تھی۔ اس کی وجہ سے ابن جریر نے کمانے کی محتاجی کے بغیر نشوونما پائی۔ ان کے والد ان کا خرچ دیتے رہتے تھے۔ یہ معاملہ والد کی وفات کے بعد بھی باقی تھا۔
وہ ایک ملک سے دوسرے ملک جاتے رہتے، اور ان کا خرچ انہیں ملتا رہتا۔ کوئی مؤثر کام کرنے کے لیے معاشی فراغت ضروری ہے۔ اس کی اہمیت دینی کام کے لیے بھی ہے اور دنیاوی کام کے لیے بھی۔ کتاب "اسباق تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 251۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.