← Asbaq-e-TareekhAsbaq-e-Tareekh
Ekhlaas kafi nahi
Urdu · 8 min
اخلاص کافی نہیں۔ ہرمزان، یا ہرمز، قدیم ایرانی سلطنت کا ایک فوجی سردار تھا؛ جنگِ قادسیہ میں وہ ایرانیوں کی طرف سے مسلمانوں سے لڑ رہا تھا۔ اس جنگ میں جب اس کو شکست ہوئی تو وہ بھاگ کر خوزستان آ گیا، اور یہاں اپنی فوجیں جمع کر کے ایران کے اس سرحدی علاقے پر اپنی خود مختار حکومت قائم کر لی۔ مسلم فوج نے کوفہ و بصرہ سے نکل کر اس پر حملہ کیا۔
ہرمزان کو شکست ہوئی، اور اس نے جزیہ ادا کرنے کی شرط پر مسلمانوں سے صلح کر لی، مگر موقع پاتے ہی اس نے بغاوت کر دی۔ دوبارہ مسلم فوج آئی، مقابلہ ہوا، جس میں ہرمزان کو شکست ہوئی۔ ہرمزان نے ایک نئے مقام پر پناہ لی، جس کا نام رام ہرمز تھا۔ اس نے پھر جزیہ کی شرط پر صلح کی پیشکش کی، جس کو مسلمانوں نے منظور کر لیا۔
مگر ہرمزان نے کچھ عرصہ بعد دوبارہ بغاوت کر دی، چنانچہ ابو موسیٰ اشعری کی سرکردگی میں اسلامی فوج نے اس پر حملہ کیا۔ ہرمزان کو شکست فاش ہوئی؛ اس کا شہر تشتر تشتر مسلمانوں کے قبضے میں آ گیا۔ ہرمزان تشتر کے قلعے میں محصور ہو گیا۔ ہرمزان نے دیکھا کہ بہت جلد مسلمان اس کے قلعے پر قابض ہو جائیں گے۔
اس نے مسلمانوں کے سردار کے پاس یہ درخواست بھیجی کہ میں اس شرط پر اپنے آپ کو تمہارے سپرد کرنے کے لیے تیار ہوں کہ مجھ کو خلیفہ عمر کی خدمت میں بھیجا جائے، اور میرے معاملے کو انہی کے فیصلے پر چھوڑ دیا جائے۔ چنانچہ ہرمزان کو انس ابن مالک اور دوسرے لوگوں کی نگرانی میں مدینہ لایا گیا۔ حضرت عمر نے ہرمزان سے کہا کہ تم نے بار بار بدعہدی کی ہے، اور بدعہدی کی سزا تم جانتے ہو کہ قتل ہے۔ ہرمزان نے کہا کہ مجھے ڈر ہے کہ آپ میری بات سنے بغیر ہی مجھے قتل نہ کر دیں۔
حضرت عمر نے کہا کہ نہیں، تمہاری بات ضرور سنی جائے گی۔ اس کے بعد ہرمزان نے پینے کے لیے پانی مانگا۔ پانی آیا تو پیالہ ہاتھ میں لے کر اس نے کہا کہ مجھے ڈر ہے کہ آپ مجھے پانی پینے کی حالت میں قتل نہ کر دیں۔ حضرت عمر نے کہا، نہیں، تم اندیشہ نہ کرو؛ جب تک تم پانی نہ پی لو گے، تم کو قتل نہیں کیا جائے گا۔
ہرمزان نے اس کے فوراً بعد پیالے کا پانی زمین پر گرا دیا اور کہا کہ آپ مجھے اب قتل نہیں کر سکتے، کیونکہ آپ اس پانی پینے تک کے لیے مجھے امان دے چکے ہیں۔ حضرت عمر نے یہ سن کر کہا، تو جھوٹ بولتا ہے؛ ہم نے تو تجھ کو امان نہیں دی ہے، اور تو قتل کیا جائے گا۔ انس ابن مالک فوراً کھڑے ہو گئے، انہوں نے کہا، امیرالمومنین، ہرمز صحیح کہتا ہے؛ آپ کہہ چکے ہیں کہ جب تک تم پانی نہ پی لو گے، تم قتل نہ کیے جاؤ گے۔ اور پانی اس نے پیا نہیں۔
حضرت عمر اگر انس ابن مالک کی دلیل سے مطمئن نہ تھے، مگر معاملے کی نزاکت کی بنا پر خاموش ہو گئے۔ حضرت عمر اگرچہ انس ابن مالک کی دلیل سے مطمئن نہ تھے، مگر معاملے کی نزاکت کی بنا پر خاموش ہو گئے۔ اب ہرمزان نے دوسری ہوشیاری یہ کی کہ کلمہ پڑھ لیا اور مسلمان بن کر مدینے میں رہنے لگا۔ اور عمومی اسلامی قاعدے کے مطابق 2000 دینار سالانہ کا وظیفہ بھی بیت المال سے حاصل کر لیا۔
انہی دنوں ایک ایرانی غلام ابو لولو فیروز مدینے میں رہتا تھا، یہ مغیرہ بن شعبہ کا غلام تھا۔ ہرمزان اور ابو لولو فیروز دونوں مسلمانوں سے اس بات پر ناراض تھے کہ انہوں نے ایران کی کیانی عظمت کو مٹا دیا، اور ان کے قومی فخر کا خاتمہ کر دیا۔ اس مشترک جذبے نے دونوں کو ایک دوسرے سے قریب کر دیا۔ ان میں رازدارانہ باتیں ہونے لگیں۔
کیانی عظمت کو واپس لانے کے بارے میں وہ اپنے خواب کو واقعہ نہیں بنا سکتے تھے۔ اپنے انتقام کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے وہ مسلمانوں کی تخریب کے منصوبے بنانے لگے۔ جلد ہی اس کا ایک موقع انہیں میسر آ گیا۔ ابو لولو فیروز ایک روز مدینے کے بازار میں تھا کہ اس کی ملاقات خلیفہ عمر سے ہو گئی۔
اس نے کہا، اے امیرالمومنین، میرا آقا مغیرہ مجھ سے بہت زیادہ محصول لیتا ہے، آپ اس کو کم کرا دیجئے۔ حضرت عمر نے پوچھا، کتنا؟ ابو لولو نے کہا، دو درہم روز۔ حضرت عمر نے کہا کہ تم کیا کام کرتے ہو؟
اس نے کہا کہ آہنگری، نقاشی، اور نجاری۔ حضرت عمر نے کہا کہ جب تم اتنے ہنر جانتے ہو تو پھر یہ رقم تمہارے لیے زیادہ نہیں ہے۔ ابو لولو کو یہ بات سخت ناگوار گزری، کیونکہ حضرت عمر نے مذکورہ معاملے میں ابو لولو کے بجائے مغیرہ بن شعبہ کی حمایت کی تھی۔ اس کے بعد حضرت عمر نے ابو لولو سے پوچھا کہ میں نے سنا ہے کہ تم ایسی چکی بنانا جانتے ہو جو ہوا کے زور سے چلتی ہے، تم مجھ کو بھی ایسی ایک چکی بنا دو۔
ابو لولو نے جواب دیا کہ اچھا، میں آپ کے لیے ایسی چکی بناؤں گا جس کی آواز مشرق و مغرب کے لوگ سنیں گے۔ اب ہرمز اور ابو لولو کے خواب کی تکمیل کا وقت آ گیا۔ دونوں نے خفیہ سازش کر کے زہر میں بجھا ہوا ایک خنجر تیار کیا۔ اس کے بعد ابو لولو ایک روز فجر کے وقت اندھیرے میں مدینے کی مسجد میں داخل ہوا۔
اس کی آستین میں مذکورہ خنجر چھپا ہوا تھا۔ جب نماز کھڑی ہوئی تو وہ صفِ اول میں شامل ہو گیا۔ حضرت عمر نے امامت کے مقام پر کھڑے ہو کر نماز شروع کی تو ابو لولو اچانک تیزی سے صف سے نکلا اور حضرت عمر پر پے در پے وار کیا۔ حضرت عمر بے ہوش ہو کر گر پڑے۔
بات کو اسی میں آپ کا انتقال ہو گیا۔ کتاب: اسباقِ تاریخ، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 233۔