← Asbaq-e-TareekhAsbaq-e-Tareekh
Do Tareekhi Tajribey
Urdu · 22 min
دو تاریخی تجربے: سلیمان بن عبدالملک، متوفی 99 ہجری، کی منقبت کے لیے یہ کافی ہے کہ اس نے خلافتِ راشدہ کی زریں— اس نے خلافتِ راشدہ کی زریں فہرست میں پانچویں خلیفہ راشد، عمر ابن عبدالعزیز، کا اضافہ کیا، مگر عجیب بات ہے کہ اسی اموی حکمران کے خانے میں تاریخ ان واقعات کو بھی لکھتی ہے جن کا آخری نتیجہ ان دو عظیم ترین علمیوں کی شکل میں برآمد ہوا، جن میں سے ایک کا نام اسپین اور دوسرے کا نام ہندوستان ہے۔ اگر سلیمان ابن عبداللہ نے اسپین میں تاریخ کو تاریخ کو، اور ہندوستان میں محمد ابن قاسم کو معطوف کر کے واپس نہ بلایا ہوتا، تو شاید ان دونوں ملکوں کی تاریخ اس سے مختلف ہوتی جو بعد کے دور میں ہمیں نظر آتی ہے۔ اسپین میں کیا ہوا؟ سلیمان ابن عبدالملک نے تختِ خلافت پر بیٹھنے کے بعد پہلا کام یہ کیا کہ محض ایک ذاتی شکایت کی بنا پر موسیٰ بن نصیر کو— موسیٰ بن نصیر، گورنر افریقہ، اور اس کے سپہ سالار طارق ابن زیاد، فاتحِ اسپین، کو ان کے عہدوں سے معزول کر کے واپس بلا لیا، اور اول الذکر کو قید اور دوسرے کو نظربند کر دیا۔
اس کے قدرتی نتیجے کے طور پر اسپین کی مسلم حکومت اور مرکزِ خلافت کے درمیان آغاز ہی میں حریفانہ جذبات پیدا ہو گئے۔ 132 ہجری میں، جب ایک خون آشام انقلاب کے بعد دمشق کی اموی سلطنت ختم ہوئی اور نئے دارالخلافہ بغداد میں عباسی خلافت قائم ہوئی، تو اموی خاندان کا ایک لٹا ہوا شہزادہ، عبدالرحمن الداخل، اسپین پہنچا اور وہاں کے حالات سے فائدہ اٹھا کر اسپین میں اپنی حکومت قائم کر لی۔ بنو امیہ کے ایک فرد کی یہ کامیابی عباسیوں کے لیے ناقابلِ برداشت تھی۔ اسی طرح اسپین اور مرکزِ خلافت کے درمیان رقابت کی ایک اور وجہ پیدا ہو گئی، اور نتیجتاً باہمی آویزشوں کا وہ لامتناہی سلسلہ چلا جو صرف اس وقت ختم ہوا جب اسپین میں خود مسلم سلطنت ختم ہو گئی۔
مرکزِ خلافت اور اسپین کی یہ رقابت یہاں تک بڑھی کہ جس خلافت نے طارق ابن زیاد کو بھاری کمک دے کر اسپین کی مہم پر بھیجا تھا، اسی خلافت نے فرانس کے بادشاہ شارلی مین کو اکسایا کہ وہ اسپین پر حملہ کرے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اسپین میں ایک عام خانہ جنگی اور بغاوت کی کیفیت پیدا ہو گئی؛ ہر علاقے کا گورنر خود مختاری کا خواب دیکھنے لگا۔ امیر قرطبہ کے رشتہ داروں نے اس نازک وقت کو اسپین کے تاج و تخت کے لیے سازش کرنے کا سنہری موقع سمجھا۔ مقامی عیسائیوں کو شہ ملی کہ وہ باغی مسلمانوں کو ساتھ لے کر ہر جگہ شورش پیدا کرتے رہیں۔
اسپین کی اموی خلافت کے بعد اسپین کا ملک چھوٹی چھوٹی مسلم ریاستوں میں تقسیم ہو گیا، جنہوں نے قرطبہ، اشبیلیہ، غرناتہ، بلنیہ، طلیتلا، مالقہ وغیرہ شہروں کو اپنا اپنا دارالحکومت بنا لیا۔ طارق ابن زیاد 92 ہجری (711 عیسوی) میں اسپین میں داخل ہوا تھا اور 897 ہجری یعنی 1492 عیسوی میں اسپین سے مسلم اقتدار کا خاتمہ ہوا۔ 800 برسوں کی اس طویل مدت کا کوئی دن ایسا نہیں گزرا جو بغاوتوں اور شورشوں سے خالی ہو۔ یہ حقیقت ہے کہ اسپین کو اکثر بہت لائق مسلم حکمران ملے، عدل و انصاف کے اعتبار سے بھی اور تمدن و سیاست کے اعتبار سے بھی، اور بلاشبہ انہوں نے مشکل حالات کے باوجود تمدن اور سیاستدانی کے اعتبار سے اسپین میں ایک عظیم تاریخ بنائی۔
مگر اندرونی حالات اور مرکزِ خلافت کی شہ کی بنا پر ملک کی عیسائی رعایا مسلسل بغاوتوں پر مائل رہتی تھی، جس کی وجہ سے وہ ماحول نہ بن سکا جس میں اس اہم ترین کام کی بنیاد پڑتی، جس کے لیے اسلام نے کشور کشائی اور جہاں بانی کے میدان میں قدم رکھا تھا۔ یعنی اشاعتِ دین کا کام عرب اور اطرافِ عرب کے اکثر ممالک جتنی مدت میں مکمل طور پر اسلامی آبادی کے ملک بن گئے، اس سے بہت زیادہ مدت پانے کے باوجود اسپین اسلامی آبادی کا ملک نہ بن سکا۔ اسپین میں مسلم حکومت کی مثال تقریباً ویسی ہی ہے جیسے آزادی سے قبل ہندوستان میں انگریزوں کی حکومت کی مثال۔ انگریزوں نے ہندوستان میں اپنے سو سالہ دورِ حکومت میں ملک کو زبردست تمدنی ترقیات سے مالا مال کیا، اگرچہ انہوں نے وہ غلطی نہیں کی جو اسپین کے مسلمانوں نے کی تھی۔
انہوں نے سارے ملک میں عیسائی مشنریوں کا جال بچھا دیا اور ان کو بے پناہ سہولتیں عطا کیں، مگر مسیحی مذہب میں اتنی طاقت نہ تھی کہ وہ اس ملک کی آبادی کو اپنا اہم عقیدہ بنا لیتا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جب ہندوستان سے انگریزوں کی ہوا اکھڑی، تو عالی شان عمارتیں اور بڑے بڑے پل ان کے کام نہ آ سکے اور انہیں ہندوستان چھوڑ کر وطن واپس جانا پڑا۔ طارق ابن زیاد نے جس اسلامی جذبے کے تحت اسپین کی سرزمین پر قدم رکھا تھا، اگر وہ جذبہ جاری رہتا اور وہاں مستحکم حکومت کی روایت قائم ہو سکتی، تو اسپین میں مسلمانوں کے سوا کسی کا وجود نہ ہوتا۔ دریا پار کرنے کے بعد اپنی طویل دعا میں اس نے "ربی لا تذر علی الارض من الکافرین دیارا" سورہ نمبر 71 آیت 26 کی آیت بطور بددعا نہیں دہرائی جاتی، نہیں دہرائی تھی، بلکہ یہ اپنے اس عزم کا اظہار تھا کہ وہ اس ملک کو کفر و شرک سے خالی کر کے اسلام کا گہوارہ بنا دینا چاہتا ہے۔
مسلم اسپین کی ابتدائی تاریخ میں ہم دیکھتے ہیں کہ عیسائی کثرت سے اسلام قبول کر رہے ہیں، مگر چند ہی برس بعد وہاں کی سیاست کا رخ اس طرح بدلا کہ تبلیغِ دین کا کام پسِ پشت پڑ گیا۔ 132 ہجری میں جب مرکزِ خلافت میں تبدیلی ہوئی اور بنو امیہ کی جگہ بنو عباس کی سلطنت قائم ہوئی، تو اس ذہن کو مزید تقویت ملی۔ کیونکہ عباسیوں کو جتنی دلچسپی تمدن اور علوم و فنون کی ترقی سے تھی، اتنی دین کی اشاعت سے نہیں تھی۔ اس طرح بغداد کے اثر سے قرطبہ تمدن قرطبہ تمدن اور علوم و فنون کا مرکز تو بن گیا، مگر وہ اشاعتِ دین کا مرکز نہ بن سکا۔
چنانچہ اسپین میں جب حالات بدلے، تو وہاں کی مسلم اقلیت پر عیسائی اکثریت انا فانا غالب آ گئی، اور الحمرا کا بے مثال محل مسلمانوں کے کچھ کام نہ آ سکا۔ چونکہ عام آبادی میں عیسائیوں کو غلبہ حاصل تھا، اس لیے 904 ہجری میں قرطبہ کو زیر کرنے کے بعد جب مسلمانوں کے خلاف داروگیر شروع ہوئی، تو ان کے لیے وہاں چھپنے کی بھی کوئی جگہ نہیں تھی۔ عیسائیوں نے غالب آتے ہی تمام ملک میں اپنی مذہبی عدالتیں قائم کر دیں، جن میں ہر روز ہزاروں مسلمان گرفتار کر کے لائے جاتے، اور طرح طرح کے جھوٹے الزامات لگا کر آگ میں جلا دیے جاتے۔ 904 ہجری میں ایک عام حکم جاری کیا گیا کہ ہر وہ شخص جو مسلمان ہے، وہ دینِ مسیحی قبول کر لے، ورنہ جہاں اس کو پایا جائے گا، قتل کر دیا جائے گا۔
کچھ مسلمان جہازوں پر سوار ہو کر افریقہ کے لیے روانہ ہوئے، مگر ان کو ساحلِ افریقہ تک پہنچنے سے پہلے ہی سمندر میں غرق کر دیا گیا۔ آخر کار کوئی ایک بھی توحید پرست سرزمین اسپین میں باقی نہ رہا۔ عیسائیوں نے سب کو یا تو تلوار کے گھاٹ اتار دیا، یا سمندر میں ڈبو دیا، یا آگ میں جلا ڈالا۔ نمبر دو: خلفائے اربع کے بعد اسلامی حکومت بنی امیہ کے ہاتھ میں چلی گئی، جس کے بانی امیر معاویہ وفات 60 ہجری تھے۔
اس سلسلے حکومت کا پانچواں فرمان فرما روا عبدالملک ابن مروان تھا۔ 86 ہجری میں عبدالملک کا انتقال ہوا۔ انتقال سے پہلے اس نے اپنے دونوں بیٹوں، ولید اور سلیمان، کو ولی عہد مقرر کر دیا۔ اس نے تمام صوبوں کے گورنر، گورنروں اور عاملوں کے نام فرامین جاری کیے کہ عید الفطر کے اجتماع میں یکم شوال 86 ہجری کو ولید و سلیمان کی ولی عہدی کے لیے بیعت لی جائے۔
چنانچہ تمام ممالک اسلامی میں تاریخ مخر تاریخ مقررہ پر ان دونوں کی ولی عہدی کے لیے بیعت لی گئی۔ یہی موقع ہے جبکہ مدینے کے مشہور محدث سعید ابن مسیب کو بیعت سے انکار کرنے پر درے لگائے گئے۔ عبدالملک ابن مروان 23 تا 86 ہجری کے انتقال کے بعد جب اس کا بڑا لڑکا ولید تخت پر بیٹھا تو اس نے کوشش شروع کی کہ اپنے بعد تخت کی وراثت اپنے بھائی یعنی سلیمان کے بجائے اپنے بیٹے عبدالعزیز کی طرف منتقل کر دے۔ ولید ابن عبدالملک نے پہلے اپنے بھائی سلیمان کو لکھا کہ وہ از خود ولی عہدی سے دستبردار ہو جائے۔
جب سلیمان اس کے لیے تیار نہ ہوا تو اس نے دوسری تدبیر کی۔ اس نے تمام والیان ملک اور ممتاز افراد کو اپنے حق میں ہموار کیا اور طے کیا کہ ایک روز کسی خاص اجتماع کے موقع پر تمام ممالک اسلامی میں سلیمان ابن عبدالملک کی ولی عہدی کی منسوخی کا اعلان کر دیا جائے، اور اس کے بجائے عبدالعزیز ابن ولی عہدی اور اس کے بجائے عبدالعزیز ابن ولی عہدی کی ولی عہدی پر لوگوں سے بیعت لے لی جائے۔ مگر اس منصوبے کی تکمیل سے پہلے 15 جماد الثانی 96 ہجری فروری 815 عیسوی میں اس کا انتقال ہو گیا۔ ولید ابن عبدالملک کے انتقال کے بعد سلیمان ابن عبدالملک تخت نشین ہوا تو قدرتی طور پر وہ ان سرداروں کا دشمن ہو گیا جنہوں نے اس کو تخت سے محروم کرنے کی سازش میں اس کے بھائی ولید کا ساتھ دیا تھا۔
انہی میں سے ایک حجاج ابن یوسف تھا جو مشرق کے اسلامی ممالک کا وائسرائے تھا اور مغربی ممالک کا وائسرائے موسی بن نصیر۔ حجاج کا صدر مقام عراق تھا اور موسی بن نصیر کا کیروان۔ ان دونوں نے ولید کے منصوبے کی حمایت کی تھی، اس لیے دونوں سلیمان کی نظر میں وہ بدترین دشمن تھے جس جن سے سب سے پہلے نمٹنا نئے حکمران کے لیے ضروری تھا۔ حجاج سلیمان ابن عبدالملک کی تخت نشینی سے اٹھ ماہ پہلے شوال 95 ہجری میں انتقال کر گیا تھا، اس لیے سلیمان اب حجاج ابن یوسف کو نہیں پا سکتا تھا۔
تاہم حجاج کے رشتہ دار اس کے انتقامی جذبات کی تسکین کے لیے موجود تھے، جن میں سر فہرست حجاج کے ابن ام اور داماد محمد ابن قاسم کا نام تھا، جس نے سندھ موجودہ پاکستان میں غیر معمولی فاتحانہ کارنامے دکھا کر حجاج کی شہرت میں اضافہ کیا تھا۔ محمد ابن قاسم نہایت اعلی درجے کی قابلیت رکھنے والا سپہ سالار تھا۔ ایک مورخ کے الفاظ میں اس نے سندھ و ہند کی فتوحات میں ایک طرف اپنے آپ کو رستم و سکندر سے زیادہ بڑا بہادر ثابت کیا تو دوسری طرف نوشیروان عادل سے بڑھ کر عادل و رعایہ پر و رعایہ پرور ظاہر ہوا۔ یہ نوجوان فتح یہ نوجوان فتح مند سردار سندھ و پنجاب میں اتنی تیزی سے گھس رہا تھا اور بستیوں کی بستیاں اس کے اثر سے اس طرح دائرہ اسلام میں داخل ہوتی چلی جا رہی تھیں کہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ عنقریب سارا علاقہ ایک اسلامی علاقہ بن جائے گا۔
ہندوستان کی مہم پر محمد ابن قاسم کو حجاج ہی نے روانہ کیا تھا۔ اس کے لیے حجاج نے کتنا اہتمام کیا تھا، اس کا اندازہ چند مثالوں سے ہوگا۔ نمبر ایک: حجاج نے دیگر تمام ساز و سامان کے علاوہ 30 ہزار دینار خصوصی طور پر محمد ابن قاسم کے ہمراہ کیے تھے تاکہ ناگہانی ضرورت کے وقت کام آ سکیں۔ تاریخ سندھ میر معصوم صفحہ 80 کہا جاتا ہے کہ فوج کشی کی اس مہم پر کل چھ کروڑ درہم صرف ہوئے تھے۔
نمبر دو: فراہمی سامان کا حجاج کو اس قدر خیال تھا کہ اس نے سوچا کہ محمد ابن قاسم کو عربوں کی عادت کی بنا پر کھانے میں سرکے کی ضرورت ہوگی۔ چنانچہ اس نے بہت سی روئی سرکہ روئی سرکے میں ترک کر کے خشک کرایا۔ بہت سی روئی سرکے میں تر کر کے خشک کرایا اور اس کو محمد ابن قاسم کے پاس روانہ کیا اور لکھا کہ جب سرکہ کھانے کا جی چاہے تو اس کو پانی میں بھگو کر نچوڑ لینا نچوڑ لیا کرنا۔ نمبر تین: پانچ من جنیخیں جو بھاری ہونے کی وجہ سے خشکی کے راستے سے روانہ نہ ہو سکتی تھیں، ایک بڑے جہاز پر لدوا کر ساحل سندھ کی طرف روانہ کی۔
یہ من جنیخیں اتنی بڑی تھیں کہ ان میں سے ہر ایک کو چلانے کے پانچ سو آدمی کی پانچ سو آدمیوں کی ضرورت ہوتی تھی۔ نمبر چار: اس پوری مہم کے دوران حجاج اور محمد ابن قاسم کے درمیان ڈاک کا سلسلہ جاری رہا۔ حجاج بصرہ میں تھا اور محمد ابن قاسم سندھ میں، مگر انتظام یہ تھا کہ ہر تیسرے روز ایک خط حجاج لکھتا تھا اور اسی طرح محمد ابن قاسم بھی ساری مصروفیتوں کے باوجود ہر تیسرے روز حجاج کے نام مفصل حالات تحریر کرتا۔ ڈاک کی روانگی کے لیے ایسے خاص انتظامات کیے گئے تھے کہ اگرچہ دیبل یعنی سندھ اور بصرے میں ہزاروں کوس کا فاصلہ تھا، مگر برابر ساتویں ساتویں روز بصرہ سے دیبل اور دیبل سے بصرہ دونوں کے خطوط پہنچ جاتے تھے۔
محمد ابن قاسم نے 95 ہجری میں ملتان فتح کیا۔ اب پورا سندھ اس کے قبضے میں تھا۔ بحر عرب سے لے کر حدود کشمیر تک تمام راجاؤں اور سرداروں نے اسلام کی عظمت کو تسلیم کر لیا تھا۔ اب اس نے پورے برصغیر میں اسلام کی اشاعت کا منصوبہ بنایا اور قنوج اور قنوج کی طرف کوچ کرنا شروع کیا۔
اس کا خیال تھا کہ قنوج پر قبضہ کرنے کے بعد بقیہ علاقوں کی فتوحات کا دروازہ کھل جائے گا۔ مگر 96 ہجری میں سلیمان ابن عبدالملک تخت نشین ہوا۔ اس کو حجاج کے متعلقین سے حجاج کا بدلہ لینا تھا۔ اس نے ایک طرف حجاج کے بعد یزید ابن مہلب کو عراق کا والی مقرر کیا اور ایک خارجی المذہب صالح ابن عبداللہ کو اخراج وصول کرنے کی خدمت سپرد کی۔
یہ دونوں حجاج کے بدترین دشمن تھے۔ چنانچہ سلیمان کے حکم کے مطابق ان دونوں نے نسل عقیل یعنی خاندان حجاج کے لوگوں کو طرح طرح سے ماخوذ کر کے قتل کرنا شروع کیا۔ دوسری طرف سلیمان نے محمد ابن قاسم کو ولایت سندھ سے معزول کرنے کا حکم جاری کر دیا، جس کا قصور اس کے سوا اور کچھ نہ تھا کہ وہ حجاج ابن یوسف کا ابن ام اور داماد تھا اور حجاج کا نامور عزیز ہونے کی بنا پر اس کو ہلاک کر کے سلیمان اپنے انتقامی جوش کو ٹھنڈا کر سکتا تھا۔ سلیمان نے محمد ابن قاسم کی جگہ یزید ابن ابی قبشہ یزید ابن ابی قبشہ کو سندھ کا حاکم مقرر کیا۔
نیا حاکم دربار خلافت کا حکم لے کر سندھ پہنچا۔ اس نے محمد ابن قاسم کو گرفتار کیا اور مجرموں کی طرح اس کو ٹاٹ کے کپڑے پہنائے، ہاتھ پاؤں میں زنجیریں ڈالی اور معاویہ بن مہلب کی حراست میں عراق روانہ کیا۔ یہ بھی محمد ابن قاسم کی سعادت مندی تھی، ورنہ سندھ میں وہ اتنا مقبول تھا کہ وہ خلیفہ کے حکم سے بغاوت کر کے خود یزید اور مہلب کو گرفتار کر سکتا تھا۔ فتوح البلدان صفحہ 464 کے بیان کے مطابق عربی کا مشہور شعر اسی وقت محمد ابن قاسم کی زبان پر جاری ہوا تھا: "اذاعونی وای فتن اضاعو لیوم کریہۃ وسداد صغری"۔
وسداد صغری لوگوں نے مجھے ضائع کر دیا اور کیسے جوان کو ضائع کیا، وہ جو مصیبت کے دن کام آئے اور سرحدوں کو محفوظ رکھے۔ اس کے بعد محمد ابن قاسم کو دمشق لے جایا گیا۔ وہاں سلیمان کے حکم سے وہ واسط کے جیل خانے میں قید کر دیا گیا۔ اس پر داروغہ جیل کی حیثیت سے صالح بن عبدالرحمن مسلط تھا، جس نے اس کو جیل میں طرح طرح کی تکلیفیں دے کر مار ڈالا۔
ایک مورخ ان واقعات کو بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے: "اگر ولید ابن عبدالملک کی زندگی کچھ روز اور وفا کرتی یا سلیمان ہی عقل و ہوش سے کام لے کر محمد ابن قاسم کو چھوڑ دیتا تو شاید ایشیا کی تاریخ کچھ اور ہوتی۔ " یہی مورخ مزید لکھتا ہے: "محمد ابن قاسم کے زمانے میں خلقت خلقت خدا کثرت سے اسلام قبول کرتی جا رہی تھی۔ " تبلیغ دین کی جو سچی اور صحیح کوشش اس نے چند روز میں کر کے دکھا دی، بعد کی بڑی بڑی سلطنتیں صدیوں میں بھی نہ کر سکیں۔ اس نوع عمر سپہ سالار نے چند روز کی حکمرانی میں جو گہرا اثر ڈال دیا تھا، ویسا اثر پٹھانوں اور مغلوں کی سلطنتیں پانچ سو برس میں بھی ملک پر نہیں ڈال سکیں۔
سندھ کے علاقہ سندھ کے علاوہ بقیہ ملک میں اج مسلمان تھوڑے ہیں اور ملک پر کوئی اثر نہیں رکھتے۔ بخلاف اس کے سندھ میں سب سے بڑا غلبہ مسلمانوں کو حاصل ہے اور یہ صرف عربوں اور خاصۃ محمد ابن قاسم کی دین ہے۔ کتاب اسباق تاریخ مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 224۔