Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Imamat ka Raaz

Urdu · 3 min

امامت کا راز: سسلی ایک یورپی ملک ہے جو میڈیٹرینین سمندر میں واقع ہے اور اٹلی سے ملا ہوا ہے۔ 12ویں صدی عیسوی میں یہاں ایک مسیحی نارمن بادشاہ، راجر دوم، 1101 تا 1154 حکومت کرتا تھا۔ قدیم بادشاہوں، مثلاً سکندر اعظم کی یہ خواہش ہوتی تھی کہ وہ اپنی زیرِ حکومت دنیا کا خاکہ تیار کرا کر اپنے پاس رکھیں۔ شاہ راجر دوم کے دل میں بھی یہ خواہش پیدا ہوئی کہ وہ دنیا کا ایک بڑا نقشہ تیار کرائے، جس میں اس کی اپنی سلطنت کے حدود دکھائے گئے ہوں۔

اس کام کے لیے راجر دوم نے اپنے وقت کے جس ماہر شخص کا انتخاب کیا، وہ ایک مسلمان جغرافیہ دان، الادریسی، تھا۔ اسی مغربی بادشاہ کی خواہش پر الادریسی نے جغرافیہ کے بارے میں اپنی مشہور کتاب تیار کی، جس میں جغرافی معلومات کے ساتھ 70 نقشے شامل تھے۔ الادریسی کی عربی کتاب کا پہلا یورپی ترجمہ روم میں 1619 میں کیا گیا۔ جے ایچ کریمرز نے الادریسی کے مذکورہ جغرافیہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ شاہ راجر دوم نے اپنے وقت کی معلوم دنیا کا تفصیلی خاکہ تیار کرنے کا کام ایک مسلمان عالم کے سپرد کیا۔

اس سے صاف طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ اس زمانے میں مسلمانوں کے علم و فضل کی برتری ایک مسلم حقیقت سمجھی جاتی تھی۔ ہر قسم کے فنی ماہرین مسلمانوں سے لیے جاتے تھے۔ اس زمانے میں مسلمان ساری دنیا میں علم کے میدان میں بڑھے ہوئے تھے: ریاضی، طب، فلسفہ، جغرافیہ، فن تعمیر، فن حرب، تاریخ، اور زبان و ادب۔ ہر چیز میں وہ دنیا کی امامت کر رہے تھے۔

اس واقعے کی ایک شہادت وہ ہے جو زبان کی صورت میں آج بھی موجود ہے۔ یورپ کی زبانوں میں کثرت سے ایسے الفاظ ہیں جن کی اصل عربی ہے۔ مسلمان پچھلے تقریباً 1000 سال تک دنیا کے قائد بنے ہوئے تھے، مگر یہ مقام ان کو مطالبہ اور احتجاج کی سیاست سے نہیں ملا تھا، اور نہ کوڑے اور پھانسی کی سزاؤں کو جاری کر کے وہ اس بلندی تک پہنچ گئے تھے۔ اس کا راز تھا: اہلیت۔

اس کا سبب یہ تھا کہ وہ دنیا کو دینے والے بن گئے تھے، نہ کہ صرف لینے والے۔ کتاب: اسباق تاریخ، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 179۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.