← Asbaq-e-TareekhAsbaq-e-Tareekh
Taqreebi Siasat ka Anjaam
Urdu · 12 min
تخریبی سیاست کا انجام: عباسی خلیفہ مستنصر باللہ 641 ہجری میں فوت ہوا۔ یہ بہت نازک زمانہ تھا۔ چنگیز خان کی قیادت میں تاتاریوں نے ماوراء النہر سے لے کر بحر روم اور سجرا، بحر روم اور سجر اسود تک کے تمام ملکوں کو تاراج کر ڈالا تھا۔ تاہم عراق پر اب بھی عباسی خلیفہ کا قبضہ تھا، اور تاتاریوں کے اوپر خلیفہ بغداد کا رعب اتنا زیادہ تھا کہ وہ عراق کی طرف رخ کرنے کی ہمت نہیں کرتے تھے۔
حتیٰ کہ تاتاریوں کے مفتوحہ ممالک میں بدستور خلیفہ بغداد کا خطبہ مسجدوں میں پڑھا جاتا تھا۔ مستنصر باللہ کا ایک بھائی خفاجی نامی تھا، جو بہت بہادر اور اول العزم تھا۔ وہ کہا کرتا تھا کہ اگر مجھ کو خلیفہ بنایا جائے تو میں دریائے جیحوں کے پار تک ان تاتاریوں کا نام و نشان مٹا دوں۔ مگر سلطنت کے درباری اتنے طاقتور خلیفے کو اپنے لیے مسئلہ سمجھتے تھے۔
ان کا خیال تھا کہ اگر خفاجی کو تخت پر بٹھایا گیا تو وہ ہماری بات چلنے نہ دے گا۔ چنانچہ 641 ہجری میں مستنصر باللہ کا انتقال ہوا تو ارکانِ سلطنت نے خفاجی کو تخت پر بیٹھنے نہ دیا۔ انہوں نے مستنصر باللہ کے لڑکے ابو احمد عبداللہ کو خلافت کے لیے پسند کیا، کیونکہ وہ بہت نرم اور سادہ لوح قسم کا آدمی تھا۔ اس کو نہایت آسانی سے اپنے موافق بنایا جا سکتا تھا۔
مستنصر باللہ کے بعد اس کا یہی بیٹا تخت پر بیٹھا، اور اس کو معتصم باللہ کے نام سے پکارا گیا۔ اسی خلیفہ کے زمانے میں تاتاریوں کی تباہی اپنی تکمیل تک پہنچی۔ وہ ذاتی طور پر اگرچہ دیندار اور متبع سنت تھا، مگر وہ انسانوں کو پہچاننے کی صلاحیت نہ رکھتا تھا۔ اس نے پہلی بنیادی غلطی یہ کی کہ معید الدین القمی کو اپنا وزیر بنا دیا۔
القمی ایک غالی شیعہ آدمی تھا۔ اس کے سینے میں یہ آگ بھڑک رہی تھی کہ علویوں کے حقِ خلافت کو غصب کرنے والے عباسیوں کا خاتمہ کر دے، اور ان کی جگہ پر دوبارہ علوی خلافت قائم کرے۔ عباسیوں سے اس کا نفرت اور بغض اس کو اس انتہا تک لے گیا کہ وہ درپردہ تاتاریوں کا دوست بن گیا۔ عباسی سلطنت کو ختم کرنے کا کام وہ خود اپنی طاقت سے نہیں کر سکتا تھا۔
اس نے منصوبہ بنایا کہ تاتاریوں کو سہارا لے کر اپنے دشمن کو ختم کرے، اور اس کے بعد اپنی منشا کے مطابق علوی خاندان کے کسی فرد کو بغداد کے تخت پر بٹھائے۔ القمی نے وزارت پانے کے بعد پہلا کام یہ کیا کہ شیعوں کو آگے بڑھانا شروع کیا۔ حکومت کے تمام شعبوں میں شیعوں کو کلیدی مقامات پر بٹھا دیا، یہاں تک کہ حکومت پوری طرح القمی کے ہاتھ میں آ گئی۔ اب اس نے سوچی سمجھی اسکیم کے تحت یہ کوشش شروع کر دی کہ عباسیوں کا نام و نشان مٹا دے اور بغداد میں علویوں کی حکومت قائم کر دے۔
خلیفہ محل کی مصنوعی دنیا میں رہتا تھا، نیز القمی خلیفہ کے سامنے حد درجہ نیازمند اور وفادار بن کر آتا تھا۔ اس لیے خلیفہ اس کی اندرونی سازشوں سے واقف نہ ہو سکا۔ تاہم شہر کے بعض لوگ اس کے منصوبوں سے پوری طرح آگاہ تھے۔ انہوں نے خلیفہ سے مل کر اس کو مطلع کیا۔
مگر خلیفہ القمی کی ظاہری وفاداریوں کی وجہ سے اس کے بارے میں اتنا خوش فہم تھا کہ اس نے ان لوگوں کی باتوں کو خود القمی سے بیان کر دیا۔ اب القمی نے اور بھی زیادہ اپنی وفاداریاں اور فرمانبرداری ظاہر کر کے خلیفہ کو یقین دلا دیا کہ جن لوگوں نے خلیفہ سے اس قسم کی باتیں کہی ہیں، وہ فتنہ پرور اور غدار ہیں۔ چنانچہ ان لوگوں کی داروگیر شروع ہو گئی، اور ان کے انجام کو دیکھ کر بقیہ لوگوں نے بھی اپنی زبانیں بند کر لیں۔ اب القمی نے چنگیز خان کے پوتے ہلاکو خان سے خفیہ خط و کتابت شروع کی، جن کی سلطنت خراسان تک پہنچ چکی تھی۔
اب القمی نے چنگیز خان کے پوتے ہلاکو خان سے خفیہ خط و کتابت شروع کی، جس کی سلطنت خراسان تک پہنچ چکی تھی۔ القمی کے ذہن میں نشاں یہ تھا کہ ہلاکو خان کے ساتھ متحدہ محاذ بنا کر عباسی خلافت کا خاتمہ کر دے، اور اس کے بعد علوی خلافت کے قیام کے بارے میں اپنے منصوبے کی تکمیل کرے۔ تاہم تاتاری حکمران پر عباسی خلیفہ کا اتنا دبدبہ تھا کہ وہ بغداد پر فوج کشی کرنے کے لیے راضی نہ ہوا۔ القمی نے اصرار کیا تو اس نے کہا کہ جب تک میرے پاس کافی ضمانت نہ ہوگی، میں بغداد پر اقدام نہیں کر سکتا۔
القمی کے تخریبی ذہن نے ضمانت کی ایک تدبیر سوچ لی۔ اس نے خلیفہ کو یقین دلایا کہ ہمارے پاس فوج ضرورت سے زیادہ ہے۔ ملکی محاصل کا بڑا حصہ اس کے اوپر خرچ ہو جاتا ہے۔ اس لیے خرچ کو کم کرنے کی صورت یہ ہے کہ فوج کی تعداد گھٹا دی جائے۔
خلیفہ کی رضامندی لے کر القمی نے فوج کے ایک بڑے حصے کی چھٹی کر دی۔ کچھ فوجیوں کو بغداد سے دور دوسرے مقامات پر بھیج دیا، اور خلیفہ سے یہ کہہ دیا کہ ان کو تاتاریوں کی روک تھام کے لیے سرحد پر بھیجا گیا ہے۔ القمی کا ایک ساتھی خود ہلاکو خان کے دربار میں موجود تھا۔ یہ نصیر الدین طوسی تھا۔
طوسی بھی القمی کی طرح عالی غالی شیعہ تھا، اور القمی کے منصوبے میں پوری طرح شریک تھا۔ طوسی کی معرفت۔ القمی نے ہلاکو خان کو پیغام بھیجا کہ بغداد کو میں نے فوجوں سے خالی کر دیا ہے۔ حربی سامان کا بھی بڑا حصہ باہر بھیج دیا ہے۔
یہ واقعہ ہلاکو خان کی ضمانت طلبی کے لیے کافی ہونا چاہیے۔ ادھر طوسی نے ہلاکو خان کو یقین دلایا کہ علم نجوم سے معلوم ہوتا ہے کہ بغداد کے اوپر آپ کا قبضہ بہت جلد ہونے والا ہے۔ ان یقین دہانیوں کے بعد ہلاکو خان نے بغداد کا رخ کیا۔ پچاس روز تک بغداد کا محاصرہ جاری رہا۔
اس دوران دونوں طرف کی فوجوں میں کئی بار لڑائیاں ہوئیں۔ مگر القمی شہر کی تمام خبریں خفیہ طور پر ہلاکو خان کو پہنچا دیتا تھا، اور اس طرح بغداد والوں کی ہر اس دفاعی کوشش کو ناکام بنا دیتا تھا جو وہ تاتاریوں کے خلاف کرنا چاہتے تھے۔ جب محاصرہ بڑھا تو القمی نے ایک فرضی کارروائی کر کے خلیفہ سے کہا کہ ہلاکو خان آپ کو امان دینے پر راضی ہو گیا ہے، بشرطیکہ آپ اس سے ملیں اور آئندہ کے لیے کوئی باعزت سمجھوتہ کر لیں۔ خلیفہ القمی کے کہنے میں آ گیا اور القمی کے ساتھ اپنے محل سے نکل کر ہلاکو خان کے یہاں پہنچا۔
وہاں پہنچتے ہی ہلاکو خان نے اس کو گرفتار کر کے بند کر دیا اور بغداد کو قتل عام کا حکم دے دیا۔ بغداد کی مکمل تباہی کے بعد 9 سفر 656 ہجری کو ہلاکو خان خلیفہ معتصم کو لے کر بغداد میں داخل ہوا۔ خلیفہ سے پوچھ پوچھ کر محل کے تمام خفیہ خزانے نکلوا لیے۔ اس کے بعد حکم دیا کہ خلیفہ کو قتل کر دیا جائے۔
القمی نے ہلاکو خان سے کہا: "مسلمانوں کے خلیفہ کے خون سے اپنی تلوار کو آلودہ نہ کرو، بلکہ اس کو کچلوا کر مارو۔ " چنانچہ طوسی اور القمی نے خلیفہ کو نمدے میں لپیٹ کر اس کو ایک ستون میں باندھ دیا۔ اس کے بعد اس پر اتنی لاتیں لگوائیں کہ خلیفہ کا دم نکل گیا۔ عباسی خلیفہ کو ختم کرنے کے بعد القمی نے حسبِ قرارداد ہلاکو سے کہا کہ بغداد میں کسی علوی کو حاکم مقرر کر دے اور اس کو خلیفہ کا خطاب دے دے۔
ہلاکو خان نے ابتداً اس قسم کے مبہم وعدے کر لیے تھے، جس کی وجہ سے القمی کو یقین تھا کہ ہلاکو خان کسی علوی کو خلیفہ بنا کر مجھ کو اس کا نائب سلطنت بنا دے گا۔ مگر ہلاکو خان نے القمی کو ڈانٹ دیا اور بغداد پر اپنی قوم کا ایک حاکم مقرر کیا۔ القمی اس ذلت اور ناکامی کو برداشت نہ کر سکا اور اس کے بہت جلد بعد گھٹ گھٹ کر مر گیا۔ یہ وہی سیاست ہے جس کا خوبصورت نام موجودہ زمانے میں متحدہ محاذ رکھا گیا ہے۔
اس قسم کی تخریبی سیاست ہر زمانے میں رائج رہی ہے۔ کچھ سیاسی حوصلہ مندوں نے بنو امیہ کے ساتھ مل کر ہاشمی خلافت کو ختم کیا۔ اس کے بعد کچھ دوسرے سیاستدان اٹھے اور انہوں نے بنو عباس کے محاذ میں شامل ہو کر بنو امیہ کو ختم کیا۔ پھر ایک اور سیاسی گروہ اٹھا اور اس نے تاتاریوں کا ساتھ دے کر بنو عباس کا خاتمہ کیا۔
ان میں سے ہر ایک کا مقصد یہ تھا کہ وہ اپنے مفروضہ سیاسی حریف کو مشترکہ قوت سے ہٹا دے اور اس کے بعد اپنے آپ کو اوپر لائے۔ مگر ایک کا ایک ہی انجام ہوا۔ وہ وقت کے قابض گروہ کو ہٹانے میں تو ضرور کامیاب ہو گیا، مگر اپنے آپ کو اوپر لانے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔ تاریخ کا یہ تجربہ کافی تھا کہ موجودہ زمانے میں اس کو نہ دہرایا جائے۔
مگر عجیب بات ہے کہ ہمارے موجودہ زمانے کے قائدین آج بھی مسلسل اس کو دہرا رہے ہیں۔ نہ تاریخ کی مثالیں ان کو سبق دینے کے لیے کافی ثابت ہوئیں، اور نہ خود اپنا ناکام تجربہ۔ سیاسی تقلید کی یہ انوکھی مثال اس امت کے رہنما دہرا رہے ہیں جس کے رسول نے فرمایا تھا کہ اللہ پر ایمان لانے والا آدمی کبھی ایک بل سے دوبارہ نہیں ڈسا جاتا۔ "لا یلدغ المؤمن من جحر واحد مرتین" صحیح بخاری حدیث نمبر 6137۔
کتاب اسباق تاریخ مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 213۔