Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Futuhaat ka Raaz

Urdu · 7 min

ستوہات کراس یورپ کے ملک اسپین اور افریقہ کے ملک موراکو کے درمیان ایک سمندری پٹی ہے جس کی چوڑائی بعض مقامات پر صرف 8 میل ہے۔ یہاں اسپین کی جانب دو ساحلی مقامات کے نام یہ ہیں: طریفہ اور گبرالٹر۔ جبرالٹر، یعنی گبرالٹر، جبرالٹر؛ یہ دونوں اسپینی شہر دو مسلم سرداروں کے نام پر ہیں، جن میں سے ایک کا نام طریف اور دوسرے کا نام طارق تھا۔ یہ دونوں مسلم سردار 711 عیسوی، یعنی 92 ہجری میں موراکو، یعنی مراکش کے راستے سے، مراکش کے راستے سے، کشتیوں کے ذریعے اسپین میں داخل ہوئے۔

یہ وہ زمانہ تھا جب اسپین میں شاہ لرزخ، کنگ ریڈرک، کی حکومت تھی۔ بادشاہ کے مظالم سے بگڑ کر خود اسپین کے لوگوں نے مسلمانوں کو اسپین پر حملہ کرنے کی دعوت دی۔ چنانچہ مسلمانوں کی فوج جو ابتدا میں اسپین میں داخل ہوئی، اس کے ساتھ ایک اسپینی سردار، کاؤنٹ جولین، بھی شامل تھا اور مسلمانوں کی رہنمائی کر رہا تھا۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا 1984 کے ایک مقالہ نگار نے اعتراف کیا ہے کہ اسپین پر مسلمانوں کا حملہ گاتھ لوگوں کی دعوت کا نتیجہ تھا، نہ کہ مسلمانوں کا اپنا اقدام۔

But the Muslim invasion of Spain was the result of Visigoth invitation rather than Muslim initiative. والیوم 17، پیج 414۔ اسپین کے لوگ بادشاہ کے مظالم سے تنگ آ چکے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر اسپینی باشندوں نے تعجب خیز طور پر طارق ابن زیاد کی رضاکارانہ اطاعت قبول کر لی۔

Much to his surprise, many Spainis submitted to him voluntary. انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، والیوم 17، پیج 414۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے مقالہ نگار نے مزید لکھا ہے کہ مسلمانوں کی فتح نے اسپینی سماج کے بہت سے عناصر کو فائدہ پہنچایا۔ ٹیکسوں کا بوجھ مجموعی طور پر اس سے کم سخت ہو گیا جو گاتھ عہد کے آخری برسوں میں اسپین میں تھا۔

غلام مزدور جنہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا، ان کو آزاد حیثیت حاصل ہو گئی۔ یہود اب ستائے نہیں جا رہے تھے اور انہیں اب دوسرے اسپینی فرقوں کے برابر کا درجہ حاصل تھا۔ اس طرح 8ویں صدی کے نصف اول میں اسپین میں ایک نیا اور بالکل مختلف سماج پیدا ہو گیا۔ The Muslim conquest brought advantages to many elements of society.

The burden of taxes was on the wholeness, wondrous than it had been in the last years of the Visigoth spoken serfs who converted to Islam. Advanced into the category of freedom, Jews were no longer persecuted and were placed on an equal footing with the Hispano-Romans and Goths in the first half of the 8th century. There was born a new, quite different society in Muslim Spain. انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، والیوم 17، پیج 414۔

یہاں جو بات اسپین کے مسلم عہد کے بارے میں کہی گئی ہے، وہی مسلمانوں کی دوسری فتوحات کے بارے میں بھی صحیح ہے۔ ایک صدی سے بھی کم عرصے میں مسلمان جس طرح دنیا کے بڑے حصے پر چھا گئے، اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ یہ ممالک اپنے ملکی حکمرانوں کے مظالم سے تنگ آئے ہوئے تھے۔ وہ کسی نئے نجات دہندے کے انتظار میں تھے۔ چنانچہ انہوں نے ہر جگہ مسلمانوں کو خوش آمدید کہا۔

بادشاہوں سے ضرور مسلمانوں کی لڑائیاں ہوئیں، مگر ان ملکوں کے عوام کے دل اکثر مقامات پر مسلمانوں کے ساتھ تھے۔ انہوں نے نہایت آسانی سے ہر جگہ مسلمانوں کی اطاعت قبول کر لی۔ اسپین کا 800 سالہ مسلم عہد تہذیب کی تاریخ میں انتہائی شاندار عہد تھا۔ مسلمانوں نے اس دور میں ہر اعتبار سے اعلیٰ ترین مثال قائم کی۔

کسی عیسائی پر کبھی مذہب کی بنیاد پر ظلم نہیں کیا گیا۔ جن لوگوں نے اسلام قبول کیا، اسلام کی خوبیوں سے آگاہ ہو کر آزادانہ طور پر کیا۔ انصاف کا حال یہ تھا کہ سلطان عبدالرحمن ثانی پر ایک عیسائی نے قاضی کے یہاں دعویٰ دائر کیا اور سلطان کو ایک عام آدمی کی طرح قاضی کی عدالت میں جانا پڑا۔ مسلمانوں نے تمام ملک میں سڑکوں اور نہروں کا جال بچھا دیا۔

جگہ جگہ پل بنائے گئے۔ تعلیم، تعمیر، تعلیم، تعمیر معدنیات، زراعت، باغبانی، جہاز رانی، صنعت—غرض کوئی شعبہ ایسا نہ تھا جس میں انہوں نے اسپین کو غیر معمولی ترقی نہ دی ہو۔ مگر تعصب اندھا ہوتا ہے۔ مسیحی لوگ تعصب کی بنا پر مسلمانوں کے دشمن ہو گئے۔

اس کی قیمت انہیں یہ دینی پڑی کہ اسپین پھر دوبارہ ترقی نہ کر سکا۔ مسلمانوں کی تاریخ ختم کرنے کی کوشش میں ان کی اپنی تاریخ بھی ختم ہو گئی۔ کتاب "اسباق تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 210۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.