یہ بھی ممکن ہے کہ برطانوی فلسفی— راسڈل ہیسٹنگز— 1858-1924 میں لکھا ہے کہ 12ویں صدی عیسوی میں جب ابن رشد کی کتابیں یورپ میں پھیلیں، تو اس کا فلسفہ عیسائیوں کو اپنے حق میں شدید خطرہ محسوس ہونے لگا۔ چنانچہ 1210 عیسوی میں پیرس یونیورسٹی کونسل نے ایک متفقہ فیصلہ کیا، اور اس کے مطابق ارسطو کی "طبیعی تاریخ" اور اس پر لکھی ہوئی ابن رشد کی شرحوں کو تعلیم و تدریس کے لیے ممنوع قرار دے دیا گیا۔ مگر یہ فیصلہ بہت دیر تک باقی نہ رہ سکا؛ کچھ عرصہ بعد یونیورسٹی کے ذمہ داروں کو احساس ہوا کہ انہوں نے ایسا کر کے اپنے طلبہ کو علم کے خزانے سے محروم کر دیا ہے۔ چنانچہ نہ صرف ممنوعہ کتابیں دوبارہ داخلِ نصاب کی گئیں، بلکہ نئے قاعدے کے مطابق یونیورسٹی کے فارغ طلبہ سے یہ حلف لیا جانے لگا کہ وہ صرف ان چیزوں کو اپنی تعلیم و تدریس میں استعمال کریں گے جو ابن رشد کی شرح کے مطابق ارسطو کے خیالات سے ہم آہنگ ہوں۔
رشڈل ہیسٹنگز، "دی یونیورسٹیز آف یورپ ان دا مڈل ایجز"، پیج 368، یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگر آدمی کے اندر کوئی خوبی ہو تو مخالف بھی کس طرح اس کو ماننے پر مجبور ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر کچھ لوگ تعصب یا ضد میں ابتداً آپ کو نہ مانیں، تو اس نہ ماننے کو بھی مستقل نہ سمجھیے؛ اگر فی الواقع آپ کے اندر کوئی قابلِ قدر چیز ہے تو جلد وہ دن آئے گا جبکہ نہ ماننے والے کو اپنے نہ ماننے پر پچھتاوا ہو اور وہ دوبارہ آپ کے اعتراف پر مجبور ہو جائے۔ ابن رشد دنیا میں موجود نہ تھا کہ وہ اپنا دفاع کرے یا اپنے حق کے حصول کے لیے احتجاج و مطالبے کی مہم چلائے؛ تاہم اس کا عمل لوگوں کے سامنے موجود تھا۔ پیرس یونیورسٹی کے ذمہ داروں نے ابن رشد کی تعلیم تو بند کر دی، مگر بہت جلد ان کو احساس ہوا کہ ابن رشد کی کتابوں کا بدل ان کے پاس موجود نہیں ہے۔
ابن رشد، خواہ ان کے لیے ایک غیر مطلوب انسان ہو، مگر اپنی نسلوں کی تعلیم تو بہرحال ان کے لیے ایک مطلوب چیز تھی۔ بالآخر انہیں محسوس ہوا کہ ابن رشد کو چھوڑنا صرف اس قیمت پر ممکن ہے کہ خود اپنی نسلوں کی تعلیم ناقص رہ جائے۔ وہ ابن رشد کو نظرانداز کر سکتے تھے، مگر اپنے آپ کو نظرانداز کرنا ان کے لیے ممکن نہ تھا۔ چنانچہ انہوں نے ابن رشد کی کتابوں کو دوبارہ اختیار کر لیا۔
کوئی شخص اگر یہ حیثیت حاصل کر لے کہ وہ دوسروں کی ضرورت بن جائے، تو دوسرے اس کو نظرانداز نہیں کر سکتے، خواہ یہ دوسرے اس کے حریف کیوں نہ ہوں۔ کتاب "اسباقِ تاریخ"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 176۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.