دو قسم کے انسان: امام شافعی 150-204 ہجری، خلیفہ ہارون الرشید کے ہم زمانہ تھے۔ وہ حصولِ علم کے لیے مکہ آئے، یہاں انہوں نے سفیان ابن عیینہ اور دوسرے محدثین سے استفادہ کیا۔ اس زمانے میں امام شافعی بہت سخت معاشی حالات میں تھے۔ اتفاق سے اسی زمانے میں یمن کا والی مکہ آیا۔
قریش کے بعض ممتاز افراد نے والیِ یمن سے سفارش کی کہ شافعی کے اندر اہلیت اور صلاحیت موجود ہے، وہ اس قابل ہیں کہ ان کو کوئی سرکاری خدمت سپرد کی جائے۔ والیِ یمن نے اس سفارش کو قبول کرتے ہوئے انہیں نجران کا عامل بنا دیا۔ مگر امام شافعی کی غیر مصالحت پسندانہ طبیعت نے اس کے بعد ان کے لیے ایک نیا مسئلہ پیدا کر دیا۔ مذکورہ والیِ یمن ایک ظالم آدمی تھا، امام شافعی نے بعض مواقع پر اس کو اس کی زیادتی اور بے انصافی پر ٹوکا۔
اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ امام شافعی کا مخالف ہو گیا۔ وہ کوئی ایسا بہانہ تلاش کرنے لگا جس کے واسطے سے وہ ان کو سزا دے سکے۔ بالآخر ایک تدبیر اس کی سمجھ میں آئی، اس نے امام شافعی کے اندر ایسے سیاسی عقائد دریافت کر لیے جن کا ذکر کر کے خلیفہ وقت کو ان کے خلاف مشتعل کیا جا سکے۔ چنانچہ اس نے خلیفہ ہارون الرشید کو خط میں لکھا کہ شافعی علوی سادات کے ساتھیوں میں سے ہے۔
علوی سادات وہ لوگ تھے جن پر یہ الزام تھا کہ وہ عباسیوں کی حکومت کے خلاف ہیں۔ ہارون الرشید نے یہ سنا تو اس نے سمجھا کہ شافعی کوئی خطرناک آدمی ہے۔ اس نے بگڑ کر والیِ یمن کو خط لکھوایا کہ شافعی کو اس کے تمام ساتھیوں کے ساتھ فوراً دارالخلافہ یعنی بغداد روانہ کرو۔ اس حکم کے مطابق امام شافعی کو گرفتار کر کے بغداد بھیج دیا گیا۔
یہ بہت نازک معاملہ تھا، مگر اس زمانے میں امام محمد بغداد میں موجود تھے۔ وہ خلیفہ کے قابلِ اعتماد لوگوں میں تھے۔ جب ان کو معلوم ہوا کہ امام شافعی ایک مجرم کے طور پر خلیفہ کے دربار میں لائے گئے ہیں تو وہ فوراً دربار میں پہنچے۔ انہوں نے خلیفہ کو بتایا کہ وہ ایک دیندار اور علمی آدمی ہیں، ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
چنانچہ امام محمد کی سفارش پر امام شافعی رہا کر دیے گئے۔ یہ واقعہ 104 ہجری کا ہے، جبکہ ان کی عمر 34 سال تھی۔ ابھی وہ صرف شافعی تھے، اس وقت تک وہ امام شافعی نہیں بنے تھے۔ اس مثال میں ایک کردار والیِ یمن کا ہے اور دوسرا امام محمد کا۔
والیِ یمن نے پست اخلاق کا نمونہ پیش کیا اور امام محمد نے اعلیٰ اخلاق کا نمونہ۔ کتاب: اسباقِ تاریخ، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 249۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.