غلط فہمی۔ ابو جعفر محمد ابنِ جریر ابنِ یزید الطبری 839 تا 923 مشہور عالم ہیں، وہ ایران میں پیدا ہوئے، مختلف ممالک میں تحصیلِ علم کے بعد بغداد میں مقیم ہو گئے، اور یہیں وفات پائی۔ ان کی کتابوں میں سے دو کتابیں بہت مشہور ہیں: تفسیر میں جامع البیان عن تاویل آئ القرآن، اور تاریخ میں تاریخ الامم والملوک۔ دولتِ سامانیہ کے شہزادہ منصور ابنِ نوح نے ان کی وفات کے 40 سال بعد ان کی تاریخ کی کتاب کا فارسی ترجمہ 963 عیسوی میں تیار کرایا تھا۔
ابنِ جریر طبری مسلمہ طور پر ایک عظیم اسلامی عالم تھے؛ خطیب بغدادی 463 میں لکھا ہے کہ اقوام و ملوک کی تاریخ پر ان کی مشہور کتاب ہے، اور تفسیرِ قرآن پر ایک کتاب ہے جس کے مثل کتاب ابھی تک کسی نے نہیں لکھی۔ وله الكتاب المشهور في تاريخ الامم والملوك، والكتاب الذي في التفسير لم يصنف مثله. الكامل في التاريخ جلد 6، صفحہ 678۔ مگر 28 شوال 310 ہجری کو جب ابنِ جریر طبری کا بغداد میں انتقال ہوا تو حنبلی علماء کی شدید مخالفت کی وجہ سے ان کو مسلمانوں کے عام قبرستان میں جگہ نہیں ملی۔
انتقال کے اگلے روز وہ اپنے مکان ہی کے ایک حصے میں دفن کر دیے گئے۔ امام محمد ابنِ جریر طبری کا یہ انجام کیوں ہوا، اس کی وجہ ایک بدگمانی تھی جو بلا تحقیق ان کی طرف منسوب کر دی گئی، اور بڑھتے بڑھتے اپنی آخری حد پر پہنچ گئی۔ اصل یہ ہے کہ اسی زمانے میں ایران میں ایک اور صاحب تھے جن کا نام محمد ابنِ جریر ابنِ رستم ابو جعفر الطبری تھا۔ یہ شیعہ عالم تھے، شیعی مسلک کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ وضو میں پاؤں کا دھونا ضروری نہیں ہے، صرف مسح بھی کافی ہے۔
نام کے جزئی مشتراک کی بنا پر کچھ لوگوں نے اس کو ابو جعفر محمد ابنِ جریر ابنِ یزید الطبری کا مسلک سمجھ لیا، حالانکہ وہ محمد ابنِ جریر ابنِ رستم ابو جعفر الطبری کا مسلک تھا۔ اس غلط فہمی کی بنا پر متشدد علماء، مثلاً ابوبکر محمد ابنِ داؤد ظاہری، نے ان کو رافضی کہنا شروع کر دیا، حالانکہ امام ابنِ جریر طبری کا رفض اور شیعیت سے کوئی تعلق نہیں۔ الرسالہ جون 1987، کتاب اسباق تاریخ مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 250۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.