Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Achchi Zindagi

Urdu · 3 min

اچھی زندگی، متوکل علی اللہ۔ 207-247 ہجری، ایک عباسی خلیفہ تھا، فتح بن خاخان کہتے ہیں کہ ایک روز میں خلیفہ متوکل کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت وہ سر نیچا کیے ہوئے کچھ سوچ رہا تھا۔ میں نے کہا، "امیرالمومنین، آپ کچھ فکرمند معلوم ہوتے ہیں، حالانکہ آپ وہ شخص ہیں جس کو روئے زمین پر سب سے زیادہ آسائش کے سامان حاصل ہیں۔

" خلیفہ متوکل نے میری بات سن کر اپنا سر اٹھایا اور کہا، "اے فتح، مجھ سے زیادہ اچھی زندگی اس شخص کی ہے جس کے پاس ایک کشادہ مکان ہو، نیک بیوی ہو، بقدرِ ضرورت روزی کا انتظام ہو، نہ ہم اس کو جانتے ہوں کہ اس کو تکلیف دیں، اور نہ وہ ہمارا محتاج ہو کہ ہم اس کو رسوا کریں۔ " تاریخ الخلفاء، صفحہ 241۔ اچھی زندگی اس کا نام نہیں کہ آدمی کے پاس زندگی کے ساز و سامان کی کثرت ہو۔ اچھی زندگی کا راز قناعت ہے۔

قناعت کی دولت اسے ملتی ہے جو بقدرِ ضرورت چیزوں پر راضی ہو جائے، اور شہرت و عزت سے بے نیاز ہو کر جینا جانتا ہو۔ کسی کو بقدرِ ضرورت روزی حاصل ہو تو اس سے بڑی کوئی نعمت نہیں۔ بقدرِ ضرورت روزی پر مطمئن نہ ہونا صرف حرص کی بنا پر ہوتا ہے، اور حریص آدمی کے لیے کبھی اطمینان نہیں۔ کیونکہ بقدرِ ضرورت کی توحد ہے۔

کیونکہ بقدرِ ضرورت کی تو حد ہے، مگر حرص کی کوئی حد نہیں۔ بیوی اس لیے ہے کہ وہ زندگی کی رفیق بنے، اور آدمی کے لیے گھریلو سکون کا ذریعہ ہو۔ مگر یہ فائدہ صرف نیک اور صالح بیوی سے حاصل ہوتا ہے۔ دوسری تمام خصوصیات جو آدمی ایک عورت میں تلاش کرتا ہے، وہ زوال پذیر بھی ہیں اور نئے نئے مسائل پیدا کرنے والی بھی۔

کسی کے پاس کشادہ مکان ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کو خود اپنی ایک دنیا حاصل ہے، جہاں وہ اپنی پسند کے مطابق ایک زندگی بنا کر اس کے اندر رہ سکتا ہے۔ دانشمند آدمی کے لیے کشادہ مکان گویا طوفان نوح کے درمیان ایک کشتیِ نوح ہے۔ گم نامی آدمی کے لیے سب سے بڑی عافیت ہے، کیونکہ جو شخص نام حاصل کر لے، اس کو حاسدین کے حسد سے بچنا ممکن نہیں۔ اسی طرح جس شخص کو خدا نے دوسروں کی محتاجی سے بچایا ہو، اس سے بڑا خوش قسمت اور کوئی نہیں۔

کیونکہ لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ عین اس مقام پر آدمی کو ذلیل کر دیتے ہیں جہاں وہ حاجت مند بن کر ان کے سامنے آیا ہو۔ کتاب اسباق تاریخ، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 232۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.