تاریخ سبق دیتی ہے: مسلم دنیا پر تاتاریوں کا حملہ 617 ہجری، اسلامی تاریخ کا سب سے زیادہ بھیانک واقعہ تھا۔ عجیب بات ہے کہ یہ حملہ عین اُس زمانے میں ہوا جبکہ مسلمانوں نے یورپ کی صلیبی اقوام پر فتح 587 ہجری حاصل کی تھی، اور شاہِ مصر صلاح الدین ایوبی کے تحت اپنی فوجی برتری کی شاندار روایات قائم کی تھیں۔ صلاح الدین ایوبی کی وفات 589 ہجری کے صرف 25 سال بعد تاتاری قبائل کو کیسے یہ جرات ہوئی کہ وہ مسلم سلطنت پر حملہ کر دیں؟ اس کا راز مسلمانوں کا آپس کا اختلاف تھا۔
اُس زمانے میں بغداد میں خلیفہ ناصر لدین اللہ کی حکومت تھی، خراسان میں خوارزم شاہ حکومت کرتا تھا۔ یہ دو نو مسلمان تھے۔ خوارزم شاہ اگرچہ ایک آزاد حکمران تھا، تاہم آئینی طور پر وہ خلیفہ بغداد کے ماتحت تھا، اور اُس کے ملک میں خلیفہ بغداد کا خطبہ پڑھا جاتا تھا۔ خوارزم شاہ کے ذہن میں بغاوت کے خیالات پیدا ہوئے، اُس نے 615 ہجری میں خلیفہ بغداد کا خطبہ پڑھنا بند کر دیا، اور اپنی سلطنت کو دریائے دجلہ تک وسیع کرنے کے منصوبے بنانے لگا۔
خلیفہ ناصر لدین اللہ اس پر برہم ہو گیا۔ وہ اُس وقت کوئی فوجی کارروائی کرنے کے موقف میں نہ تھا، چنانچہ اُس نے اپنی ہوشیاری کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ اُس کے ہم عصر مؤرخ کامل ابنِ اثیر نے لکھا ہے کہ اُس نے یہ تدبیر کی کہ چین کی سرحد پر بسنے والے تاتاریوں کو خوارزم شاہ کے خلاف اکسا دیا۔ یہ وحشی قبائل چنگیز خان کی قیادت میں اپنے علاقے سے نکلے اور خوارزم شاہ کی سلطنت یعنی خراسان میں گھس آئے۔
خوارزم شاہ نے مقابلے میں شکست کھائی، وہ بھاگ کر قبرستان چلا گیا، جہاں 617 ہجری میں قسم پرسی کی حالت میں مر گیا۔ خراسان اور دوسرے علاقوں پر قبضہ کرنے کے بعد تاتاریوں کا حوصلہ بڑھا۔ اُس کے بعد وہ بغداد کی طرف بڑھے اور خود خلیفہ ناصر لدین اللہ کی سلطنت پر حملہ کر دیا۔ تاتاریوں کو اگرچہ فوری طور پر بغداد پر قبضہ کرنے میں کامیابی نہیں ہوئی، تاہم سلطنتِ بغداد پر تاتاریوں کے مسلسل حملے نے خلیفہ ناصر لدین اللہ کو اتنا پریشان کیا کہ اُس کو سخت خسم کی پیچش ہو گئی، جو مدت تک جاری رہی۔
یہاں تک کہ خلیفہ نہایت کمزور ہو گیا اور اُس کی دونوں آنکھیں جاتی رہیں۔ اسی اندھے پن کی حالت میں 622 ہجری میں اُس کا انتقال ہو گیا۔ دو مسلم قائدین، جو ایک دوسرے کو قبر میں پہنچانا چاہتے تھے، خود قبر میں پہنچ گئے۔ خوارزم شاہ خطبے کی موقوفی کے 2 سال بعد اور ناصر لدین اللہ حملہ کروانے کے 4 سال بعد، کتاب "اسباقِ تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 181۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.