Maulana Wahiduddin Khan
18 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Mazi aur Haal ka Farq

Urdu · 18 min

ماضی اور حال کا فرق: ہمارے ماضی اور ہمارے حال میں یہ فرق کیوں ہے؟ اس کو خود اس معاملے کی ایک مثال سے سمجھیے۔ 13ویں صدی عیسوی میں جبکہ مسلمان سیاسی طاقت، تمدنی ترقی، اور علوم و فنون میں دنیا کی تمام قوموں سے بڑھے ہوئے تھے، یورپ نے طے کیا کہ اس کو عربی پڑھنی ہے اور مسلمانوں کے علوم سیکھنے ہیں۔ یہی فیصلہ تھا جو 16ویں صدی کے اس عظیم واقعے کا سبب بنا، جس کو دنیا یورپ کی نشاطِ ثانیہ یعنی رینیسانس کے نام سے جانتی ہے۔

مسلمانوں کے علوم سیکھ کر اور ان میں اضافہ کر کے، بالآخر یورپ اتنا طاقتور ہو گیا کہ نہ صرف مسلمانوں پر بلکہ ساری دنیا پر چھا گیا۔ اس واقعے کے 400 برس بعد یہی صورتحال برق شکل میں مسلمانوں کے سامنے تھی۔ انہوں نے دیکھا کہ یورپ سیاست و تمدن اور علوم و فنون میں سب سے آگے بڑھ گیا ہے۔ ان کے اندر یہ رجحان ابھرا کہ وہ یورپی زبانیں سیکھیں اور یورپ کے علوم کو حاصل کریں، مگر یہاں نتیجہ برعکس نکلا۔

یورپی طرز کی تعلیم نے ہم کو یورپ کا ذہنی غلام بنا دیا۔ ہم اپنے علیحدہ قومی وجود کو بھول کر یورپ کے رنگ میں رنگ گئے۔ ایک ہی نوعیت کے دو واقعات میں انجام کا یہ فرق کیوں ہے؟ اس کا جواب ذہنیت کے اس فرق میں ہے جو دونوں جگہ پایا جاتا ہے۔

یورپ نے ہمارے علوم کو اس جذبے کے تحت سیکھا تھا کہ وہ ہمارے ہتھیاروں سے ہم کو شکست دے سکے۔ اس کے برعکس ہم یورپی علوم کی طرف اس لیے بڑھے کہ ہم اس کے نقال بن کر اس کی نظروں میں باعزت ہو جائیں۔ اور جہاں ذہنیت میں اس قسم کا فرق پایا جائے، وہاں انجام میں فرق پایا جانا لازمی ہے۔ مسلمانوں کو تقریباً 1000 سال تک دنیا میں وہی حیثیت حاصل رہی ہے جو آج روس یا امریکہ کو حاصل ہے۔

اس وقت جبکہ یورپ پر ابھی قرونِ مظلمہ یعنی ڈارک ایجز کا اندھیرا چھایا ہوا تھا، عرب مسلمان ایک شاندار تہذیب کو وجود میں لا چکے تھے۔ اور اس وقت مسلمان ساری دنیا میں علم اور تہذیب کے تنہا مالک تھے۔ عربی زبان دنیا کی واحد علمی زبان تھی، اور ساری دنیا کے لوگ علوم و فنون کے اکتساب کے لیے مسلم مرکزوں یعنی دمشق، بغداد، قرطبہ، غرناطہ کا اسی طرح سفر کرتے تھے جیسے آج لوگ اعلیٰ تعلیم کے لیے یورپ اور امریکہ کے شہروں میں جاتے ہیں۔ 12ویں اور 13ویں صدی میں جبکہ مسلمانوں کی طاقت عروج پر تھی اور وہ عرب سے بڑھتے بڑھتے فرانس تک پہنچ گئے تھے، اس وقت یورپ نے مسلمانوں کے خلاف اپنی شدید ترین جنگ چھیڑ دی۔

اور 11ویں صدی کے آخر 1096 سے لے کر 13ویں صدی کے آخر تک 200 برس پورا یورپ مسلمانوں کے خلاف خوفناک جنگ لڑتا رہا۔ یہ جنگ جو صلیبی لڑائیوں یعنی کروسیڈز کے نام سے مشہور ہے، بالآخر یورپ کی مکمل ناکامی پر ختم ہوئی۔ مگر یورپ نے ہمت نہیں ہاری۔ اب اس کے اندر ایک نیا رجحان ابھرا۔

صلیبی جنگوں کے درمیان اہلِ یورپ کو تجربہ ہو گیا تھا کہ مسلمان علم اور سائنس میں ان سے بہت آگے ہیں۔ اس وقت کا تصور کیجیے جب مصری فوج نے منجنیقوں کے ذریعے فرانسیسی لشکر پر آگ کے بان پھینکنا شروع کیے۔ یہ بان جب منجنیقوں سے نکل کر دشمن کی طرف بڑھتے تو ایسا نظر آتا جیسے بڑے بڑے آتشین اژدھے ہوا میں اڑ رہے ہیں۔ فرانسیسی، جن کے پاس اس وقت پرانے دستی ہتھیاروں کے سوا اور کچھ نہ تھا، ان کے لیے یہ بان ایسے ہی بھیانک تھے جیسے آج کسی پسماندہ اور بے سروسامان ملک پر جدید ترین راکٹوں کے ذریعے حملہ کر دیا جائے۔

اسی طرح مسلمان تہذیب و تمدن کے تمام پہلوؤں میں نمایاں طور پر اہلِ یورپ سے بڑھے ہوئے تھے۔ چنانچہ صلیبی جنگوں کے نام چنانچہ صلیبی جنگوں کے ناکام تجربے کے بعد یورپ نے فیصلہ کیا کہ مسلمانوں کو شکست دینے کے لیے اب اس کو دوسرے قسم کے جنگ چھیڑنی ہے۔ اور وہ یہ کہ مسلمانوں کے ہنر اور ان کے علوم کو سیکھ کر انہیں انہی کے ہتھیاروں سے انہیں شکست دی جائے۔ اب ایک طرف یورپ کے مذہبی طبقے نے روحانی صلیبی جنگ یعنی اسپرچول کروسیڈز کا نعرہ دیا۔

اس کا مطلب یہ تھا کہ مسلمانوں کے مذہبی علوم کو سیکھا جائے اور مسلمانوں کی تاریخ اور ان کے عقائد کو اس طرح بگاڑ کر پیش کیا جائے کہ مسلمان اپنے دین سے متنفر ہو جائیں اور عیسائیت قبول کر لیں تاکہ وہ قوم جس کو فوجی میدان میں شکست نہیں دی جا سکی ہے، اس کو عددی حیثیت سے کمزور کر کے مغلوب کیا جا سکے۔ عیسائی مشنری عیسائی مشتری تحریک پہلی بار صلیبی جنگوں کے زمانے میں شروع ہوئی۔ پہلا شخص جس نے 1154 عیسوی میں ماؤنٹ کارمل پر مشنری نظام قائم کیا۔ عیسائی مشنری تحریک پہلی بار صلیبی جنگوں کے زمانے میں شروع ہوئی۔

پہلا شخص جس نے 1154 عیسوی میں ماؤنٹ کارمل پر مشنری نظام قائم کیا، وہ ایک صلیبی ہی تھا۔ بعد کو فرانس بعد کو فرانسسکن 1219 نے اس کی پیروی کی۔ یہ مشنری تحریک آج ساری دنیا میں سب سے زیادہ طاقتور تبلیغی ادارے کی حیثیت سے کام کر رہی ہے۔ اس کی کوششیں اس حد تک کامیاب ہوئی ہیں کہ ساری دنیا کا لٹریچر اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں غلط قسم کی باتوں سے بھر گیا ہے۔

دوسری طرف مسلمانوں کا فلسفہ و سائنس اور ان کے علوم و فنون سیکھنے کی تحریک زور شور سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ یورپ کی درس گاہوں میں عربی زبان پڑھانے کا انتظام کیا گیا۔ مسلمانوں کی تصنیفات کے ترجمے یورپ کی زبانوں میں کیے جانے لگے۔ یورپ کے طلباء مسلم شہروں میں تحصیل علم کے لیے جانا شروع ہوئے۔

جنگ کی یہ نئی تکنیک اختیار کرنے کی وجہ سے یورپ کو اندرونی طور پر مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس وقت یورپ کے قدامت پسند حلقوں میں عربی زبان کی توثیق کی حوصلہ افزائی کے سلسلے میں ناراضگی پائی جاتی تھی۔ جس کی وجہ خاص طور پر یہ اندیشہ تھا کہ عربی سیکھنے سے عیسائیوں کے درمیان اسلامی خیالات پھیلنا شروع ہو جائیں گے۔ مثال کے طور پر فرانسسکن فرانسسکن راہب راجر بیکن 1214 تا 18 1214 تا 94 جو اپنے وقت کا مشہور انگلش تانی عالم تھا، اس نے جب عربی زبان کی اہمیت پر زور دیا تو اکسفورڈ کے علماء چلا اٹھے۔

بیکن مسلمان یعنی سراسن ہو گیا۔ مگر اس طرح کی مخالفتوں کے باوجود مسلمانوں کی زبان اور ان کے علوم سیکھنے کا رجحان بڑھتا رہا۔ مسلم محققین کے حاصل کو لے کر یورپ نے اپنی کوشش سے اس میں اضافے کیے اور اتنی ترقی کی کہ تاریخ میں پہلی بار قوت کا معیار بدل گیا۔ اور بالآخر مسلمانوں کو ہر میدان میں شکست دے کر علم و عمل کی پوری دنیا کا مالک بن گیا۔

جدید مورخین نے تقریباً متفقہ طور پر تسلیم کیا ہے کہ یورپ کی نشاط ثانیہ کا اہم ترین محرک وہ علوم تھے جو مسلمانوں کی معرفت یورپ تک پہنچے۔ ویسٹرن سویلائزیشن ایڈورڈ میکنال برن اس کے 500 برس بعد تاریخ دوسرا منظر دیکھتی ہے۔ یورپ کی ترقی اور عروج سے متاثر ہو کر مسلمانوں کے اندر یہ رجحان ابھرا کہ وہ یورپ کے علوم و فنون کو سیکھیں۔ مگر یہاں اس رجحان کا محرک اس سے بالکل مختلف تھا جو یورپ کی تاریخ میں ہمیں نظر آتا ہے۔

سر سید احمد خان 1817 تا 98 جو پروفیسر گب کے الفاظ میں اسلام میں پہلی جدت پسند تنظیم یعنی ماڈرسٹ ارگنائزیشن کے بانی تھے۔ انہوں نے 1875 عیسوی میں علی گڑھ کالج قائم کیا اور اس پر اپنی ساری زندگی وقف کر دی۔ یہاں تک کہ 1921 میں وہ یونیورسٹی بن گیا۔ وہ یورپی طرز کی تعلیم کے زبردست حامی تھے۔

ان کا مقصد اس تعلیم سے کیا تھا؟ اس کی ترجمانی ان کے رفیق خاص مولانا حالی نے ان الفاظ میں کی ہے۔ حالی اباؤ پیروی مغ حالی اباؤ پیروی مغرب پیروی مغربی کریں۔ حالی اباؤ پیروی مغربی کریں۔

سر سید نے جب انگلستان سے واپس آ کر دسمبر 1870 میں تہذیب الاخلاق نکالنا شروع کیا تو انہوں نے پہلے پرچے کے شروع میں لکھا: "اس پرچے کے اجراء سے مقصد یہ ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کو کامل درجے کی سویلائزیشن یعنی تہذیب اختیار کرنے پر راغب کیا جائے تاکہ جس حقارت سے سویلائزڈ یعنی مہذب قومیں ان کو دیکھتی ہیں وہ رفع ہو اور وہ بھی دنیا میں معزز و مہذب قوم کہلا دیں۔ " سر سید جب ترقی کا تصور کرتے تو ان کے ذہن میں زرق برخ وردیاں پہنے کرنل اور میجر بنے ہوئے مسلمان نوجوان ہوتے تھے۔ ان کا منتہائے مقصود ایسی تعلیم تھی جو مسلمانوں کو اعلی عہدوں تک پہنچا سکے۔ سر سید کی تہذیب کو مہدی افادی نے بجا طور پر اینگلو محمدن کلچر کا نام دیا ہے۔

کمال عطا ترک 1881 تا 1938 جو اس گروہ کا دوسرا نمایاں ترین نام ہے۔ وہ اس معاملے میں سر سید سے بھی آگے تھے۔ ترکی میں مغربی تعلیم و تہذیب کی اشاعت سے کمال عطا ترک کا مقصد کیا تھا؟ اس کا اندازہ اس عنوان سے ہوتا ہے جو اس مہم کو وہاں دیا گیا۔

کمال عطا ترک اور ان کے ساتھیوں کے نزدیک یہ غرب دوغرو تھا جس کے معنی ترکی زبان میں سمت مغرب میں سفر کے ہیں۔ سمت مغرب میں سفر کا یہ کام اس درجہ اہم تھا کہ صرف رومن رسم الخط جاری کرنے اور ترکی باشندوں کو ہیٹ پہنانے ہیٹ پہنانے کے لیے ہزاروں آدمی اس طرح ہلاک کر دیے گئے گویا وہ ریاست گویا وہ ریاست بغاوت کے مجرم ہوں گویا وہ ریاست بغاوت کے مجرم ہوں۔ اسی تقلیدی ذہنیت کا نتیجہ تھا کہ ہمارے ان مصلحین کی ساری توجہ بس یورپ کی تہذیب اور یورپ کے زبان و ادب کے حصول پر لگی رہی۔ سائنس اور ٹیکنالوجی جو مغربی قوموں کی ترقی کا اصل راز ہے اس کو مسلمانوں کے اندر رائج کرنے کی انہوں نے زیادہ کوشش نہیں کی۔

سر سید نے تو صراحتاً مسلمانوں کے لیے ٹیکنیکل ایجوکیشن کی مخالفت کی اور اعلی درجے کی دماغی تعلیم کو سب سے مقدم قرار دیا۔ یہی اس زمانے میں تعلیم جدید کے حامیوں کا عام نقطہ نظر تھا۔ ان حضرات نے ساری توجہ صرف اس پر دی کہ ایک ایسا گروہ پیدا ہو جائے جو مغربی تمدن اور یورپی ادب میں کمال حاصل کیے ہوئے ہو۔ کمال عطا ترک کا نام کمال عطا ترک کا نام نہاد انقلاب اور روس کے اشتراکی انقلاب میں صرف چند سال کا فرق ہے۔

مگر حیرت انگیز بات ہے کہ روس آج خلائی دور میں داخل ہو چکا ہے اور ترکی ابھی تک زمین پر بھی مستحکم مقام حاصل نہ کر سکا۔ یورپ جس ذہن کے تحت ہمارے علوم کی طرف بڑھا وہ یہ تھا کہ مسلمانوں سے ان کے علوم اور ان کے ہنر کو لے کر اس کے ذریعے سے انہیں شکست دی جائے۔ ان چیزوں کو اس نے وقت کی طاقت سمجھا اور ان کو اپنے دشمن کے مقابلے میں استعمال کیا۔ چنانچہ اپنی اس مہم کو یورپ نے تقلید مشرق یا تقلید مسلم کا نام نہیں دیا بلکہ اس کو روحانی صلیبی جنگ یعنی اسپرچول کروسیڈز کہا۔

جس کا مطلب یہ تھا کہ صلیبی لڑائیوں کی ہاری ہوئی بازی کو نئی تکنیک سے کامیاب بنایا جائے۔ اور جب اس کوشش سے وہ اپنے کو ایک نئے انقلاب تک پہنچانے میں کامیاب ہو گئے تو اس کو انہوں نے یہ حیثیت دی گویا انہوں نے خود اپنی کھوئی ہوئی حیثیت دوبارہ حاصل کی ہے۔ چنانچہ یورپ میں اس نئے انقلاب کا تاریخی نام نشاط ثانیہ یعنی رینیسانس رکھا گیا ہے۔ یہ فرانسیسی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے نیا جنم یعنی ری برتھ۔

گویا یہ کوئی غیر حاصل کی ہوئی چیز نہیں ہے بلکہ یہ یورپ کی اپنی ہی متاع ہے جو اس نے دوبارہ پائی ہے۔ یورپ نے لیتے وقت اگرچہ ان علوم کو مسلمانوں سے لیا تھا مگر اس نے حال کی کڑی کو حذف کر کے اس کا رشتہ ماضی سے ملایا اور اس کو مغرب کے ایک ملک یونان کی چیز قرار دے کر اس کو نشاط ثانیہ کہا۔ اس کے برعکس ہم نے ایسا نہیں کیا۔ حالانکہ یورپ جو چیز ہمیں دے رہا تھا وہ اضافہ شدہ حالت میں وہی سرمایہ تھا جو یورپ کو ہم نے عطا کیا تھا۔

مسلمان مغربی علوم کی طرف خالص تقلیدی ذہن کے ساتھ بڑھے۔ ان کا یہ عمل سر سید کے یہاں پیروی مغرب اور عطا ترک کے یہاں غرب دوغرو کے ہم معنی تھا۔ ذہنیت کے اس فرق کا لازمی نتیجہ یہ ہونا تھا کہ یورپ ہمارے علوم کو سیکھ کر ہمیں شکست دے اور اس کے برعکس ہم مغرب کے علوم کو سیکھ کر صرف مغرب کے بھونڈے نقال بن کر رہ جائیں۔ مصطفی کمال کی تحریک کا آخری نشانہ یہ تھا کہ ترک قوم ہیٹ اور پتلون ہیٹ اور پتلون پہننے لگے۔

اور سر سید کا منتہائے نظریہ تھا کہ مسلم نوجوان مغربی ادبیات میں کمال حاصل کر لیں۔ ظاہر ہے کہ اس طرح کے ذہن کے تحت مغرب کی طرف بڑھنے کا وہی نتیجہ برآمد ہو سکتا تھا جو عملاً برآمد ہوا۔ یہ تاریخ جہاں ایک طرف ہماری غلطی کو بتاتی ہے وہیں اس کے اندر اس کا بھی نشان ہے کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ ہمیں وہی کرنا چاہیے جو مغربی قوموں نے ہمارے ساتھ کیا۔

مغربی علوم کو اس لیے سیکھنا تاکہ اس کے ذریعے مغربی تہذیب کو شکست دے کر اسلام کو غالب کیا جائے۔ اگر ہمارے اندر یہ ذہن پیدا ہو جائے تو وہی نتیجہ برعکس شکل میں ظاہر ہوگا جو مغربی قوموں کے لیے ہمارے مقابلے میں ظاہر ہوا تھا۔ کتاب اسباق تاریخ مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 201۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.