← Asbaq-e-TareekhAsbaq-e-Tareekh
Nazuk Masalah
Urdu · 8 min
نازک مسئلہ: خلیفہ سوم حضرت عثمان بن عفان پر کچھ شورش پسند مسلمانوں نے قاتلہ، قاتلانہ حملہ کیا اور 18 ذی الحجہ 35 ہجری کو انہیں شہید کر ڈالا۔ اس وقت آپ کی عمر 82 سال تھی، آپ کی مدتِ خلافت 12 سال ہے۔ ام المومنین حضرت عائشہ اس وقت حج کی ادائیگی کے بعد مکے سے مدینے کی طرف جا رہی تھیں۔ وہ مقامِ صرف تک پہنچی تھیں کہ حضرت عثمان کی شہادت کی خبر ملی۔
اس کے بعد وہ راستے ہی سے مکے کی طرف واپس روانہ ہو گئیں۔ مکہ پہنچیں تو ان کی آمد کی خبر سن کر لوگ آپ کی سواری کے گرد جمع ہو گئے۔ حضرت عائشہ نے مجمعے کے سامنے ایک تقریر کی، جس میں کہا کہ خدا کی قسم، عثمان مظلوم مارے گئے، خدا کی قسم میں ان کے خون کا بدلہ لوں گی۔ قُتِلَ وَاللَّهِ عُثْمَانُ مَظْلُومًا وَاللَّهِ لَأَطْلُبَنَّ بِدَمِهِ تاریخ الطبری، جلد 4، صفحہ 459۔
حضرت عائشہ اونٹ پر سوار ہو کر مکے سے بصرہ کے لیے روانہ ہوئیں۔ مکہ اور اطرافِ مکہ میں منادی کر دی گئی کہ ام المومنین عائشہ بصرہ جا رہی تھیں، جا رہی ہیں۔ جو شخص اسلام کا حامی ہو اور خونِ عثمان کا بدلہ لینا چاہے، وہ قافلے میں شریک ہو جائے۔ مکے سے ڈیڑھ ہزار آدمیوں کا لشکر روانہ ہوا۔
باہر نکلے تو اطراف و جوانب سے لوگ جوخ در جوخ آ کر قافلے میں شریک ہونے لگے، یہاں تک کہ جلد ہی اس لشکر کی تعداد 3000 ہو گئی۔ یہ لوگ چلتے ہوئے ایک مقام پر پہنچے جہاں ایک چشمہ تھا۔ حضرت عائشہ کے اونٹ کو دیکھ کر وہاں کتوں نے بھونکنا شروع کر دیا۔ حضرت عائشہ نے یہ منظر دیکھ کر چشمے کا نام پوچھا۔
بتایا گیا کہ یہ مَوْعَب کا چشمہ ہے۔ یہ نام سنتے ہی حضرت عائشہ نے کہا کہ مجھ کو لوٹاؤ۔ لوگوں نے سبب دریافت کیا تو حضرت عائشہ نے کہا کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کی بیویاں بیٹھی ہوئی تھیں، میں بھی وہاں موجود تھی۔ آپ نے اپنی بیویوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ کاش مجھ کو معلوم ہوتا کہ تم میں سے کس کو دیکھ کر مَوْعَب کے کتے بھونکیں گے۔
یہ کہہ کر حضرت عائشہ نے اونٹ کی گردن پر ہاتھ مارا۔ اونٹ وہیں بیٹھ گیا۔ اس کے بعد حضرت عائشہ ایک دن اور ایک رات وہیں مقیم رہیں۔ تمام لشکر بھی آپ کے ساتھ وہیں ٹھہرا رہا۔
اس کے بعد کچھ لوگوں نے منصوبہ بنا کر اچانک شور کر دیا کہ جلدی کرو، جلدی کرو، علی تم تک پہنچ گئے۔ یہ سن کر تمام لشکر نہایت عجلت کے ساتھ بصرے کی طرف روانہ ہو گیا۔ کچھ لوگوں نے حضرت عائشہ کے اونٹ کو بھی تیزی سے اٹھا کر بھیڑ کے ساتھ روانہ کر دیا، بھیڑ کے ساتھ روانہ کر دیا۔ حضرت عائشہ کے سوال پر انہیں بتایا گیا کہ کسی نے غلطی سے آپ کو اس چشمے کا نام مَوْعَب بتا دیا تھا۔
درحقیقت یہ چشمہ وہ چشمہ نہیں ہے، اور نہ مَوْعَب کا چشمہ اس راستے میں آتا ہے۔ یہ لوگ چلتے رہے، یہاں تک کہ وہ بصرہ کے قریب پہنچ گئے، جہاں خلیفہ چہارم حضرت علی ابن ابی طالب مقیم تھے۔ یہیں وہ جنگ پیش آئی جو اسلامی تاریخ میں جنگِ جمل 36 ہجری کے نام سے مشہور ہے۔ اس جنگ میں خود مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں ایک دوسرے کے خلاف لڑ، لڑے تھے۔
ایک گروہ کے قائد حضرت علی تھے، جن کے ہاتھ پر حضرت عثمان کے بعد خلافت کی بیعت ہوئی تھی۔ دوسری طرف حضرت عائشہ تھیں، جو خونِ عثمان کا بدلہ لینے کے نام پر وہاں پہنچی تھیں، کیونکہ انہیں یہ غلط فہمی ہو گئی تھی کہ حضرت علی خونِ عثمان کے معاملے کو دبا رہے ہیں اور قاتلین عثمان سے انتقام لینے پر تیار نہیں۔ حضرت عائشہ اس وقت ایک اونٹ پر سوار تھیں، اس لیے اس جنگ کا نام جنگِ جمل پڑ گیا۔ جنگِ جمل کی تفصیل تاریخ کی کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔
مختصر یہ کہ بوقتِ مقابلہ حضرت عائشہ کی طرف سے لڑنے والوں کی تعداد تقریباً 30000 تک پہنچ چکی تھی۔ دوسری طرف حضرت علی کی فوج کی تعداد تقریباً 20000 تھی۔ حضرت عائشہ کے لشکر میں سے 9000 آدمی میدانِ جنگ میں مارے گئے، اور حضرت علی کی فوج میں سے 1070 آدمی کام آئے۔ گویا مجموعی طور پر تقریباً 10000 مسلمان خود مسلمانوں کے ہاتھوں ہلاک ہو گئے۔
اس واقعے میں یہ سبق ہے کہ عوامی تحریک اٹھانا جتنا آسان ہے، اس کو کنٹرول کرنا اتنا آسان نہیں، خواہ اس کی قیادت ام المومنین جیسی مقدس ہستی کیوں نہ کر رہی ہو۔ جو لوگ جذباتی ایشو پر پرجوش تقریریں کر کے بڑی تحریکیں اٹھاتے ہیں، بڑی بڑی تحریکیں اٹھاتے ہیں، وہ عوام کی بھیڑ اکٹھا کرتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ ہمیشہ آغاز سے زیادہ انجام پر غور کریں۔ اس قسم کی عوامی تحریکوں میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں لیڈر نمبر ون پر، لیڈر نمبر ون پر ہوتا ہے، اور عوام نمبر دو پر۔
مگر جب جوش و جذبے میں بھرے ہوئے عوام کی بھیڑ اکٹھا ہو چکی ہو، تو اس کے بعد صورتحال یکسر بدل جاتی ہے۔ اب عوام کو نمبر ون کی حیثیت حاصل ہو جاتی ہے، اور لیڈر نمبر دو کے مقام پر چلا جاتا ہے۔ اب تحریک کی رہنمائی کے لیے عملی طور پر صرف عوام کا جوش رہ جاتا ہے، نہ کہ رہنماؤں کا جوش، نہ کہ رہنماؤں کا ہوش۔ ذمہ داری کا تقاضا ہے کہ اس قسم کے عوامی کام کو بہت زیادہ سوچ سمجھ کر شروع کیا جائے، کیونکہ اس قسم کے کام کو شروع کرنا ہمیشہ انتہائی آسان ہوتا ہے، مگر اس کو نیک انجام تک پہنچانا انتہائی حد تک مشکل ہے۔
حضرت عائشہ اگر حج کے بعد گھر، یعنی مدینہ واپس جانے کا فیصلہ کرتیں تو یہ ان کے لیے بالکل سادہ اور آسان سی بات ہوتی۔ مگر مَوْعَب کے چشمے پر، جبکہ وہ بھیڑ کے درمیان تھیں، تو یہی سادہ سی بات ان کے لیے ناممکن کے درجے میں مشکل ہو گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے ہنگامی مواقع پر بیچ سے رائے بدلنا ممکن نہیں ہوتا۔ ایسے کاموں میں بیچ سے رائے بدلنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص دریا کو چھلانگ کے ذریعے پار کرنا چاہے، اور جب وہ اس کے درمیان میں پہنچے تو یہ فیصلہ کرے کہ مزید تیاری کے لیے اس کو پیچھے کی طرف لوٹ جانا چاہیے۔
کتاب اسباق تاریخ مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 252۔