Maulana Wahiduddin Khan
9 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Mazi aur Haal

Urdu · 9 min

ماضی اور حال: اسکاٹ لینڈ کا ایک نوجوان اپنے ملک سے نکل کر 1217 عیسوی میں اسپین آیا۔ اس کا نام مائیکل تھا۔ اس کا مقصد طلیطلہ اور قرطبہ کے عرب علمی مراکز میں تعلیم حاصل کرنا تھا۔ یہاں تک حاصل کرنے کے بعد یہاں تعلیم حاصل کرنے کے بعد اس نے یہ منصوبہ بنایا کہ وہ لاطینی یورپی کو ارسطو سے واقف کرائے۔

یونانی سے ناواقف ہونے کی وجہ سے وہ اصل یونانی متن سے اس کا ترجمہ نہیں کر سکتا تھا۔ چنانچہ اس نے اپنا لاطینی ترجمہ عربی ترجمے کی مدد سے کیا۔ اسپین کے قیام کے دوران وہ عربی زبان بخوبی سیکھ چکا تھا۔ 1231 عیسوی میں سیلر نو سسلی میں پہلا طبی کالج کھولا گیا۔

اس طبی کالج کے نصاب کے لیے ڈنمارک کے ہینڈرنگ یعنی ہینڈرنگ ہارپرسٹین نے 7 جلدوں میں ایک کتاب تیار کی تھی، جو اب بھی اسٹاک ہام کی نیشنل لائبریری میں محفوظ ہے۔ ہینڈریک کا ماخذ بھی مذکورہ مائیکل کا وہی ترجمہ تھا جو اس نے الرازی اور ابن سینا کی طبی کتابوں کا عربی سے لاطینی زبان میں کیا تھا۔ جارج سارٹن نے 5 جلدوں میں سائنس کی تاریخ یعنی ہسٹری آف سائنس لکھی ہے۔ اس نے سائنس کی تاریخ کو چند ادوار پر تقسیم کیا ہے۔

اس کی تقسیم کے مطابق ہر دور نصف صدی پر مشتمل ہوتا ہے۔ ہر نصف صدی کے دور کو وہ ایک مرکزی شخصیت سے متعلق قرار دیتا ہے۔ اس طرح 450-400 قبل مسیح کو سلاٹن افلاطون کا دور قرار دیتا ہے۔ اس کے بعد کے ادوار کو وہ ارسطو، اقلیدس، اور ارشمیدس کا دور کہتا ہے وغیرہ۔

پھر 600 سے لے کر 700 عیسوی تک کے زمانے کو اس نے چینی علماء کا دور قرار دیا ہے۔ اس کے بعد 750 سے لے کر 1100 عیسوی تک اس کی تقسیم کے مطابق مسلسل جابر، خوارزمی، رازی، مسعودی، بیرونی، ابن سینا، ابن الحیثم، اور عمر خیام کا دور ہے۔ عمر خیام کا دور ہے۔ یہ سب کے سب عرب، ترک، افغانی، اور ایرانی مسلمان تھے۔

سارٹن کے نزدیک تاریخ سائنس میں ساڑھے تین سو سال تک بلا انقطاع صرف مسلم سائنسدانوں کا دور رہا ہے۔ جارج سارٹن کی تقسیم کے مطابق 1100 عیسوی کے بعد پہلی بار مغربی اشخاص کا نام سائنس کی دنیا میں آنا شروع ہوتا ہے۔ مثلاً گیراڈ راجر بیکن۔ تاہم اس کے بعد بھی 250 سال تک ابن رشد، نصیر الدین طوسی، اور ابن نفیس کا ذہنی غلبہ یورپ پر قائم رہا۔

ابن نفیس وہ شخص ہے جس نے پہلی بار جسم کے اندر دورانِ خون کا امکان ظاہر کیا تھا۔ بعد کو ہاروے نے اسے دریافت کیا۔ اس طرح گویا سائنس کی تاریخ میں مسلسل 600 سال ایسے ہیں جبکہ مسلمانوں کو دنیا کی علمی قیادت حاصل رہی ہے۔ 1350 کے بعد مسلم دنیا نے اپنا علمی برتری کا مقام کھو دیا۔

تیمور کے پوتے الگ بیگ الگ بیگ کے سمرقند کے دربار میں 1437 میں اور مغل شہنشاہ دہلی کے دربار میں 1720 میں کچھ علمی جھلکیاں دکھائی دیتی ہیں۔ مگر مسلم دنیا کا علمی زوال بدستور جاری رہا۔ اس کے لیے دوبارہ اپنے ماضی کی طرف واپس جانا ممکن نہ ہو سکا۔ موجودہ زمانے میں تاریخ کے پہیے نے الٹے رخ پر سفر شروع کیا ہے۔

پہلے مغرب کے لوگ مسلم دنیا میں علم سیکھنے کے لیے آتے تھے۔ اب مسلمان علم سیکھنے کے لیے مغربی دنیا میں جا رہے ہیں۔ تاہم موجودہ زمانے میں مسلمان مغرب کے تہذیبی مقلد تو بنے ہیں، وہ ان کے علمی ہم ہمسر ابھی تک نہ ہو سکے۔ نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام نے 10 نومبر 1980 عیسوی کو یونیسکو کے زیر انتظام بل گریڈ کے اجتماع میں تقریر کی۔

اس تقریر میں انہوں نے ایک واقعہ بتایا: کسی مغربی سائنسدان سے گفتگو کے دوران انہوں نے شکایت کی کہ مغربی ممالک مسلم ممالک کی سائنسی پسماندگی کو دور کرنے کے لیے کافی مدد نہیں کرتے۔ مغربی سائنسدان نے اس کے جواب میں کہا: "سلام، کیا واقعتاً تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان قوموں کو سنبھالیں، ان کو مدد دیں، انہیں زندہ رکھیں، جنہوں نے انسان کے علمی خزانے میں ایک ذرہ برابر بھی کوئی تخلیق یا اضافہ نہیں کیا ہے؟ " سلام do you really think we have an obligation to سکر add and keep alive those nation who have never created or added an iota to man to man's stock of knowledge ڈاکٹر عبدالسلام اس تلخ حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ میرے دل کو اس وقت شدید جھٹکا لگتا ہے جب میں جدید طرز کے ایک اسپتال میں داخل ہوتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ پینسلین سے لے کر زندگی کو بچانے والے دوسرے طبی سامان جو وہاں ہیں ان میں سے کسی چیز کی دریافت یا ترقی میں مسلمانوں کا کوئی حصہ نہیں۔ جب صورتحال یہ ہو تو ہم کسی طرح یہ امید نہیں کر سکتے کہ دوسروں کی مدد ہمیں جدید دنیا کی ترقی یافتہ قوم بنا سکتی ہے۔

جو قوم دنیا کو کچھ نہ دے رہی ہو اس کو یہ امید بھی نہ کرنی چاہیے کہ دنیا اسے کوئی چیز دے گی۔ مسلم قوموں کے لیے واحد راستہ یہ ہے کہ وہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں خود اپنی کوشش سے آگے بڑھیں۔ عربوں کی بے پناہ دولت بھی اس معاملے میں ذاتی کوشش کا بدل نہیں بن سکتی۔ آج مسلم ممالک بڑے پیمانے پر مشینیں اور ہتھیار مغربی ممالک سے درآمد کر رہے ہیں۔

مگر اس قسم کی مشینی درآمد ان کے اصل مسئلے کا حل نہیں۔ کیونکہ اس سے پہلے فنی بنیاد یعنی ٹیکنیکل بیس کی ضرورت ہے۔ وہ کسی ملک مسلم ملک کے پاس موجود نہیں۔ ایک سائنسدان نے بجا طور پر کہا ہے کہ تمام بنیادی علوم ایک دوسرے سے متعلق علوم ہیں۔

All basic science is relevant science حقیقت یہ ہے کہ تمام علوم میں دستگاہ حاصل کرنے کے بعد ہی کوئی قوم ترقی کر سکتی ہے، نہ کہ محض چند علوم میں۔ کتاب اسباق اسباق تاریخ مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 198.

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.