Maulana Wahiduddin Khan
19 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Tatari Fitna Eqtelafi Siasat ka Natija tha

Urdu · 19 min

تاتاری فتنہ اختلافی سیاست کا نتیجہ تھا۔ مسلم دنیا پر تاتاریوں کا حملہ 7ویں صدی ہجری کے ربع اول میں ہوا۔ اس وقت بغداد کی سلطنت پر ناصر لدین اللہ کا قبضہ تھا، اور خراسان میں خوارزم شاہ حکومت کر رہا تھا۔ دونوں میں سیاسی اختلاف پیدا ہو گیا۔

تاتاریوں کے ہاتھ سے مسلم دنیا کی غارت گری انہیں دو مسلم قائدین کے باہمی اختلاف کے نتیجے میں وقوع میں آئی۔ خراسان کی سلطنت اگرچہ ایک آزاد سلطنت تھی، تاہم وہاں خلیفہ بغداد کا خطبہ پڑھا جاتا تھا۔ خوارزم شاہ کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ وہ ناصر لدین اللہ کی مملکت کے ایک سرحدی حصہ، یعنی عراق، کو کاٹ کر اپنے علاقے میں شامل کر لے۔ اس نے اپنے ملک میں ناصر لدین اللہ کا خطبہ موقوف کرا دیا۔

ناصر لدین اللہ اس خبر سے بہت خفا ہوا۔ اس نے اس کے توڑ کے لیے یہ تدبیر کی کہ لڑاکو تاتاری قبائل کو اکسا کر خوارزم شاہ پر حملہ کرا دیا۔ یہ تدبیر نہ صرف خوارزم شاہ بلکہ پوری مسلم دنیا کے لیے ایک عذاب ثابت ہوئی۔ تاتاری جب خوارزم کو مغلوب کر چکے تو انہوں نے ناصر لدین اللہ کی سلطنت پر حملہ کر دیا اور بالآخر دونوں کو برباد کر ڈالا۔

خوارزم شاہ کو 21 سال حکومت کرنے کا موقع ملا، اور ناصر لدین اللہ کو 46 سال۔ اس کے بعد دونوں میں سے ہر ایک اسی قبر میں لیٹ گیا جس میں وہ اپنے بھائی کو لٹانا چاہتا تھا۔ تاریخ کا یہ سبق بھی کتنا عبرت انگیز ہے، مگر عجیب بات ہے کہ کوئی اس سے سبق نہیں لیتا۔ ہر شخص جس کو موقع ملتا ہے، پہلی فرصت میں اسی تاریخ کو دہراتا ہے جو خوارزم شاہ اور ناصر لدین اللہ کے واقعے کی شکل میں ہمیشہ کے لیے ناکام ہو چکی ہے، اور آخرت میں ناکام تر شکل میں سامنے آنے والی ہے۔

1095 سے لے کر 1271 عیسوی تک یورپ کی مسیحی قوموں نے بلاد اسلامیہ پر 8 زبردست حملے کیے۔ یہ حملے مغربی سمت سے ہوتے تھے، اور ان کا مقصد مقدس مقامات کو عیسائی قبضے میں لینا تھا۔ مگر 200 سالہ جنگ اس طرح ختم ہوئی کہ بالآخر یروشلم مسلمانوں ہی کے قبضے میں رہا۔ اسی زمانے میں، 1220 عیسوی میں، تاتاریوں یعنی مغلوں نے بلاد اسلامیہ پر حملہ کیا اور اس حد تک کامیاب ہوئے کہ سارے عالم اسلام کو زیر و زبر کر ڈالا۔

وہ چین کے شمالی پہاڑوں سے چنگیز خان کی زیر قیادت نکلے، اور ترکستان، ماورالنہر، خراسان، آذربائیجان، اصفہان، افغانستان، فارسی، عراق، شام، ایشیائے کوچک، روس، آسٹریا تک تمام ملکوں کو لوٹ مار اور قتل و غارت کا قبرستان بنا دیا۔ مؤرخ ابن اسیر، جو اس زمانے کا عینی شاہد ہے، اس زمانے کے واقعات بیان کرنے بیٹھتا ہے تو اس کے قلم سے یہ الفاظ نکل جاتے ہیں: فَمَنِ الَّذِي يَسْهُلُ عَلَيْهِ أَنْ يَكْتُبَ نَعْيَ الْإِسْلَامِ وَالْمُسْلِمِينَ وَمَنِ الَّذِي يَهُونُ عَلَيْهِ ذِكْرُ ذَلِكَ فَيَا لَيْتَ أُمِّي لَمْ تَلِدْنِي وَيَا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ حُدُوثِهَا وَكُنْتُ نَسْيًّا مَنْسِيًّا فَلَوْ قَالَ قَائِلٌ إِنَّ الْعَالَمَ مُذْ خَلَقَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى آدَمَ إِلَى الْآنَ أَيْ إِلَى عَهْدِ ابْنِ الْأَثِيرِ لَمْ يُبْتَلَوا بِمِثْلِهَا لَكَانَ صَادِقًا. الکامل فی التاریخ" لابن الاثیر، جلد 10، صفحہ 333۔ یعنی: کون ہے جس کے لیے آسان ہو کہ اسلام اور مسلمانوں کی ہلاکت کی داستان لکھے، اور کون ہے جس کے لیے اس کا ذکر آسان ہو: کاش میری ماں نے مجھے نہ جنا ہوتا، اور کاش میں اس سے پہلے مر گیا ہوتا اور ختم ہو گیا ہوتا۔

اگر کوئی کہے کہ جب آدم پیدا کیے گئے اس وقت سے لے کر اب تک ایسا حادثہ انسانیت پر نہیں آیا، تو یقیناً وہ سچا ہوگا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی 1137-93 عیسوی کی وفات کے 20 سال سے بھی کم عرصے میں اتنا بڑا حادثہ عالم اسلام پر کیوں پیش آیا؟ کچھ لوگ اس سلسلے میں تاتاریوں کی سفاکی کا حوالہ دینا کافی سمجھتے ہیں، مگر تاریخ بتاتی ہے کہ حکمران قومیں ہمیشہ سفاک دشمنوں کے نرغے میں رہتی ہیں۔ کوئی نہ کوئی تاتار مسلمانوں کے لیے ہمیشہ موجود رہا ہے۔

پھر اس کو 13ویں صدی عیسوی کے آغاز ہی میں یہ شاندار کامیابی کیسے حاصل ہوئی، حالانکہ یہ وہ وقت تھا جبکہ اسلامی سلطنت کی وسعت، اس کی مسلسل فتوحات، اس کی حربی اور تمدنی ترقیاں، اور اس کے مقابلے میں یورپی قوموں کی عبرت ناک پسپائی نے اتنی دھاک بٹھا دی تھی کہ کوئی سیاسی حوصلہ مند سلطنت، سلطنت اسلامی کی طرف رخ کرنے کی جرات مشکل ہی سے کر سکتا تھا۔ تاتاری حملے کا واقعہ ویلمی خلیفہ ناصر لدین اللہ 553-622 ہجری کے زمانے میں ہوا۔ مشہور مؤرخ ابن اسیر اس خلیفہ کا ہم عصر تھا۔ وہ تاتاریوں کی خون ریزی بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے: وَكَانُوا كَلَمَا رَابُوا بِمَدِينَةٍ أَوْ قَرِيَةٍ وَضَعُوا السَّيْفَ عَلَى أَهْلِهَا دُونَ تَفْرِقَةٍ بَيْنَ كَبِيرٍ أَوْ صَغِيرٍ وَرَجُلٍ أَوْ اِمْرَأَةٍ وَعَمَّتْ بِلَادَ الْمَشْرِقِ جَرَائِمُهُمْ وَفَضَائِحُهُمْ یعنی جب جب وہ کسی شہر یا گاؤں سے گزرتے تو اس کے باشندوں پر اپنی تیغ بے نیام کر دیتے، اور بڑے چھوٹے، عورت مرد سب کو قتل کر ڈالتے۔

مشرق کے تمام علاقے ان کے جرائم سے بھر گئے۔ ابن اسیر نے 617 یعنی 1220 عیسوی کے "حوادث" کے ذیل میں لکھا ہے: إِنَّ سَبَبَ خُرُوجِ التَّتَارِ إِلَى الدِّيَارِ الْإِسْلَامِيَّةِ هُوَ تَصَرُّفُ خُوَارِزْمِ شَاحِسِيِّ بِقَتْلِ جَمَاعَةٍ مِنَ التَّتَارِ جَاءُوا إِلَى بِلَادِ الْتِجَارَةِ وَنَهْبِ أَمْوَالِهِمْ یعنی: بلاد اسلامیہ پر تاتاریوں کی یورش کی وجہ خوارزم شاہ کی یہ بےہودہ حرکت تھی کہ اس نے تاتاریوں کی جماعت کو قتل کر دیا اور ان کے اموال کو چھین لیا جو کہ اس کے ملک میں تجارت کی غرض سے آئے تھے۔ یہی قصہ مختلف شکلوں میں مشہور ہوا ہے، جس میں تاتاری فتنے کی ذمہ داری خوارزم شاہ، متوفی 617 ہجری، پر ڈالی گئی ہے، مگر تاریخ کے گہرے مطالعے سے یہ بات صحیح نظر نہیں آتی۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ خود مؤرخ ابن اسیر نے دوسرے مواقع پر ایک اور بات لکھی ہے: وَقِيلَ فِي سَبَبِ خُرُوجِهِمْ إِلَى بِلَادِ الْإِسْلَامِ غَيْرُ ذَلِكَ مِمَّا لَا يُذْكَرُ فِي بُطُونِ الدَّفَاتِرِ فَكَانَ مَا كَانَ مِمَّا لَسْتُ أَذْكُرُهُ فَظُنَّ خَيْرًا وَلَا تَسْأَلْ عَنِ السَّبَبِ.

الکامل، جلد 10، صفحہ 331۔ یعنی: تاتاریوں کی یورش کا اس کے سوا دوسرا سبب بھی بیان کیا گیا ہے، جس کو لکھا نہیں جا سکتا۔ جو ہوا وہ ہوا، اب میں اس کو بیان نہیں کروں گا۔ تم اچھا گمان کر لو اور سبب مت پوچھو۔

ابن اسیر کے اس بیان سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ وہ سیاسی اسباب سے اصل حقیقت کو چھپا رہا ہے۔ مگر یہ تاریخ کی خوش قسمتی تھی کہ ابن اسیر کی زندگی ہی میں وہ سیاسی رکاوٹ ختم ہو گئی اور بعد کے دفتر میں وہ اس کو درج کرنے کے لیے زندہ رہا۔ تاتاری حملہ 617 ہجری میں ہوا، اور خلیفہ ناصر لدین اللہ کا انتقال 622 میں۔ ابن اسیر نے مذکورہ بالا جملے 617 ہجری کے "حوادث" کے ذیل میں لکھے تھے۔

ناصر لدین اللہ کے انتقال کے بعد جب وہ 622 ہجری کے "حوادث" کے ذیل میں خلیفہ کے حالات لکھنے بیٹھا تو اس نے اپنی تاریخی کتاب میں حسبِ ذیل الفاظ ثبت کیے: إِنْ كَانَ سَبَبٌ مَا يَنْسِيَهُ الْأَهْمُ إِلَيْهِ صَحِيحٌ مِنْ أَنَّهُ هُوَ الَّذِي أَطْمَعَ التَّتَارَ فِي الْبِلَادِ وَأَرْسَلَهُمْ فِي ذَلِكَ فَهُوَ الطَّامَّةُ الْكُبْرَى الَّتِي يَصْغُرُ عِنْدَهَا كُلُّ ذَنبٍ عَظِيمٍ. الکامل، جلد 10، صفحہ 400-401۔ یعنی: اگر وہ سبب صحیح ہو جو عجمی لوگ ناصر لدین اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں، یعنی وہی تھا جس نے تاتاریوں کو حملے پر اکسایا، اور اس سلسلے میں ان کے پاس پیغام بھیجا، تو وہ ایسی قیادت تھی جس کے آگے ہر بڑا گناہج ہے۔ استاد احمد حافظ، مؤلف "کتاب الدولت الخوارزمیہ والمغول" نے اس موقع پر حسبِ ذیل تعلیق کی ہے: وَالظَّاهِرُ أَنَّ ابْنَ الْأَثِيرِ وَهُوَ مِنَ الْمُعَاصِرِينَ لِلْغَزْوِ الْمَغُولِ مغول وَالْخَلِيفَةُ النَّاصِرُ لِدِينِ اللَّهِ لَمْ يَجْرُؤُوا عَلَى الْمُجَاهَرَةِ بِالْاِسْتِدَعَاءِ الْخَلِيفَةِ لِلْمَغُولِ وَلَمْ يَنْقُلْ ذَلِكَ بِصِرَاحَةٍ وَرُؤُوحٍ إِلَّا عِنْدَمَا تَوَفَّى الْخَلِيفَةُ ذِكْرَ هَذِهِ الْحَقِيقَةِ فِي جَلَاءِ وَجُرْأَتِهِ صفحہ 50۔

یعنی: اس کا ظاہر مفہوم یہ ہے کہ ابن اسیر، جو کہ مغلوں کے حملہ اور خلیفہ ناصر لدین اللہ کے ہم زمانہ ہیں، خلیفہ کی وفات سے پہلے صراحتاً اس کو کہنے کی جرات نہ کر سکے تھے کہ مغلوں کو بلانے والا خود خلیفہ ناصر لدین اللہ تھا۔ اس حقیقت کو انہوں نے خلیفہ کی وفات کے بعد جرات اور وضاحت سے بیان کیا۔ ابن کثیر نے "البدایہ والنہایہ" میں ابن اسیر کے قول کو نقل کیا ہے، اور اس پر کوئی جرح و تعدیل نہیں کی۔ جلد 13، صفحہ 107۔

ابو الفدا نے اپنی تاریخ میں اس کی تائید کی ہے اور لکھا ہے: وَقَدْ نُصِيبَ إِلَى الْإِمَامِ النَّاصِرِ أَنَّهُ هُوَ الَّذِي كَاتَبَ التَّتَارَ وَأَطْعَمَهُمْ فِي الْبِلَادِ لِيُشْغِلَ خَوَارِزْمْ شَاهَ أَنْ قَسْطِ الْعِرَاقِ. المختصر فی اخبار البشر، جلد 3، صفحہ 136۔ یعنی: خلیفہ ناصر لدین اللہ کی طرف سے یہ بات منسوب کی گئی ہے، یہ بات منسوب کی گئی کہ وہی ہے جس نے تاتاریوں کو لکھا اور ان کو حملہ کرنے کے لیے اکسایا، تاکہ خوارزم شاہ اس کے مقابلے میں مشغول ہو جائے اور عراق کا قصد نہ کرے۔ اسی طرح مقریزی نے اپنی کتاب "السلوک لمعرفتہ دول الملوک"، جلد 1، صفحہ 341 میں اس کی تائید کی ہے۔

وہ خلیفہ ناصر لدین اللہ کی وفات کے تذکرے میں لکھتا ہے: وَفِي خِلَافَتِهِ خَرَّبَ التَّتَارُ بِلَادَ الْمَشْرِقِ حَتَّى وَصَلُوا إِلَى حَمَدَانَ وَكَانَ هُوَ السَّبَبُ فِي ذَلِكَ فَإِنَّهُ كَتَبَ إِلَيْهِمْ بِالْعُبُورِ إِلَى الْبِلَادِ خَوْفًا مِنَ السُّلْطَانِ عَلَى الدِّينِ مُحَمَّدِ بْنِ خُوَارِزْمْ شَاهِن لَمَّا حَمَّ بِالْاِسْتِئِلَاءِ عَلَى بَغْدَادِ وَأَنْ يَجْعَلَهَا دَارَ مَمْلَكَتِهِ كَمَا كَانَتِ السَّلْجُوقِيَّةِ یعنی: ناصر لدین اللہ کی خلافت کے زمانے میں تاتاریوں نے بلاد اسلامیہ کے مشرقی علاقے میں غارت گری کی، یہاں تک کہ حمدان تک پہنچ گئے۔ اس کا سبب خود یہی خلیفہ تھا۔ اس نے تاتاریوں کو لکھا کہ وہ بلاد اسلامیہ میں گھس آئیں۔ یہ اس نے سلطان علاؤالدین محمد بن خوارزم شاہ کے خوف سے کیا تھا، کیونکہ وہ بغداد پر قبضے کا ارادہ کر رہا تھا اور چاہتا تھا کہ اس کو اپنا دارالحکومت بنائے۔

خلیفہ ناصر لدین اللہ نے تقریباً 70 برس عمر پائی۔ وہ 575 ہجری میں تخت پر بیٹھا اور 46 سال تک حکمران رہا۔ آخر عمر میں اس کو شدید قسم کی پیچش ہو گئی۔ اس کی بصارت جاتی رہی اور وہ اندھا ہو گیا، اور اسی حال میں رمضان 622 یعنی 1225 عیسوی کی آخری رات کو مر گیا۔

تاتاری اپنے اس خروج میں پہلے خوارزم شاہ پر حملہ آور ہوئے اور خراسان اور بلاد جبل کو اس کے قبضے سے چھین لیا۔ اس کے بعد چنگیز خان 1162 تا 1227 عیسوی کی قیادت میں ارانیہ اور شردان پر قابض ہو گئے۔ خوارزم شاہ تاتاریوں سے شکست کھا کر طبرستان کے کسی مقام میں چلا گیا اور 21 سالہ حکومت کے بعد 617 ہجری میں وہ فوت ہو گیا۔ تاتاریوں کا ایک گروہ غزنی، سجستان، کرمان وغیرہ کی طرف نکل گیا۔

خوارزم شاہ کو شکست دینے کے بعد تاتاریوں نے اس کے بیٹے جلال الدین ابن خوارزم شاہ کو غزنی میں شکست دی۔ چنگیز خان اس کا تعاقب کرتے ہوئے دریائے سندھ تک چلا گیا۔ جلال الدین دریائے سندھ کو عبور کر کے ہندوستان میں داخل ہو گیا۔ چند روز ہندوستان میں رہ کر 622 ہجری میں خوزستان اور عراق کی طرف چلا گیا اور اذربائجان اور ارمینیا پر قابض ہو گیا، یہاں تک کہ مظفر کے ہاتھ سے قتل ہوا۔

اس کے بعد تاتاریوں کا ٹڈی دل ناصر لدین اللہ کی مملکت کی طرف بڑھا اور سارے عالم اسلام کو قتل و غارت گری کا قبرستان بنا ڈالا۔ ناصر لدین اللہ نے خوارزم شاہ کو نیچا دکھانے کے لیے جو تدبیر کی، وہ آج بھی کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے۔ پہلی جنگ عظیم کے زمانے میں عربوں نے ترک خلافت کا جو اپنے سر سے اتار پھینکنے کے لیے انگریزوں کا ساتھ دیا۔ بنگلہ دیش نے پاکستانی غلبے کے خلاف اپنی لڑائی میں ایک خارجی ملک کو بہترین مددگار پایا۔

1970 افغانستان میں سردار داؤد خان کی حکومت کو ختم کرنے کے لیے وہاں کے لیڈر اشتراکی روس سے مل گئے۔ 1978 وغیرہ۔ اس طرح آج بھی اکثر مسلم ممالک کسی نہ کسی تاتاری فتنے کی شکارگاہ بنے ہوئے ہیں۔ اور ان نئے تاتاریوں کو جو لوگ مسلم ممالک میں داخلے کا راستہ دے رہے ہیں، وہ دوبارہ خود مسلمان ہیں جو اپنے حریف مسلمان کو شکست دینے کے لیے اغیار کو ان کے اوپر چڑھا لاتے ہیں۔

اس سیاست کا نتیجہ دوبارہ اسی بھیانک صورت میں نکل رہا ہے جو بارہویں صدی عیسوی میں ناصر لدین اللہ کے زمانے میں نکلا تھا۔ اس قسم کی سیاست میں نہ صرف ملت کے بہترین امکانات برباد ہوتے ہیں، بلکہ وہ دونوں فریقوں کے لیے اقسام مہلک ہے۔ جو لوگ اپنے مسلمان بھائی کی ضد میں اغیار کو اپنی صفوں میں داخل کرتے ہیں، وہ جب آتے ہیں تو صرف ان کے مفروضہ حریف کو ختم نہیں کرتے، بلکہ بیرونی دراندازی کی یہ سیاست بالاخر خود ان کے لیے بھی مہلک ثابت ہوتی ہے۔ وہ خود بھی بہت جلد اسی تخریبی سیاست کا شکار بن جاتے ہیں جس کا شکار وہ اپنے حریف مسلمان کو بنانا چاہتے تھے۔

بنگلہ دیش کے شیخ مجیب الرحمن کا قتل 1975 اور افغانستان کے کرنل عبدالقادر 1978 عیسوی کی تطہیر یعنی پیورج اس کی تازہ مثالیں ہیں۔ کتاب "اسباق تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 217۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.