Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Aql ki Aankh se

Urdu · 5 min

عقل کی آنکھ سے: خطیب بغدادی نے اپنی کتاب "تاریخ بغداد" میں قاضی ابو یوسف کے تذکرے کے ذیل میں لکھا ہے: علی ابن جعد کہتے ہیں کہ امام ابو یوسف نے مجھ کو بتایا: "میرے باپ ابراہیم بن حبیب کا انتقال ہو گیا، میری ماں نے مجھے ایک دھوبی کے یہاں خدمت کے لیے رکھ دیا۔ " میں اکثر دھوبی کو چھوڑ کر امام ابو حنیفہ کے حلقۂ درس میں چلا جاتا اور وہاں حدیث اور فقہ کا علم حاصل کرتا۔ میری ماں کو معلوم ہوتا تو وہ آتی اور میرا ہاتھ پکڑ کر دوبارہ دھوبی کے یہاں پہنچا دیتی۔ جب ایسا قصہ بار بار ہونے لگا تو میری ماں پر شاخ گزرا۔

اس نے امام ابو حنیفہ سے کہا: "اس لڑکے کا بگاڑ صرف تم ہو۔ " یہ ایک یتیم لڑکا ہے، اس کے پاس کچھ نہیں۔ میں چرخہ کاٹ کر اس کو کھلاتی ہوں اور چاہتی ہوں کہ وہ بھی کچھ کمانے لگے۔ امام ابو حنیفہ نے میری ماں سے کہا: "وہ پستے کا فالودہ کھانے والا علم حاصل کر رہا ہے۔

" میری ماں یہ کہتی ہوئی واپس چلی گئی۔ معلوم ہوتا ہے کہ بڑھاپے کی وجہ سے تمہاری عقل جاتی رہی ہے۔ امام ابو یوسف کہتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ نے میری مالی مدد کی اور میں ان کے حلقۂ درس سے براہِ راست برابر علم حاصل کرتا رہا، یہاں تک کہ میں اس قابل ہو گیا کہ عباسی حکومت نے مجھ کو قاضی کے عہدے پر مقرر کیا۔ اب میں خلیفہ ہارون الرشید کی مجلس میں بیٹھنے لگا۔

میں اس کے دسترخوان پر کھانا کھاتا۔ ایک روز دسترخوان پر ہارون رشید کے لیے فالودہ آیا۔ ہارون رشید نے کہا: "اس کو کھاؤ۔ " میں نے پوچھا: "اے امیرالمومنین!

یہ کیا چیز ہے؟ " ہارون رشید نے کہا: "یہ پستے کا فالودہ ہے۔ " یہ سن کر مجھ کو ہنسی آ گئی۔ ہارون رشید نے پوچھا: "تم کیوں ہنسے؟

" پھر میں نے مذکورہ قصہ شروع سے آخر تک بتایا۔ ہارون رشید یہ سن کر اچھمبے میں پڑ گیا۔ اس نے کہا: "میری زندگی کی قسم، علم آدمی کو بلند کرتا ہے اور دین اور دنیا میں اس کو نفع دیتا ہے۔ اللہ ابو حنیفہ پر رحم کرے، وہ اپنی عقل کی آنکھ سے وہ چیز دیکھ لیتے ہیں جس کو وہ اپنے سر کی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے تھے۔

" كَانَ يَنْظُرُ بِعَيْنِ عَقْلِهِ مَا لَا يَرَاهُ بِعَيْنِ رَأْسِهِ البدایہ والنہایہ، جلد 13، صفحہ 616۔ انسان کے چہرے پر اللہ نے دو خوبصورت آنکھیں دی ہیں جن سے وہ تمام چیزوں کو دیکھتا ہے، مگر ان آنکھوں سے جو کچھ نظر آتا ہے وہ صرف ظاہری چیزیں ہیں۔ زیادہ گہری اور زیادہ بامعنی چیزیں دیکھنے کے لیے ایک اور آنکھ کی ضرورت ہے۔ یہ بصیرت یا عقل کی آنکھ ہے۔

جو شخص صرف سر کی آنکھ رکھتا ہو، اس کا دیکھنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص مشین کے اوپر کا ڈھکن دیکھے مگر اندر کے کل پرزوں سے بے خبر رہے۔ ایسا دیکھنا، نہ دیکھنے سے بس برائے نام ہی مختلف ہے۔ بڑھیا کی ظاہری آنکھ نوجوان کا مستقبل صرف دھوبی کی دھوبی کے خدمت گار کی صورت میں دیکھتی تھی، مگر اسی نوجوان کو جب ایک عقل کی آنکھ والے نے دیکھا تو وہ اس کو بادشاہ کے دسترخوان پر بیٹھا ہوا نظر آیا۔ عقل کی آنکھ آدمی کو کس طرح حاصل ہوتی ہے؟

اس کا ایک ہی جواب ہے: یہ صلاحیت آدمی کے اندر اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کہ وہ سر کی آنکھ سے نظر آنے والی چیزوں سے اوپر اٹھ جائے۔ معنوی حقیقتیں ظاہری حقیقتوں سے پرے ہیں۔ اس لیے معنوی حقیقتوں کو وہی شخص پاتا ہے جو ظاہری حقیقتوں سے گزر جائے۔ سامنے کی چیزوں سے نظر ہٹانے کے بعد ہی دور کی چیزیں دکھائی دیتی ہیں۔

اسی طرح گہری باتوں کو آدمی اس وقت پاتا ہے جب کہ وہ اوپری باتوں سے بلند ہو جائے۔ چیزوں کے ظاہری روپ میں گم رہنے والا کبھی چیزوں کو ان کے اندرونی روپ میں نہیں دیکھ سکتا۔ کتاب "اسباق تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 196۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.