Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Zalim ke liye Kamiyabi nahi

Urdu · 4 min

ظالم کے لیے کامیابی نہیں۔ نظام الملک طوسی سلطنت سلجوقیہ کا وزیر اعظم تھا۔ نظام الملک طوسی سلطنت سلجوقیہ کا وزیر اعظم تھا۔ اس نے دو سلجوقی حکمران، الپ ارسلان اور ملک شاہ کے زمانے میں نہایت کامیابی کے ساتھ حکومت کا نظام سنبھالا۔

وہ حکومت کے معاملات میں اتنا زیادہ دخیل تھا کہ کہا جاتا ہے کہ بادشاہ کا کام تخت پر بیٹھنا رہ گیا، رہ گیا تھا، یا شکار کھیلنا۔ سلجوقی حکومت کے حریفوں نے نظام الملک کو قتل کرا دیا۔ ایک شخص نے صوفی کے بھیس میں 1092 عیسوی میں اس پر حملہ کر کے اسے ختم کر دیا۔ نظام الملک کے مرتے ہی سلجوقی سلطنت کا شیرازہ بکھر گیا۔

نظام الملک طوسی کی لیاقت کو عام طور پر مؤرخین نے تسلیم کیا ہے۔ پی کے ہٹی نے اپنی کتاب "ہسٹری آف دی عربس" میں نظام الملک کی بابت لکھا ہے کہ اسلام کی سیاسی تاریخ میں وہ ایک درخشندہ نام کی حیثیت رکھتا ہے۔ One of the ornaments of the political history of Islam, page 477. نظام الملک طوسی کا زمانہ 11ویں صدی عیسوی کا زمانہ ہے۔

اس کے مختلف کارناموں میں مشہور مدرسہ نظامیہ کا قیام 1065 تا 67 عیسوی بھی ہے۔ وہ اسی مدرسے سے اپنے لیے انتظامیہ اور عدلیہ کے لیے تربیت یافتہ افراد حاصل کرتا تھا۔ نظام الملک نے طریق حکومت پر ایک کتاب لکھی ہے جس کا فارسی نام "سیاست نامہ" ہے۔ اس کتاب میں اس نے لکھا ہے: "الملک یبقى مع الكفر ولا يبقى مع الظلم" "سیاست نامہ" سیر الملوک، صفحہ 48۔

یعنی حکومت کفر کے ساتھ باقی رہ سکتی ہے، مگر وہ ظلم کے ساتھ باقی نہیں رہ سکتی۔ یہ اصول بادشاہ کے لیے بھی صحیح ہے اور ایک عام آدمی کے لیے بھی۔ ہر آدمی کا اپنا ایک دائرہ عمل ہوتا ہے۔ بادشاہ کا دائرہ بڑا ہوتا ہے اور عام آدمی کا چھوٹا۔

جو آدمی کامیابی کے ساتھ زندہ رہنا چاہتا ہو، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے دائرے میں ظلم کرنے سے بچے۔ اگر اس نے دوسروں پر ظلم کرنے سے اپنے کو نہ بچایا تو یقینی طور پر وہ قدرت کی پکڑ میں آ جائے گا۔ خدا کی سنت ہے کہ آدمی کے دوسرے جرموں کی سزا تو اس کو آخرت میں دی جاتی ہے، مگر جو شخص ظلم کرے اور ناحق دوسروں کو ستائے، اس کی سزا اسی دنیا سے شروع ہو جاتی ہے۔ ظلم کرنے والا خدا کی پکڑ سے بچ نہیں سکتا، خواہ جلد پکڑا جائے یا دیر میں۔

ظلم ایک ایسی برائی ہے جس کا خمیازہ اولاد تک کو بھگتنا پڑتا ہے۔ ظلم کرنے والا، خواہ کوئی حکمران ہو یا غیر حکمران، اگر وہ اپنے ظلم پر قائم رہتا ہے تو لازماً ایسا ہوگا کہ اس کے ظلم کا انجام اس کے خاندان تک پہنچے گا۔ آدمی اپنے بچوں کی خاطر ظلم کرتا ہے، حالانکہ بچوں کے حق میں اس سے زیادہ بری وراثت اور کوئی نہیں۔ کتاب "اسباق تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 209۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.