Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Badsha bhi

Urdu · 3 min

بادشاہ بھی۔ روي أن عبد الملك بن مروان خاطب يومًا خطبةً بليغةً ثم قطعها، وبكى بكاءً شديدًا، ثم قال: "يا رب، إن ذنوبي عظيمةٌ، وإن قليل عفوك أعظم منها، اللهم فامحُ بقليل عفوك عظيم الذنوب". فبلغ ذلك الحسن فبكى، وقال: "لو كان كلامٌ يُكتب بالذهب لكُتب هذا الكلام". البداية والنهاية، جلد 12، صفحہ 391۔

یعنی بیان کیا جاتا ہے کہ عبد الملک بن مروان نے ایک روز ایک بلیغ خطبہ دیا، پھر وہ رک گیا اور شدت کے ساتھ رویا۔ اس کے بعد اس نے کہا کہ "اے میرے رب، بے شک میرا گناہ بہت زیادہ ہے، مگر تیری تھوڑی معافی اس سے بھی زیادہ ہے"۔ اے اللہ، اپنی تھوڑی سی معافی سے میرے گناہ، میرے زیادہ گناہ کو مٹا دے۔ یہ بات حضرت حسن بصری کو پہنچی تو اس کو سن کر وہ رو پڑے اور کہا کہ اگر کوئی کلام سونے سے لکھا جاتا تو یقیناً یہ کلام اس قابل تھا کہ اسے سونے سے لکھا جائے۔

عبدالملک ابن مروان، 2385 ہجری، بنو امیہ کا نہایت ذہین اور مدبر خلیفہ تھا۔ حجاج ابن یوسف ثقفی اسی کا عامل تھا جس نے مکے پر چڑھائی کی اور عبداللہ ابن زبیر کو قتل کیا۔ عبدالملک ابن مروان کا شمار تابعین کے گروہ میں ہوتا ہے۔ مذکورہ واقعہ بتاتا ہے کہ قدیم زمانے کے جابر بادشاہ بھی خدا کے خوف سے خالی نہ تھے؛ کسی نہ کسی موڑ پر ان کا جذبہ پھٹ پڑتا تھا۔

مگر موجودہ زمانے میں بے حسی کا یہ عالم ہے کہ دیندار لوگ بھی خوفِ خدا سے خالی ہو گئے ہیں۔ ان کی نمازوں نے ان کے دلوں کو نرم نہیں کیا، ان کے ذکر نے ان کے سینے کو چھلنی نہیں کیا۔ ان کا ایمان وہ ایمان نہیں بنا جو ان کو خدا کے سامنے کھڑا کر دے۔ موجودہ زمانے کے لوگوں پر قرآن کے یہ الفاظ صادق آتے ہیں: "پھر تمہارے دل سخت ہو گئے تو وہ پتھر کی مانند ہیں"۔

یا ان سے بھی زیادہ سخت، اور بعض پتھر تو ایسے ہیں جن سے نہریں پھوٹ نکلتی ہیں، اور بعض ایسے ہیں جو پھٹ پڑتے ہیں، پھر ان سے پانی نکل آتا ہے، اور بعض ایسے ہیں جو خدا کے خوف سے گر پڑتے ہیں۔ اور اللہ اس سے بے خبر نہیں جو تم کرتے ہو۔ سورہ نمبر 2، آیت 74۔ کتاب اسباقِ تاریخ، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 177۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.