← Asbaq-e-TareekhAsbaq-e-Tareekh
Aala Zarfi
Urdu · 10 min
اعلیٰ ظرفی امیر معاویہ کی خلافت کے زمانے کا واقعہ ہے۔ اس زمانے میں روم کی مشرقی سلطنت کے اکثر حصے فتح ہو چکے تھے۔ رومی بادشاہ پسپا ہو کر قسطنطنیہ، یعنی ترکی کے قلعے میں رہنے لگا تھا، تاہم سرحد پر وہ مسلمانوں سے چھیڑ چھاڑ کرتا رہتا تھا۔ اسی قسم کی ایک جھڑپ میں ایک بار روسیوں نے کچھ مسلمانوں کو قید کر لیا، جن میں قریش کا ایک آدمی بھی شامل تھا۔
رومی بادشاہ کو معلوم ہوا تو اس نے کہا کہ وہ لوگ میرے سامنے حاضر کیے جائیں۔ مسلمان قیدی اس حال میں دربار میں لائے گئے کہ ان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے اور پاؤں میں بیڑیاں پڑی ہوئی تھیں۔ رومی بادشاہ نے ان سے ذلت آمیز گفتگو کی۔ اس نے کہا کہ تم جیسے لوگوں کی سزا یہی ہے۔
ہم تم کو اسی طرح سزا دیں گے، یہاں تک کہ تم مر جاؤ اور تمہارے ہم خواہوں کو عبرت ہو کہ وہ ہمارے علاقے کی طرف دیکھنا چھوڑ دیں۔ قریشی کو بادشاہ کا کلام سن کر غیرت آ گئی۔ اس نے بادشاہ کو سخت انداز میں جواب دیا۔ اس نے کہا کہ جب تک تمہاری اسلام دشمنی ہے، تمہارے خلاف ہماری جنگ جاری رہے گی، اور تم جان لو گے کہ خدا کے راستے میں ہمارا خون بہت سستا ہے۔
مگر وہ اس وقت بہت قیمتی ہو جائے گا جبکہ تمہارے جیسا بادشاہ ہم کو قتل کرے۔ قریش قریشی کا یہ جواب سن کر دربار کے ایک بتریخ، یعنی پٹریچ، کو غصہ آ گیا۔ وہ اٹھ کر قریشی کے پاس آیا اور اس کے چہرے پر دائیں بائیں دو تمانچہ مارا۔ قریشی کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے، اس لیے اس وقت وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا۔
البتہ اپنی اس بے عزتی پر وہ چیخ پڑا: وَسَهَلْ قُرَشِيُّ بِأَعْلَىٰ سَوْتِهِ يَا مُعَاوِيَةُ أَيْنَ أَنْتَ لِتَنْتَقِمَ مِنْ هَؤُلَاءِ الْأَنْذَالِ الَّذِينَ لَطَمُوا شَرِيفًا مِنْ أَهْلِكَ ۗ وَالْتَفَتَ إِلَى الْبِتْرِيخِ وَقَالَ أُقْسِمُ بِاللَّهِ إِنَّ لِي مَعَكَ يَوْمًا سَتَعْرِفُ فِيهِ مَنْ أَنَا یعنی قریشی بلند آواز سے چیخا: اے معاویہ، تم کہاں ہو کہ ان ذلیل لوگوں سے انتقام لو جنہوں نے تمہارے ایک شریف آدمی کو تمانچہ مارا ہے۔ پھر وہ بتریخ کی طرف مخاطب ہوا اور کہا کہ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تمہارے ساتھ میرا ایک دن آئے گا جبکہ تم جان لو گے کہ میں کون ہوں۔ اس واقعے کی خبر قسطنطنیہ سے دمشق پہنچی۔ امیر معاویہ کو اسے سن کر بہت رنج ہوا۔
انہوں نے عزم کیا کہ اس سلسلے میں ضرور کچھ نہ کچھ کرنا چاہیے۔ امیر معاویہ نے اولاً رومی بادشاہ سے تبادلے کی بنیاد پر مسلمان قیدیوں کی رہائی کی بات کی، یہاں تک کہ مسلم قیدیوں کی تعداد کے مقابلے میں رومی قیدیوں کی زیادہ تعداد کو واپس کر کے اپنے قیدیوں کو رہا کرا لیا۔ اس کے بعد امیر معاویہ نے نہایت خاموشی کے ساتھ ایک منصوبہ بنایا۔ انہوں نے تلاش کر کے سور، یعنی شام کے ایک آدمی کو حاصل کیا۔
وہ تاجر تھا اور رومی زبان جانتا تھا۔ امیر معاویہ نے کثیر مقدار میں اس کو سونے کے دینار دیے۔ اس کو پورا منصوبہ بتایا اور کہا کہ تم جاؤ اور کسی نہ کسی طرح اس بتریخ کو پکڑ کر دمشق لے آؤ۔ اس آدمی نے تاجر کے روپ میں سفر کیا اور اس طرح دمشق سے قسطنطنیہ پہنچا۔
بتریخ کے بارے میں معلومات حاصل کر کے اس سے تعلقات پیدا کیے۔ اس کو قیمتی تحفے، یعنی عطر، جواہرات، ریشمی کپڑے وغیرہ پیش کیے۔ اس طرح وہ کئی بار دمشق سے قسطنطنیہ اور قسطنطنیہ سے دمشق آتا جاتا رہا اور بتریخ کو تحفے دیتا رہا۔ یہ پورا معاملہ اتنی رازداری کے ساتھ ہوا کہ تاجر اور امیر معاویہ کے سوا کسی اور کو اس کی مطلق خبر نہ ہو سکی۔
اس طرح لمبا عرصہ گزر گیا۔ جب بتریخ سے کافی تعلقات ہو گئے تو اس نے بطور خود کچھ خاص تحفے لانے کی فرمائش کی۔ تاجر اس سے وعدہ کر کے واپس ہوا۔ وہ دمشق آیا۔
یہاں اس نے نہایت تیز رفتار اونٹنی حاصل کی۔ اونٹنی کو ایک آدمی کے ساتھ لا کر ایک خاص مقام پر ٹھہرایا۔ اس کے بعد وہ بتریخ کے پاس گیا اور کہا کہ میں تمہارے تمام تحفے لے کر آیا ہوں۔ تم میرے ساتھ چلو۔
اس طرح حیلہ کر کے وہ بتریخ کو مذکورہ مقام پر لے گیا۔ یہاں دونوں نے اچانک بتریخ کو پکڑ لیا۔ انہوں نے نہایت تیزی سے بتریخ کے ہاتھ پاؤں باندھے اور اس کو سواری پر بٹھا کر ہوا کی رفتار سے دمشق کی طرف روانہ ہو گئے۔ بتریخ جب دمشق پہنچ گیا تو امیر معاویہ نے ایک مجلس میں بہت سے لوگوں کو جمع کیا اور مذکورہ قریشی کو بھی بلایا۔
اس کے بعد ایک پردہ ہٹایا گیا تو اس کے پیچھے مذکورہ بتریخ موجود تھا۔ قریشی اس کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ تاریخ کے اگلے الفاظ یہ ہیں: قَالَ مُعَاوِيَةُ يُخَاطِبُ الْقُرَشِيَّ: يَا يَبْنَ عَمِّي، أَلَآنَ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَشْكُرَ السُّورِيَّ؟ فَقَدْ نَفَّذَ كُلُّ تَدْبِيرٍ دَبَّرْتُهُ لَهُ دُونَ أَنْ يُخَيِّبَ ظَنِّي فِي أَقَلِّ شَيْءٍ، وَالْآنَ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَأْخُذَ بِحَقِّكَ مِنَ الْبِتْرِيخِ دُونَ ظُلْمٍ لَهُ.
قَالَ الْقُرَشِيُّ: لَوْلَا أَنِّي أَقْسَمْتُ لَعَفَوْتُ عَنْهُ وَرَفَعَ يَدَهُ وَلَطَمَهُ لَطْمَةً وَاحِدَةً، وَهُوَ يَقُولُ: هَذِهِ تَكْفِي، وَأَعْفُ عَنْهُ فِيمَا بَقِيَا. وَنَظَرَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْبِتْرِيخِ وَقَالَ: بَعْدَ هَذَا أَنْتَ فِي ضِيَافَتِنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَمَرَّتِ الأَيَّامُ الثَّلَاثَةُ. فَأَعَادَهُ السُّورِيُّ وَمَعَهُ كُلُّ الْهَدَايَا الَّتِي كَانَ قَدْ طَلَبَهَا. وَفِي قَصْرِ مَلِكِ الرُّومِ اِلْتَفَّ الْبَطَارِقَةُ حَوْلَ الْمَلِكِ لِيَقُولَ لَهُمْ: لَا تُسِيءُوا إِلَى أَسْرَى الْمُسْلِمِينَ مُنْذُ الْآنَ، فَمَا رَأَيْتُ مِثْلَهُمْ عِزَّةً وَكَرَامَةً وَأَخْلاَقًا.
وَلَوْ أَرَادَ مُعَاوِيَةُ أَنْ يَخْطَفَنِي لَمَّا عَجَزَ، لَكِنَّهُ لَا يَرْضَى. الدعوة مَكَّة 14 جماد الأولى 1405 ہجری یعنی امیر معاویہ نے قریشی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اے میرے چچا کے بیٹے، اب تم اس سوری تاجر کا شکریہ ادا کرو۔ اس کو میں نے جو تدبیر بھی بتائی، اس کو اس نے بغیر کسی ادنیٰ کمی کے نافذ کیا۔ اور اب تم اس بتریخ سے اس پر ظلم کیے بغیر اپنا حق لے سکتے ہو۔
قریشی نے کہا کہ اگر میں نے قسم نہ کھائی ہوتی تو میں اس کو معاف کر دیتا۔ پھر ہاتھ اٹھایا اور اس کو ایک تمانچہ مارا اور کہا کہ بس یہ کافی ہے۔ بقیہ کو میں اس سے معاف کرتا ہوں۔ پھر معاویہ نے بتریخ کی طرف دیکھا اور کہا کہ اب تم تین دن کے لیے ہمارے مہمان ہو۔
تین دن گزرنے کے بعد اس کو سوری تاجر نے اس حال میں واپس کیا کہ اس کے ساتھ وہ تمام تحفے تھے جن کو اس نے طلب کیا تھا۔ اس کے بعد قسطنطنیہ میں تمام بتریخ رومی بادشاہ کے پاس جمع ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اب مسلم قیدیوں کے ساتھ برا سلوک نہ کرو کیونکہ میں نے عزت اور شرافت اور اخلاق میں ان کے جیسا نہیں دیکھا۔ اور اگر معاویہ مجھ کو پکڑنا چاہتے تو وہ اس کے لیے عاجز نہ تھے، مگر انہوں نے ایسا کرنا پسند نہیں کیا۔
کتاب اسباق تاریخ مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 236.