الفاظ کا فتنہ: ابو الطیب احمد ابن حسین، عرف "متنبی"، 303 تا 354 ہجری کے متعلق دو راہیں ہیں۔ ایک طبقے کا کہنا ہے کہ اس نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا، اور اس بنا پر امیرِ حمص نے اس کو قید خانے میں بند کر دیا تھا۔ دوسرا طبقہ اس کا منکر ہے؛ اس کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ متنبی کے دل میں کبھی اس کا ارادہ پیدا ہو، مگر اس نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔ متنبی ایک ذہین اور باکمال شاعر تھا؛ اس کا کچھ کلام کتابوں میں نقل ہوا ہے، جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس نے قرآن کے جواب میں کہا تھا، مثلاً: "والنجم السيار والفلك الدوار والليل والنهار إن الكافر لفي أختار" تاریخِ بغداد للخطیب البغدادی، جلد 5، صفحہ 167۔
جو لوگ عرب زبان سے واقف ہیں، وہ جانتے ہیں کہ یہ کلام اتنا سطحی ہے کہ کوئی جاہل یا غبی آدمی ہی اس کو خران کے مقابلے میں رکھ سکتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ متنبی سے پوچھا گیا کہ تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کیا کہتے ہو، کیونکہ آپ نے تو صاف طور پر کہا ہے کہ "لا نبی بعدی" سنن الترمذی، حدیث نمبر 200، 2367۔ یعنی "میرے بعد کوئی نبی نہیں"۔ اس نے کہا کہ تم لوگوں نے اس حدیث کا مطلب نہیں سمجھا۔
اس حدیث میں تو میری نبوت کی بشارت ہے۔ اس میں "لا" حرفِ نفی نہیں ہے، بلکہ یہ نام ہے۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ "لا" نام کا نبی میرے بعد ہوگا، کیونکہ آسمانوں پر میرا نام "لا" ہے۔ ایک برطانوی شہری کو کسٹم والوں نے پکڑا؛ وہ اپنے جوتے میں 598 ملی گرام ہیروئن لیے ہوئے تھا۔
ٹائمز آف انڈیا، 19 جون 1984۔ سوالات کے دوران اس نے کہا کہ اس نے صرف اس لیے ایسا کیا تھا کہ اپنی عادت کو ٹھوکر مار کر پھینک دے۔ He was only trying to kick the habit, kick the habit. اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ لفظی تاویل کا میدان کتنا زیادہ وسیع ہے۔
لفظی تاویل ایک ایسا ہتھیار ہے جو سفید کو سیاہ کر دے، جو قائل کے کلام سے اس کے منشاء کے برعکس مفہوم ثابت کر دے۔ لفظی تاویل آدمی کو یہ موقع دیتی ہے کہ وہ ہر بات سے اپنا نظریہ نکال لے، خواہ وہ بات اصلاً اس کے نظریے کے بالکل برعکس مفہوم کیوں نہ رکھتی ہو۔ آدمی حقیقت کی تردید الفاظ کے ذریعے کرنا چاہتا ہے، حالانکہ خدا کی دنیا میں ایسا ہونا کبھی ممکن نہیں۔ کتاب: اسباقِ تاریخ، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 247۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.